دلنور ریحان کا پورٹریٹ جس کے پس منظر میں پیرس کا افقی منظر دکھائی دے رہا ہے۔ (Courtesy of Dilnur Reyhan)
پیرس میں قائم ویغور یورپین انسٹی ٹیوٹ کی دلنور ریحان دنیا بھر میں ویغوروں کی وکالت کرتی ہیں۔ (Courtesy of Dilnur Reyhan)

چین میں بڑی ہونے والی دلنور ریحان فرانسیسی ادیبوں کو پڑھتی تھیں اور شخصی آزادی جیسے فرانسیسی ثقافت سے جڑے آدرشوں کی معترف تھیں۔ لہذا شنجیانگ میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنے والی اس نوجوان خاتون کو 2004 میں بخوبی اندازہ تھا کہ وہ کہاں جانا چاہتی ہیں.

ریحان نے بتایا کہ اُن کی والدہ نے بچپن سے ہی انہیں فرانسیسی ادب سے محبت کرنا سکھایا۔ انہوں نے مئی 2021 میں کہا، “میں فرانس اس لیے آئی کیونکہ میں انسانی حقوق پر یقین رکھتی ہوں۔ میں نے فرانس کا انتخاب اتفاقیہ طور پر نہیں کیا۔”

ریحان نے سماجیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے اور اب پیرس کے مشرقی زبانوں اور ثقافتوں کے قومی انسٹی ٹیوٹ میں پڑھاتی ہیں۔ وہ پیرس میں مارچ 2019 میں قائم کیے گئے یورپین ویغور انسٹی ٹیوٹ کی صدر بھِی ہیں۔

یہ انسٹی ٹیوٹ یورپ میں رہنے والے دس ہزار ویغوروں کے حقوق کے کی حمایت کرتا ہے۔ اِن میں سے دس فیصد فرانس میں رہتے ہیں۔ یہ انسٹی ٹیوٹ ویغور زبان، تاریخ، موسیقی اور رقص سکھاتا ہے اور ویغور کمیونٹی کی تقریبات کے لیے عنقریب ویغور کھانوں کے مکمل سلسلے کے ساتھ ایک قہوہ خانہ کھولنے کا منصوبہ بھی بنا رہا ہے۔

اس انسٹی ٹیوٹ کے مطابق یورپ میں رہنے والے زیادہ تر ویغوروں کی تعداد نوجوان ہے اور ان کی اوسط عمریں 30 اور 35 برس کے درمیان ہیں۔ اِن میں سے زیادہ تر تعلیم حاصل کرنے آئے اور اس کے بعد عوامی جمہوریہ چین (پی آر سی) کی طرف سے شروع کی گئی ظلم و زیادتیوں کی مہم کا سامنا کرنے کی بجائے یورپ میں ہی رک گئے۔

 بڑے دروازوں اور سکیورٹی والی ایک بڑی عمارت کو جانے والی سڑک۔ (© Mark Schiefelbein/AP Images)
عوامی جمہوریہ چین شنجیانگ میں ارمچی نمبر 3 نامی اس جیسے حراستی مراکز میں دس لاکھ سے زائد ویغوروں اور اقلیتی گروپوں کے افراد کو نظربند کر چکا ہے۔ (© Mark Schiefelbein/AP Images)

2017 کے بعد، پی آر سی دس لاکھ سے زائد ویغوروں اور مسلمان اکثریت والے اقلیتی گروپوں کے افراد کو نظربند کر چکا ہے۔

پی آر سی ویغور بچوں کو اپنی مادری زبان سیکھنے سے منع کرتا ہے، دسیوں ہزاروں سے جبری مشقت کرواتا ہے، اجتماعی نگرانی کرتا ہے، ڈی این اے کے نمونے اکٹھے کرتا ہے، مذہبی عبادات پر پابندیاں لگاتا ہے، اور ویغور آرٹسٹوں، شعرا اور داانشوروں کو جیلوں میں بند کر دیتا ہے۔

انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے امریکہ، کینیڈا، برطانیہ اور یورپی یونین، سب نے شنجیانگ میں پی آر سی کے اعلٰی عہدیداروں پر پابندیاں لگائی ہیں اور اقلیتی گروپوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ کی جانے والی زیادتیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس انسٹی ٹیوٹ کی ایلانور ہارٹ نے کہا کہ یہ گروپ اس لیے بنایا گیا ہے کیونکہ ویغوروں کو “ایک ایسا بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرنے کی ضرورت تھی جو نہ صرف اُن حالات کا مقابلہ کر سکے جو ویغوروں کے علاقے میں رونما ہو رہے ہیں بلکہ اُن کے اُس نئے ڈیٹا کا ردعمل بھی ظاہر کر سکے جس میں محض وہ ]ویغور] بیرونی ممالک میں موجود طالبعلم ہی نہیں ہیں بلکہ وہ جلاوطنی میں رہنے والی ایک قوم بھی ہیں۔”

مغربی چین کے علاقے شنجیانگ میں تقریباً 12 ملین ویغور آباد ہیں۔ شنجیانگ کے آس پاس کے ممالک میں بھی لاکھوں ویغورآباد ہیں جن میں قازقستان، کرغزستان اور ازبکستان شامل ہیں۔

ریحان کے نزدیک شنجیانگ میں پی آر سی کے مظالم ویغور ثقافت کو اجاگر کرنے کی ایک اضافی اہمیت کے حامل بھی ہیں۔ وہ ایک رسالے کی جس کا فرانسیسی زبان میں Regard sur les Ouïghour-e-s نام ہے، ایڈیٹر بھی ہیں۔ وہ اس رسالے میں ویغور اور فرانسیسی زبان میں ویغوروں کی زندگیوں کی کہانیاں شائع کرتی ہیں۔ اس انسٹی ٹیوٹ کے ذریعے وہ شنجیانگ میں حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں عوام کو آگاہ کرتی ہیں، سرگرم کارکنوں کے ساتھ اور ویغوروں کی حمایت کرنے کی خاطرلابنگ حکام کے ساتھ مل کر کام کرتی ہیں۔

ریحان نے کہا، “میرا اولین مقصد یورپ میں ویغور زبان اور ثقافت کی حفاظت کرنا ہے: خاص طور پر یورپ میں پیدا ہونے والے ویغوروں کی پہلی نسل کے لیے تاکہ وہ مکمل طور پر ویغور اور مکمل طور پر یورپی ہوں۔”