وبا کے خاتمے کے منتظر ناسا کے زیر تربیت طلبا کا تحقیق کا کام جاری

منہ پر ماسک پہنے ایک عورت نے ہاتھ میں ڈبہ پکڑا ہوا ہے (NASA/Courtesy of Gabriela Vidad)
ناسا میں تریبیت حاصل کرنے والی گیبریلا ویڈاڈ نے نیویارک کی ایڈلفی یونیورسٹی سے گریجوایشن کی ہوئی ہے۔ اپنے گھر کے قریب وہ ہوا کا نمونہ اکٹھا کر رہی ہیں۔ (NASA/Courtesy of Gabriela Vidad)

ہوابازی اور خلا کے قومی ادارے (ناسا) کے موسم گرما کے پروگرام کے لیے منتخب کیے جانے والے طلبا عالمی وبا کووڈ-19 کے نتیجے میں پروازوں کے منصوبوں کی منسوخی کی وجہ سے زمین پر تحقیق کا کام کر رہے ہیں۔

ناسا امریکی حکومت کے سویلین خلائی پروگرام کا ذمہ دار ہے اور  ‘ طلبا کے فضائی تحقیق کے پروگرام’ ( ایس اے آر پی) کے لیے ہر سال کالج کے درجنوں طلبا کو منتخب کرتا ہے۔ اس پروگرام کا آغاز 2009ء میں ہوا تھا۔ گرمیوں کے زیادہ تر پروگراموں کا انعقاد یونیورسٹی آف کیلی فورنیا، اِروِن میں ہوتا ہے اور اِن پروگراموں میں تحقیقی طیاروں پر پروازیں بھی شامل ہوتی ہیں۔

ناسا نے 7 مئی کو ایک بیان میں کہا، "اس برس کووڈ-19 کی سفری اور سماجی فاصلے کی پابندیوں کی وجہ سے شاید ایس اے آر پی کی پروازیں نہیں اڑائی جا سکیں گیں۔ تاہم تربیت کا پروگرام جاری رہے گا۔”

ماضی میں خلابازوں کو چاند پر بھیجنے اور اب مریخ پر تحقیق کے لیے کی جانے والی تیاریوں کی وجہ سے مشہور، ناسا کا ادارہ دریافت کے اپنے مشنوں کے ذریعے انسانیت کے فائدے کے لیے علم پھیلانے کی کوششیں کرتا ہے۔

فضائی تحقیق کے پروگرام کے لیے منتخب کیے جانے والے 28 طلبا اپنے گھروں سے کام کر رہے ہیں۔ اس دوران ناسا کے سائنسدان بھی اُن کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

اپریل میں ناسا نے پورے امریکہ میں اس پروگرام کے تحت تربیت حاصل کرنے والے طالب علموں کو مخروطی شکل کے ہوا کو بند کرنے والے مجموعی طور پر 1,000 دھاتی ڈبے بھیجے۔ ہر طالبعلم کو بھیجے جانے والے 24 ڈبوں میں انہیں اپنی ریاستوں میں کووڈ-19 کی وجہ سے گھروں میں بند ہونے کے ہر ایک مرحلے پر ہوا کے نمونے اکٹھے کرنے کو کہا گیا۔

تربیت حاصل کرنے والے ان طالبعلموں نے اپنی اپنی ریاستوں میں اُس وقت ہوا کے نمونے اکٹھے کیے جب آلودگی کے اخراج کم ترین سظح پر تھے کیونکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو گھروں میں بند رہنے کا پابند کیا گیا تھا اور دوبارہ اس وقت اکٹھے کیے جب یہ پابندی اٹھا لی گئی تھی۔ زیرتربیت طالبعلموں نے ہوا میں موجود لگ بھگ 100 مرکبات کے تجزیے کے لیے نمونوں کو واپس یونیورسٹی آف کیلی فورنیا، اِروِن بھجوایا۔

طالبعلم، قرنطینہ کے ختم ہونے کے بعد انسانی سرگرمیوں میں اضافے کی وجہ سے اخراجوں میں آنے والی تبدیلیوں پر نظر رکھنے کے لیے ناسا کے سائنسدانوں کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ وہ 2020ء میں اکٹھے کیے گئے نمونوں کا ایس اے آر پی کے سابقہ طلبا کے جمع کیے گئے نمونوں کے ساتھ  موازنہ کر سکتے ہیں۔

ہوا کے نمونوں سے پتہ چلے گا کہ کووڈ-19 کی وسیع پیمانے پر پھیلنے والی وبا کے دوران انسانی سرگرمیوں میں آنے والی تبدیلیاں ہوا کی آلودگی کی سطحوں کو کس طرح متاثر کر رہی ہیں۔