ہر چار سال بعد امریکی صدارتی انتخابات ایک بڑی خبر بنتے ہیں۔ مگر جو کچھ  وسطی مدت کے انتخابات میں ہوتا ہے اس کا ملک کی سمت پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ یہ انتخابات  وسطی مدت کے انتخابات اس لیے کہلاتے ہیں کہ یہ صدر کی چار سالہ مدت کے دو سال گزر جانے کے بعد ہوتے ہیں۔

وسطی مدت کے انتخابات میں زیادہ تر توجہ کانگریس کے دونوں ایوانوں یعنی امریکی سینیٹ اور ایوان نمائندگان پر مرکوز ہوتی ہے۔ ایوان نمائند گان کی اراکین کی مدت دوسال ہوتی ہے لہذا اس کی 435 نشستوں کا فیصلہ وسطی مدت کے انتخابات میں ہوتا ہے۔

سینیٹروں کا انتخاب چھ سال کی مدت کے لیے کیا جاتا ہے۔ سینیٹ کی مجموعی نشستوں کی تعداد 100 ہے۔ سال 2018ء کے وسطی مدت کے انتخابات میں سینیٹروں کی مجموعی نشستوں کی ایک تہائی تعداد کا انتخاب کیا جائے گا جب کہ سینیٹروں کی بقیہ تعداد بالترتیب 2020ء اور 2022 ء میں منتخب کی جائے گی۔

People standing and sitting near table and banner reading 'Register to vote' (© Robert Alexander/Getty Images)
ریاست نیو میکسیکو کے شہر سانٹا فے میں ووٹر رجسٹریشن کرا رہے ہیں۔ (© Robert Alexander/Getty Images)

یہ [انتخابات] اتنے اہم کیوں ہیں؟ جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر، گیری نورڈ لِنگر بتاتے ہیں، “ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں جس کی بھی اکثریت ہوگی اسے ایجنڈے پر اختیار حاصل ہوگا۔”

اکثریتی جماعت یہ فیصلہ کرتی ہے کہ اہمیت کی حامل کانگریس کی کمیٹیوں کی سربراہی کون کرے گا۔ نورڈ لِنگر کہتے ہیں کہ کسی بھی صدر کے ایجنڈے کی کامیابی کا کلی طور پر انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ کانگریس کے دونوں ایوانوں پر اختیار کس کو حاصل ہے۔

6 نومبر کو ہونے والے وسطی مدت کے انتخابات میں درجنوں گورنروں اور سینکڑوں میئروں کے عہدوں کے ساتھ ساتھ ریاستیں کی ہزاروں نشستوں کے انتخابات ہونے ہیں۔ گو کہ ریاستی انتخابی مقابلے قومی شہ سرخیوں کی زینت تو نہیں بنتے مگر نورڈ لِنگر کا کہنا ہے کہ “ملک میں قانون سازی کی ایک بہت بڑی تعداد وفاقی نہیں بلکہ ریاستی سطح پر کی جاتی ہے۔”

یہ جاننے کے لیے کہ امریکہ میں وفاقی نظام کس طرح کام کرتا ہے وفاقی،  ریاستی، اور مقامی حکومتوں کے بارے میں تین قسطوں پر شائع کیے گئے مضامین ملاحظہ فرمائیے۔

Infographic showing seats up for election November 6 at federal, state and local levels (State Dept.)