وارسا عمل: پرانے مسائل کے نئے حل

World leaders standing on a stage (© Michael Sohn/AP Images)
مشرق وسطی میں امن و سلامتی کے وزارتی اجلاس کے لیے دنیا کے رہنما وارسا میں اکٹھے ہوئے۔ (© Michael Sohn/AP Images)

حالانکہ مشرق وسطی کے ممالک پر ایران جبری طور پر اپنا تصور مسلط کررہا ہے مگر پھر بھی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے خطے کی امن و سلامتی کے فروغ کے لیے کثیرالمملکتی منصوبے کے اگلے مرحلے کا خاکہ پیش کیا ہے۔

80 سے زائد ممالک کو وارسا عمل میں شرکت کی دعوت دی جا چکی ہے۔ وارسا عمل امریکہ اور پولینڈ کی مشترکہ قیادت میں مشرق وسطی کے امن و سلامتی کے موجودہ خطرات اور طویل مدتی تزویراتی مسائل سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی ایک کوشش ہے۔

وزیر خارجہ نے 20 اگست کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا، “الیپو سے عدن اور تریپولی سے تہران تک، ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ تعاون درکار ہے۔ ہمیں پرانے مسائل حل کرنے کے لیے نئی سوچ کی ضرورت ہے۔”

ایک ایسے وقت میں جب ایران کے علاقائی تصور میں بین الاقوامی پانیوں کو خطرناک بنانا اور جوہری معاہدوں کو توڑنا شامل ہیں،  مشرق وسطی کے ممالک کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے “وارسا عمل” کے نام سے اٹھایا جانے والا قدم ایک مثبت پیشرفت ہے۔ پومپیو نے کہا کہ ایران اِن خطرات میں سے ایک خطرہ ہے مگر ” اِن مباحثوں کا موضوع کوئی ایک ملک نہیں ہوگا۔”

وارسا عمل کے ورکنگ گروپ مشترکہ تزویراتی ترجیحات طے کرنے کے لیے اکتوبر میں ملاقاتوں کے سلسلے کا آغاز کریں گے۔ اس عمل میں شریک ممالک مندرجہ ذیل گروپوں کی میزبانی کریں گے:

  • جمہوریہ کوریا 7 اور 8 اکتوبر کو سائبر سکیورٹی کے ورکنگ گروپ کی میزبانی کرے گا۔
  • امریکہ 10 اور 11 اکتوبر کو انسانی حقوق کے ورکنگ گروپ کی میزبانی کرے گا۔
  • سلطنتِ بحرین 21 اور 22 اکتوبر کو سمندری جہاز رانی اور ہوابازی کے ورکنگ گروپ کی میزبانی کرے گا۔
  • جمہوریہ پولینڈ 24 اور 25 اکتوبر کو توانائی سلامتی کے ورکنگ گروپ کی میزبانی کرے گا۔
  • رومانیہ 14 اور 15 نومبر کو میزائلوں کے پھیلاؤ کے ورکنگ گروپ کی میزبانی کرے گا۔

پومپیو نے کہا، “تمام ممالک کی باتیں سنی جائیں گیں اور سب کے نقطہائے نظر کا احترام کیا جائے گا۔”

انسانی مسائل اور پناہ گزینوں کے باقی ماندہ دو ورکنگ گروپوں کی تاریخوں اور میزبان ممالک کا جلد ہی اعلان کر دیا جائے گا۔