وزیرخارجہ کیری نے اُن اصولوں کا ایک تفصیلی خاکہ پیش کیا ہے جن کے بارے میں انہوں نے کہا ہے کہ یہ اصول اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مستقبل کے کسی امن سمجھوتے کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

انہوں نے 28 دسمبر کو تقریر کرتے ہوئے کہا کہ دو ریاستوں کی بنیاد پر کوئی ایسا حل ضرور ہونا چاہیے جس میں اسرائیل اور فلسطین کی نئی ریاست کے درمیان  ایک "محفوظ اور تسلیم شدہ سرحد" شامل ہو۔ اور ایسے کسی بھی سمجھوتے میں فلسطینی پناہ گزینوں کی مدد کی جانی چاہیے، یروشلم کو دونوں ریاستوں کا دارالحکومت ہونا چاہیے  اور اسرائیل کی سلامتی کے تقاضوں کو پورا کیا جانا چاہیے۔

کیری نے اوباما انتظامیہ کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اسرائیلی بستیوں کو غیرقانونی قرار دینے کے فیصلے کی حمایت کرنے کا دفاع کیا اور تنبیہ کی کہ اسرائیل کا جمہوری مستقبل داوً پر لگا ہوا ہے۔

کیری نے محکمہ خارجہ میں کہا، "امریکہ نے درحقیقت اپنی اقدار کے عین مطابق اُسی طرح ووٹ دیا ہے جیسے کہ سابقہ انتظامیہ ووٹ دیتی رہی ہیں۔ اقوام متحدہ میں ووٹ کا تعلق دو ریاستی حل کو محفوظ رکھنے سے تھا۔ یہی وہ موقف ہے جس کی ہم حمایت کرتے ہیں۔"

کیری نےامن مذاکرات میں اسرائیلی بستیاں جو کردار ادا کررہی ہیں اس پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا، "بستیاں تصادم کی وجہ نہیں ہیں مگر ان سے امن کو لاحق خطرے کی حقیقت کو کوئی بھی نظرانداز نہیں کر سکتا۔"

انہیں روکنے کے مطالبات کے باوجود اسرائیل کئی برسوں سے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اپنی بستیوں میں توسیع کرتا چلا آ رہا ہے۔ اسرائیل یہ دلیل پیش کرتا ہے کہ بستیوں پر لگائی جانے والی ماضی کی پابندیاں کسی امن سمجھوتے کی جانب پیشرفت کرنے میں ناکام رہی ہیں اور اور انہیں روکنا یا ختم کرنا مستقبل کے مذاکرات کے لیے پیشگی شرط بالکل نہیں ہونا چاہیے۔

بستیوں کے دفاع میں اسرائیل جو دلائل استعمال کرتا ہے کیری نے انہیں یہ اعلان کرتے ہوئے رد کر دیا کہ "آبادکاروں کا ایجنڈا اسرائیل کا مستقبل طے کر رہا ہے۔" انہوں نے تنبیہ کی کہ اگر کوئی فوری پیشرفت نہ ہوئی تو اسرائیل فلسطینی علاقے پر مستقل قبضے کے خطرے کی جانب بڑھے گا اور یہ کوئی معقول نتیجہ نہیں ہوگا۔

کیری نے کہا، "آپ کے سامنے ایک علیحدہ اور غیرمساوی صورت حال آئے گی اور کوئی نہیں بتا سکتا کہ اس کے کیا نتائج نکلیں گے۔"

کیری نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اوباما انتظامیہ کا اسرائیل کے ساتھ عزم اتنا ہی مضبوط  ہے جتنا کہ پہلے صدور کا رہا ہے اور یہ کہ "کسی امریکی انتظامیہ نے اسرائیلی سلامتی کے لیے بارک اوباما کی انتظامیہ سے زیادہ کام نہیں کیا۔"

شیئر امریکہ کے  لِے ہارٹمین نے اس رپورٹ کی تیاری میں مدد کی۔