داعش کو شکست دینے کے لیے 68 ممالک کے اتحاد سے ٹِلرسن کا خطاب

12

وزیرخارجہ ریکس ٹِلرسن نے اپنے مندرجہ ذیل خیالات کا اظہار داعش/آئی ایس آئی ایس کے خلاف عالمی اتحاد  کے 22 مارچ کو واشنگٹن میں منعقدہ اجلاس میں کیا۔

وزیر خارجہ ٹِلرسن: صبح بخیر، اور آئی ایس آئی ایس/داعش کا مقابلہ کرنے کی وزارتی کانفرنس میں شرکت کرنے کے لیے واشنگٹن تشریف لانے کا آپ سب کا شکریہ۔ بلا شبہ اتنی بڑی تعداد میں یہاں موجود لوگوں کو دیکھنا ایک حوصلہ افزا بات ہے۔  جب آئی ایس آئی ایس کی قوتیں اپنے ٹی وی لگائیں گی اور کمپیوٹروں کی سکرینیں دیکھیں گی تو اُنہیں 68 اقوام اور تنظیموں کی متحدہ قوت نظر آئے گی۔ ہم سب، آئی ایس آئی ایس یا داعش کو ایک پائیدار شکست سے دوچار کرنے کے عزم مصمم میں شریک ہیں۔ ہمارا اتحاد آئی ایس آئی ایس کے احیاء کو روکنے، اس کے عالمی عزائم کو ختم کرنے اور اس کے نظریاتی بیانیے کو باطل ثابت کرنے میں متحد ہیں۔ ہم اس لڑائی میں زیادہ طاقتور بننے اور جارحانہ انداز جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے اپنے حالیہ خطاب میں یہ بات واضح کی تھی کہ اس سفاک تنظیم کو ختم کرنا اور تباہ کرنا امریکہ کی پالیسی ہے۔ ہم یہی کچھ کرنے جا رہے ہیں۔

یہاں پر موجود بہت سے حاضرین ایسی اقوام کی نمائندگی کرتے ہیں جن کے ممالک کو آئی ایس آئی ایس کے قتل عام کا براہ راست علم ہے۔ درحقیقت، آج برسلز کے حملوں میں 32 بیگناہ لوگوں کو ہلاک اور 300 کو زخمی کرنے کو ایک سال ہوگیا ہے۔ بلجیم کے وزیرخارجہ اپنے ملک کے اس سوگوار دن کو اپنے وطن میں منا رہے ہیں، تاہم ہم اپنے اتحادی، بلجیم کے سفیر کے ہمارے ساتھ شامل ہونے کے لیے مشکور ہیں۔

برسلز میں ہونے والے حملے کے اسی مہینے میں، کرکوک کے نواح میں واقع  تعزہ میں آئی ایس آئی ایس کے کیمیائی ہتھیاروں کے ایک حملے میں ایک بچہ ہلاک اور 600 عراقی زخمی ہوئے تھے۔ آئی ایس آئی ایس نے پیرس اور استنبول کی گلیوں میں وحشت ناک حملے کیے۔ اِن  حملوں کی منصوبہ بندی داعش کے ہیڈکوارٹر، رقہ میں کی گئی تھی۔ امریکہ کو بھی آئی ایس آئی ایس سے متاثر ہو کر سوشل میڈیا پر کیے جانے والے حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اِس عمل کا مقابلہ کرنے پر ہم کام کر رہے ہیں اور یہ ہمارے درمیان آج ہونے والی بحث کا ایک بڑا موضوع  ہوگا۔

ایسے میں جب ہم آئی ایس آئی ایس کی نفرت کا شکار ہونے والوں کی یاد اور سوگ منا رہے ہیں، آئیے ہم سب مل کر فتح کے ساتھ  اپنی غیرمتزلزل لگن کا اظہار کر کے اُن کی تکریم کریں۔ ہم جو آج  یہاں اکٹھے ہوئے ہیں اِن میں ایک عظیم قدرِ مشترک، عزم  ہے اور میں لفظ "عزم" پر زور دے رہا ہوں۔  ہمارے مشن کی کامیابی کا انحصار اس دہشت گرد تنظیم کو شکست دینے کے ہمارے اعلان کردہ مقصد کے ساتھ مسلسل لگاؤ پر ہے۔

اِس اجلاس سے قبل ہم نے انسانی بنیادوں پر دی جانے والی امداد، استحکام، اور عراق اور شام میں آزاد  کرائے گئے علاقوں سے  بارودی سرنگوں کی صفائی کی ضروریات کے لیے سال 2017 میں دو ارب ڈالر کی رقم کی نشاندہی کی تھی۔ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ڈالر میں دی جانے والی رقم کے وعدے مطلوبہ ٹوٹل سے بڑھ  چکے ہیں۔ آئیے ہم اپنے وعدے پورے کریں تا کہ ہم اس سال کی باقیماندہ مدت میں اپنی کاروائیاں جاری رکھنے کے لیے تیزی سے پیسے مہیا کر سکیں۔

گزشتہ ایک سال یا اس سے زیادہ  عرصے  پرغور کیا جائے تو بحیثیت اتحاد کے ہم جو پیشرفت کر رہے ہیں اُس سے ہماری حوصلہ افزائی ہونا چاہیے۔ حالیہ بامعنی مالی عطیات کے علاوہ،  گزرنے والے سال کے دوران شام اور عراق میں غیر ملکی جنگجووں کے بہاؤ میں 90 فیصد کمی آئی ہے۔ دہشت گردوں کے لیے داخل ہونا مزید مشکل، اور زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اُن کے لیے ہمارے ملکوں کو خطرے سے دوچار کرنے کے لیے باہر نکلنا مشکل تر ہو گیا ہے۔

ترکی نے 'آپریشن یوفریٹس شیلڈ' کے تحت آئی ایس آئی ایس کو ترکی اور شام کی سرحد سے دور دھکیل دیا ہے۔ یہ ساری سرحد اب آئی ایس آئی ایس کی پہنچ سے باہر ہے اور ہم اس امر کو یقینی بنائیں گے کہ یہ اسی طرح رہے۔ برسلز، پیرس اور دیگر مقامات پر حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والوں سمیت، ابوبکرالبغدادی کے تقریباً سب نائبین اب ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ بغدادی کا اب خود بھی اسی انجام سے دوچار ہونا، صرف وقت کا معاملہ رہ گیا ہے۔

مِسراتہ سے تعلق رکھنے والے لیبیا کی قومی اتفاق رائے کی حکومت کے اتحادی جنگجووں نے آئی ایس آئی ایس کو سِرتے سے مار بھگایا ہے اور آئی ایس آئی ایس کو عراق اور شام  سے باہر اس کے واحد علاقے سے محروم کردیا ہے۔  ہمیں آج لیبیا کی حکومت کے نمائندوں کو اپنے درمیان پا کر خوشی محسوس ہو رہی ہے۔

عراق اور شام میں موجود  ہمارے شراکت کاروں  نے آئی ایس آئی ایس سے 50,000 مربع کلومیٹر علاقہ آزاد کرا لیا ہے جس سے شہروں، دیہاتوں اور قصبوں کے تقریباً 25 لاکھ  لوگ آزاد ہو گئے ہیں۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ اس سارے علاقے کی آزادی برقرار چلی آ رہی  ہے۔ آئی ایس آئی ایس کوئی علاقہ واپس نہیں لے سکی۔

سترہ اتحادی اراکین آئی ایس آئی ایس کے پراپیگنڈے کا توڑ کرنے اور اُس کی آن لائن موجودگی پر حملہ کرنے کے لیے پانچ زبانوں میں مواد تیار کر رہے ہیں۔ اِن کاوشوں کے نتیجے میں ایک سال میں انٹرنیٹ پر موجود آئی ایس آئی ایس کے مواد میں 75 فیصد کمی آئی ہے اور آئی ایس آئی ایس سے متعلقہ 475,000 ٹوئٹر اکاؤنٹ ختم کر دیئے گئے ہیں۔

عراق کے ایسے علاقوں میں جو آئی ایس آئی ایس کے زیرِ قبضہ چلے آ رہے تھے، اب تک 15 لاکھ عراقی اپنے گھروں کو واپس آ چکے ہیں۔ نقل مکانی کا یہ بہاؤ اب اُلٹ سمت میں چل پڑا ہے اور ہمیں اِس رجحان کے جاری رہنے کو ہرگز یقینی بنانا ہوگا۔ اردن، ترکی، اور لبنان جیسے لڑائی کے قریب ترین ہمسایہ ممالک نے لاکھوں پناہ گزینوں کو اپنے ہاں قبول کرنے سمیت، پناہ گزینوں کے علاقائی بحران کے جواب میں انسانی بنیادوں پر ایک وسیع پیمانے کے ردعمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ ممالک اِن میں بہت سے پناہ گزینوں کو اپنی معمول کی قومی زندگی میں ضم کرنے پر کام کر رہے ہیں۔

ہمیں خاص طور پر جمہوریہ عراق کی تحسین کرنا چاہیے۔ وزیراعظم عبادی نے جو میرے ساتھ سٹیج پر تشریف فرما ہیں، عزم اور جرات کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ اکثر اپنے فوجیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے اگلے مورچوں  کا دورہ کرتے ہیں اور جنگی معرکوں کے بعد لوگوں کے خیال رکھے جانے کو یقینی بناتے ہیں۔ عراق کے مستقبل کے تصور کے پیچھے، اُن کی استحکام اور مشمولہ حکمرانی کی خواہش کار فرما رہتی ہے۔

عراق کے زیرِقیادت موصل پر دوبارہ قبضہ کرنے کے لیے جاری لڑائی، آئی ایس آئی ایس کو ایک مضبوط  کلیدی گڑھ سے باہر دھکیل رہی ہے اور دس لاکھ سے زیادہ لوگوں کو آزاد کرا رہی ہے۔ عراقی فوجی، جن میں سے بہت سے ہمارے اتحاد کے تربیت یافتہ ہیں، بہادری کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور اپنے فوجی منصوبوں میں عام شہریوں کی حفاظت کو اولیت دے رہے ہیں۔

موصل کی یہ مہم عراقی سکیورٹی فورسز اور کرد پیشمرگہ کے درمیان تعاون کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی تھی۔ مجھے کردستان کی علاقائی حکومت کے ایک نمائندے، فواد حسین صاحب کو آج یہاں وزیراعظم عبادی کے ساتھ  دیکھ کر خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ عراقی عوام اور اُن کے رہنماؤں کے درمیان یہی قریبی تعاون ہے جو آئی ایس آئی ایس کی قطعی شکست میں تیزی پیدا کررہا ہے اور یہ یقینی بنا رہا ہے کہ یہ عراق میں دوبارہ نہ آ سکے۔

عراق اور شام میں سخت لڑائیوں کے بعد حاصل ہونے والی فتوحات نے حالات کی رفتار ہمارے اتحاد کے حق میں کر دی ہے لیکن ہمیں ہر صورت میں اپنی کوششوں کی شدت کو بڑہانا اور آئی ایس آئی ایس سے مقابلے کے اگلے مرحلے میں اپنے کامیابیوں کو مستحکم کرنا چاہیے۔ آئی ایس آئی ایس کو رسوا  کرنا ہمارا آخری مقصد نہیں ہے۔ ہمیں آئی ایس آئی ایس کو ہرگز شکست دینا چاہیے۔ میں اس بات کو سمجھتا ہوں کہ مشرق وسطٰی میں بہت سارے اہم اولین مقاصد ہیں لیکن آئی ایس آئی ایس کی شکست خطے میں امریکہ کا نمبر ایک مقصد ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ جب ہرچیز ترجیح بن جائے تو پھرکوئی ترجیح نہیں رہتی۔ ہمیں درپیش سب سے اہم ترین معاملے پر توجہ مرکوز کرنا ہرصورت جاری رکھنا چاہیے۔

فی الحال ہم ابھی تک ایک ایسے مرحلے میں ہیں جس کی خصوصیت بڑی فوجی کاروائیاں ہیں۔ آئی ایس آئی ایس کے پھیلاؤ نے ایک بڑے پیمانے کے فوجی ردعمل کو ناگزیر بنا دیا ہے اور ہمارے جارحانہ اقدامات کی وجہ سے عراق اور شام کے ایسے علاقے واپس لیے جا رہے ہیں جہاں آئی ایس آئی ایس کا ایک بڑا اور تباہ کن وجود تھا۔ اس مرحلے میں ہمارا حتمی مقصد فوجی طاقت کے ذریعے آئی ایس آئی ایس کا علاقائی خاتمہ ہے۔ آئی ایس آئی ایس کے ظلم سے مکمل خلاصی کے لیے حالات پیدا کرنے کی غرض سے اتحاد کی فوجی قوت وہاں موجود رہے گی جہاں یہ دھوکہ باز خلافت قائم کی گئی تھی۔ صدر ٹرمپ کے  زیرِقیادت اور اِس تاریخی اتحاد کی طاقت کے ساتھ، ہمارا مشترکہ دشمن شدید دباؤ میں رہے گا۔

عنقریب عراق اور شام  میں ہماری کوششیں ایک ایسے نئے مرحلے میں داخل ہو جائیں گی جس کا مقصد بڑی فوجی کاروائیوں سے استحکام کی طرف منتقلی ہوگا۔ استحکام کے اس مرحلے کی جانب منتقلی میں، ہمارا اتحاد بارودی سرنگیں صاف کرنا اور پانی اور بجلی بحال کرنا جاری رکھے گا کیونکہ یہی وہ بنیادی عناصر ہیں جو لوگوں کو اپنے گھروں کو لوٹنے کے قابل بناتے ہیں۔ ہم اُن بنیادی سیاسی اور فرقہ وارانہ  تنازعات کے سفارتی حلوں پر کام کرتے رہیں گے جن کی وجہ سے آئی ایس آئی ایس کو پھلنے پھولنے میں مدد ملی۔ اتحاد اور مستقبل کے شراکت کار متاثرہ کمیونٹیوں کو اُن کی ضرورت کے مطابق، انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کرنا جاری رکھیں گے۔

ہم اقوام متحدہ کے زیرانتظام فوری استحکام کے لیے پیسوں کی سہولت کو سراہتے ہیں جس سے صرف انبار صوبے میں عراق کو پانچ لاکھ سے زائد  بےگھر افراد کو اُن کے گھروں میں واپس لانے میں مدد ملی۔ پولیس کی تربیت کے لیے اتحاد کی مسلسل حمایت اہم ہو گی۔ اسی طرح بارودی سرنگوں کی صفائی اور مضر موادوں کو ہٹانے کے لیے بھی اتحاد کی مدد درکار ہوگی۔

ہم لوگوں کی اُن کے گھروں کو واپسی کو آسان بنانا جاری رکھیں گے اور مقامی سیاسی قیادت کے ساتھ مل کر  کام کریں گے۔ وہ مستحکم اور منصفانہ حکمرانی فراہم کریں گے، بنیادی ڈھانچے کی تعمیرِنو کریں گے اور ضروری خدمات مہیا کریں گے۔ ہم مقامی قیادت اور اتحاد کے شراکت داروں کے درمیان بات چیت کے ذرائع میں سہولت پیدا کرنے کی خاطر موقعے پر اپنی سفارتی موجودگی کو استعمال کریں گے۔ یہ اقدامات عراق میں بخوبی کام کر رہے ہیں اور شام کے مخصوس چیلنجوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم اسی سوچ  پر کام کر رہے ہیں۔ ایسے میں جب شام میں ایک زیادہ واضح راہِ عمل متعین کی جا رہی ہے، میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ امریکہ آئی ایس آئی ایس اور القاعدہ پر اپنا دباؤ بڑہائے گا اور پناہ گزینوں کی اپنے گھروں کو واپسی کوممکن بنانے کی خاطر فائربندیوں کے ذریعے مستحکم عبوری زون قائم کرنے پر کام کرے گا۔

ایک اتحاد کی حیثیت سے ہمارا کام کسی قوم کی تعمیر یا تعمیرِنو کرنا نہیں ہے۔ ہمیں ہرگز یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ہماری متعلقہ اقوام کے بیش قیمت اور محدود وسائل، آئی ایس آئی ایس کے دوبارہ ابھرنے  کو روکنے کے ساتھ ساتھ جنگ زدہ کمیونٹیوں کو اپنے اداروں کی تعمیرِنو میں قیادت کرنے اور استحکام کی طرف واپس جانے کے لیے وسائل فراہم کرنے کے لیے وقف ہوں۔

ایک کامیاب استحکامی مدت لاکھوں لوگوں کی روزمرہ  کی زندگی میں بہتری لے کر آئے گی۔ آج مشرقی موصل میں استحکامی منصوبوں کے تحت ملبے کی صفائی، بارودی سرنگوں کی صفائی، پانی اور بجلی کی سہولتوں کی بحالی جاری ہے اور تقریباً 30,000 لڑکے اور لڑکیاں سکولوں میں واپس آ چکے ہیں۔ وزیراعظم عبادی کی قیادت میں مرکزی حکومت کے تعاون سے، اِن کوششوں کی قیادت مقامی عراقی کر رہے ہیں۔

ایک کامیاب استحکامی مرحلہ، حالات کی معمول کی طرف واپسی کے مرحلے کے لیے سازگار ماحول  پیدا کرے گا۔ آئی ایس آئی ایس کے خاتمے کے بعد استحکامی مرحلے میں، ہماری مدد کے ساتھ مقامی لیڈر اور مقامی حکومتیں اپنی کمیونٹیوں کی بحالی کی ذمہ داریاں سنبھال لیں گی۔ اِن جگہوں پر دوبارہ توانا شدہ سول سوسائٹی  کی ترقی کا نتیجہ آئی ایس آئی ایس کی غیرمقبولیت اور ایک ایسی جگہ پر استحکام اور امن کی بحالی کی صورت میں نکلے گا جہاں کبھی افراتفری اور مصائب ہوا کرتے تھے۔

لیکن ان میں سے کوئی بھی کام خود بخود نہیں ہوگا۔ ہم سب کو اس کوشش کی حمایت کرنے کی ضرورت ہے۔ آج کی تاریخ تک، امریکہ اپنے مقامی شراکت داروں کو آئی ایس آئی ایس کے خلاف اُن کی جنگ میں، 75 فیصد فوجی وسائل مہیا کرتا ہے۔ انسانی بنیادوں پر مہیا کی جانے والی اور استحکامی امداد میں یہ تناسب الٹ ہے۔ اس ضمن میں امریکہ 25 فیصد اور بقیہ اتحاد 75 فیصد امداد فراہم کرتا ہے۔

امریکہ اپنے حصے کا کام کرے گا لیکن زمینی حالات آپ سب سے مزید کام کرنے کا تقاضا کرتے ہیں۔ میرا ہر ایک ملک سے یہ کہنا ہے کہ وہ جائزہ لے کہ وہ اِن اہم استحکامی کوششوں میں کس طرح بہترین طریقے سے مدد کر سکتا ہے اور بالخصوص فوجی اور مالی وسائل میں حصہ ڈالنے کے حوالے سے۔

ایسے میں جب ہم آئی ایس آئی ایس کی عراق اور شام میں پھیلی ہوئی جغرافیائی خلافتوں کے علاقوں میں استحکام لا رہے ہیں تو ہمارے لیے یہ بھی لازم ہے کہ ہم کہیں اور اُن کے نفرت کے بیجوں کو جڑیں پکڑنے سے روکیں۔ عراق اور شام میں علاقے کے چھن جانے نے آئی ایس آئی ایس کو اپنی موجودہ شاخوں کو پھیلانے اور دنیا بھر کے ممالک میں کاروائیوں کے اپنے نئے اڈوں کی تعمیر پر مجبور کردیا ہے۔  پہلے ہی ہم بحرالکاہل کے کنارے سے لے کر وسطی ایشیا اور جنوبی امریکہ تک آئی ایس آئی ایس سے جڑے سیل دیکھ رہے ہیں۔ ابھی اسی مہینے میں اُس وقت درجنوں لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے جب آئی ایس آئی ایس کے ارکان نے ڈاکٹروں کے بھیس میں کابل، افغانستان میں ایک ہسپتال پر حملہ کیا۔

ہم جانتے ہیں کہ فوجی طاقت میدان جنگ میں آئی ایس آئی ایس کو روکے گی مگر یہ ہمارے اتحاد کی مشترکہ قوت ہی ہوگی جو آئی ایس آئی ایس کے لیے آخری دھچکا ثابت ہوگی۔ کسی عالمی وباء سے آگے رہنے کی خاطر، ہمارے لیے اس کے خلاف مندرجہ ذیل اقدامات اٹھانا ضروری ہیں: پہلے، اندرون ملک  انسداد  دہشت گردی اور قانون کے نفاذ کی کاروائیوں میں ثابت قدم رہنا جاری رکھیں۔ ہم سب کو اپنے ملکوں کے اندر آئی ایس آئی ایس کے نیٹ ورکوں پر دباؤ برقرار رکھنا چاہیے اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کی خاطر نفاذِ قانون کا فیصلہ کن قدم اٹھانا چاہیے۔ آئی ایس آئی ایس ہر براعظم سے جڑی ہوئی ہے اور ہمیں اس کی زنجیرکی ہر کڑی کو توڑنا چاہیے۔ انٹرپول ہمارے اتحاد کی تازہ ترین رکن ہے اور یہ اُن تمام راستوں کو بند کرنے کے لیے انتہائی اہم ہے جن سے آئی ایس آئی ایس کے دہشت گرد ہمارے ملکوں کا سفر کرنے اور ان کے لیے خطرہ بننے کی کوشش کرتے ہیں۔

دوسرے، ہمیں اپنی مقامی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اندر اور اپنے ممالک کے مابین زیادہ انٹیلی جنس اور معلومات کا تبادلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک اتحاد کی حیثیت سے معلومات کے ہمارے تبادلے نے حملوں کی ایک بڑی تعداد کو روکا ہے اور اسے محکمہ جاتی یا بین الاقوامی رقابتوں سے قطع نظر ہر صورت پھیلنا اور تیز تر ہونا چاہیے۔ اس کی ایک مثال مغربی افریقہ کی اقوام ہیں جنہوں نے بوکو حرام کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے اختلاف پس پشت ڈال دیئے ہیں۔ آئیے اس اچھی مثال کوآگے بڑہائیں۔

ہمیں اس دشمن کی نظریاتی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جو کچھ یہ ہے اسے دیکھنا چاہیے: یعنی اسلام کی مسخ شدہ ایک  ایسی تشریح جو ہم سب لوگوں کے لیے خطرہ ہے۔ جیسا کہ اردن کے جلالتہ ملک، شاہ عبداللہ دوئم نے حال ہی میں کہا ہے، اور میں اُن کے الفاظ  بیان کرتا ہوں، "ہر وہ چیز جو وہ ہیں، ہر وہ کام جو وہ کرتے ہیں، میرے ایمان کی… صریح خلاف ورزی ہے۔"  آئی ایس آئی ایس کے سبھی جنگجووں کا تعلق غریب یا پسماندہ کمیونٹیوں سے نہیں ہوتا۔ بہت سوں کا تعلق درمیانے یا حتٰی کہ اونچے طبقے کے پس منظر کے حامل خاندانوں سے ہوتا ہے اور وہ ایک ایسے بنیاد پرست اور جھوٹے نظریاتی تصور کی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں جس کی بنیاد قرآن پر ہونے کا دعوٰی کیا جاتا ہے۔ اُن کے ہم عقیدہ مسلمان شراکت داروں اور رہنماؤں کو اس گمراہ کن نظریاتی پیغام کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ ہم شکرگزار ہیں کہ بہت سوں نے اس ذمہ داری کو قبول کیا ہے اور بہت سے اسے قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔

آخر میں، بہت سے ملکوں میں موقعے پر ہماری جارحانہ مخالفت کے بعد  ہمیں آئی ایس آئی ایس کی اپنا پیغام پھیلانے اور آن لائن نئے پیروکاروں کو بھرتی کرنے کی اہلیت کو ہر صورت میں ختم کرنا چاہیے۔

جغرافیائی خلافت کی جگہ ایک "ڈیجیٹل خلافت" کو ہر گز نہیں پھلنا پھولنا چاہیے۔

جیسا کہ ہم نے نیس، برلن، اورلینڈو اور سین برنیڈینو کے حملوں میں دیکھا ہے کہ کسی نئے بھرتی کیے گئے شخص کو اپنے تئیں ایک بنیاد پرست حملہ آور میں تبدیل کرنے کے لیے،آئی ایس آئی ایس کا بہترین ہتھیار انٹرنیٹ ہے۔ کیونکہ ایک جنگجو کی حیثیت سے عراق اور شام کا سفر کرنا زیادہ مشکل ہو گیا ہے اس لیے آئی ایس آئی ایس کا یہ نعرہ بن گیا ہے، اور میں اس کا حوالہ دیتا ہوں، "آپ جہاں ہیں وہیں رہیں… آپ جہاں کہیں بھی رہتے ہیں داعش کے نام سے جنگ جاری رکھیں۔"

دنیا بھر میں آئی ایس آئی ایس کے سرغنے مستقبل کے کسی دہشت گرد کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنا سارا وقت [کمپیوٹر کے] کی بورڈوں پر صرف کرتے ہیں اور ایک منظم طریقے سے کسی نئے بھرتی ہونے والے کی مقامی نیٹ ورک بنانے یا اپنے ملکوں پر حملے کرنے کی پراگندہ خواہش کو  پروان چڑہاتے ہیں۔

ہم پیشرفت کر رہے ہیں مگر ہمیں اِس خطرے سے نمٹنے کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اتحاد کے جوابی پیغام رسانی کے متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور ملائشیا میں دن رات کام کرنے والے ہمارے مراکز کا اثر ظاہر ہو رہا ہے اور اس قسم کی کوششوں کی دیگر ممالک میں بھی نقل کی جانی چاہیے اور انہیں پھیلانا چاہیے۔

جوابی پیغام رسانی کی کوششوں کو انٹرنیٹ کے میدان اور اُن ملکوں میں موقعے پر جاری رکھا جانا چاہیے جہاں مذہبی رہنماؤں کو بنیاد پرستی کے خلاف آواز اٹھانے کے مواقعے میسر ہیں۔ ہمارے مسلمان شراکت داروں، بالخصوص سعودی عرب اور مصر کو، آئی ایس آئی ایس کے پیغام اور دیگر بنیاد پرست اسلامی دہشت گرد گروپوں کا مقابلہ کرنے میں اہم کردار ادا کرنا ہے۔

ہم سب کو ایسی اینکرپٹڈ ٹیکنالوجیوں کے بطور ہتھیار استعمال کو روکنے کے لیے، ٹیکنالوجی کی صنعت کے ساتھ تعاون کو گہرا کرنا چاہیے جو انتہاپسند تعاون کو آسان بناتی ہیں۔

ہماری ضرورت ہے کہ ٹیکنالوجی کی عالمی صنعت اس جنگ میں نئی چیزیں تیار کرے اور ہم اُن کمپنیوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جو پہلے سے ہی اس چیلنج سے نمٹ رہی ہیں۔ ہمیں ایسے ہتھیار بنانے کی خاطر ڈیٹا کے تجزیات اور الیگروتھمک ٹیکنالوجیوں میں اُن غیرمعمولی پیشرفتوں سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہیے جو آئی ایس آئی ایس کے پروپیگنڈے کو ڈھونڈتی ہیں اور فوری حملوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔

امریکہ میں محققین انٹر نیٹ کے تاریک کونوں سے آئی ایس آئی ایس کے مواد کو صاف کرنے کے آلات  پہلے ہی بنا چکے ہیں، مگر اُنہیں اپنے مقصد تک مزید تیزی سے پہنچنے کے لیے مدد کی ضرورت ہے۔ بعد ازاں، ہم یہاں ظہرانے پر علی جابرکو سنیں گے جو اس پر تفصیل سے بات کریں گے کہ اس میدان میں فتح کیسے حاصل کی جائے۔

لیکن ایک بات میں واضح کردوں: ہمیں آئی ایس آئی ایس سے آن لائن اتنی ہی جارحیت سے لڑنا چاہیے جتنا کہ ہم زمین پر اُن سے لڑتے ہیں۔

آخر میں، ہماری اجتماعی سلامتی کو آئی ایس آئی ایس کی طرف سے مسلسل ایک چیلنچ درپیش ہے، مگر جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ جب ہم متحد ہوتے ہیں تو یہ اتنی طاقتور نہیں ہوتی جتنا کہ ہم ہوتے ہیں۔ ہمیں ایسے میں آئی ایس آئی ایس کو ناکام بنانا چاہیے جب یہ زمین اور سائبرسپیس میں اپنا وجود برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ہمیں تعاون اور سرحدی سلامتی، ہوابازی کی حفاظت، قانون کا نفاذ، مالیاتی پابندیوں، جوابی پیغام رسانی اور خفیہ معلومات کے تبادلے کو بڑہانا چاہیے۔ اور ہمیں معصوم لوگوں کو اپنی کمیونٹیوں کی تعمیرِنو اور استحکام میں مدد کرنے کی خاطر عراق اور شام میں آزاد کرائے گئے علاقوں میں سرمایہ کاری کرتے رہنا چاہیے۔

اس وقت، اس کا مطلب دھماکہ خیز مادوں کو صاف کرنا، پانی اور بجلی بحال کرنا، دوبارہ آبادکاری اور انسانی بنیادوں پر دی جانے والی امداد مہیا کرنا، اور ایسے مقامی رہنماؤں سے تعلقات بنانا جاری رکھنا ہے جو انتہاپسندی کو مسترد کرتے ہیں۔ ہمارے آج کے دن کا یہ وقت معلومات کے کھلے اور ایماندارانہ تبادلے اور حوصلہ افزائی کا ایک موقع ہے۔ ایک مشترکہ دشمن کو شکست دینے کے لیے وقف اتحادیوں کی حیثیت سے ہمیں ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھنے اور احترام کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور وہ نظریات اپنانے چاہییں جو ہمارا  مشن پورا کر سکیں۔

سب سے بڑھکر یہ ہے کہ یہ وقت سلامتی کے اپنے مشترکہ عزم کو مضبوط بنانے اور ایک ایسی جنگ میں سرمایہ کاری کرنے کا ہے جس میں ہم سب کا کچھ نہ کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔

آپ کا بہت بہت شکریہ۔