سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو وائٹ ہاؤس سے لے کر سب سے زیادہ اختراعات کی حامل امریکی کمپنیوں تک، امریکہ کو انتہائی قریب سے دیکھنے کا موقع مل رہا ہے۔ اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات میں گہرائی پیدا کرنا ہے۔

تین ہفتوں کے اس دورے نے امریکیوں کو شہزادے کی جدید ہوتی ہوئی اُس سلطنت کی ایک واضح جھلک بھی دکھائی ہے جس کا  امریکہ کے ساتھ اس کی معاشی اور سکیورٹی کی شراکتداری سے گہرا تعلق ہے

ولی عہد شہزادے نے صدر ٹرمپ، کابینہ کے ارکان اور اداروں کے سربراہانِ اعلٰی کے ساتھ ساتھ مائیکروسافٹ، ایمیزان، ایپل اور گوگل کے بانیوں سے بھی ملاقاتیں کیں۔ اُنہوں نے میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور ہارورڈ یونیورسٹی کے دورے کے علاوہ بوئنگ کمپنی کی فیکٹری اور وِرجن گیلیکٹک کی آزمائشی [خلائی پروازوں] کی جگہ بھی دیکھی۔

صدر ٹرمپ کا جنہوں نے مئی 2017 میں سعودی عرب کا دورہ کیا تھا کہنا ہے کہ مشرق وسطٰی کے اس اتحادی کے ساتھ جتنے قریبی تعلقات آج ہیں اتنے پہلے کبھی بھی نہیں رہے۔

ولی عہد شہزادے نے اس بات پر زور دیا کہ اُن کا ملک ایک ایسے وقت تبدیل ہو رہا ہے جب وہ تیل پر انحصاری کم کرنے کی خاطر اقتصادی اصلاحات کی راہ پر گامزن ہے، اسلام کی ایک زیادہ میانہ رو تشریح کی طرف رجوع کر رہا ہے اور جائے روزگار پر عورتوں کے حقوق اور اُن کے مقام کو وسعت دے رہا ہے۔ یہ دورہ 7 اپریل کو ہیوسٹن میں اختتام پذیر ہوگا۔