ویت نام میں عورتیں نئے سرمایہ کاروں اور گاہکوں کو اپنے کاروباروں کی طرف راغب کرکے کاروبار شروع کرنا اور انہیں پھیلانا سیکھ رہی ہیں۔

انہیں امریکی سفارت خانے کے ہنوئی میں قائم امریکن سنٹر کی شکل میں ایک شراکت کار مل گیا ہے۔ یہ سنٹر مقامی سطح کی تنظیم کاری میں، ویت نامی عورتوں کی اکیڈمی اور حقوق سے متعلق ایک تنظیم یعنی ویت نامی عورتوں کی یونین کی مدد سے خواتین کی کاروباری نظامت کاری کا ایک پانچ روزہ مفصل کورس پیش کرتا ہے۔ یہ کورس شمالی ویت نام میں 16 صوبوں کے قصبوں اور شہروں کے ساتھ ساتھ دور افتادہ علاقوں میں بھی پڑھایا جاتا ہے۔

اس کورس میں ایسی عورتوں کو بنیادی تربیت فراہم کی جاتی ہے جو اپنا پہلا کاروبار شروع کرنا چاہتی ہیں اور ابھی خیال کے مرحلے پر ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پہلے سے کاروبار کرنے والی ایسی عورتوں کو مالی وسائل اور ترقی کے بارے میں بھی معلومات دی جاتی ہیں جو اپنے کاروبار کو اگلی سطح پر لے جانا چاہتی ہیں۔

ویت نامی عورتیں ہمیشہ انتہائی محنت سے کام کرتی ہیں مگر بعض کے لیے کامیابی حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ‘سٹارٹ اپ سمارٹ فار ویمن’ نامی اس کورس کا مقصد عورتوں کی مطلوبہ کامیابی کو پانے میں مدد کرنا ہے۔ امریکن سنٹر کی ایک اہلکار ٹرینگ پھم کے مطابق 2017ء کے اواخر سے لے کر آج تک 1,000 خواہش مند کاروباری نظامت کار یا ابتدائی سے لے کر درمیانے درجے کے کاروباروں کی خواتین مالکان یہ کورس مکمل کر چکی ہیں۔

ہر پانچ روزہ کورس لیکچروں، کاروباروں کے مطالعاتی جائزوں، اور کاروباری دوروں پر مشتمل ہوتا ہے۔ شرکاء اپنے خیالات پیش کرتی ہیں اور لوگوں کو اپنے تجربات سے آگاہ کرتی ہیں۔ ٹرینگ نے بتایا، "پروگرام کے اختتام پر شرکاء اُن کامیاب مقامی خواتین کاروباری نظامت کاروں سے ملیں جنہوں نے پراجیکٹوں کے لیے سرپرستوں کے طور پر کام کیا۔”

کورس کی کامیاب سابق شرکاء اپنی کمیونٹیوں میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے کاروباروں کو ترقی دیتی رہتی ہیں۔ اِن میں سے کچھ نے ویت نامی عورتوں کے نئی کمپنیوں کے سال 2019 کے میلے میں کاروباری منصوبے پیش کیے اور اِن میں سے بہت سوں نے کاروباری کے تصورات کے مقابلوں میں انعامات جیتے۔

کامیابی کی داستانیں

ٹرینگ نے اس کورس میں شرکت کرنے والی تین عورتوں کا خصوصی حوالہ دیا:

کھیت میں کھڑے گھاس کے ڈنٹھل۔ (© Jianghaistudio/Shutterstock)
ویٹیور گھاس اگربتیاں بنانے میں استعمال ہوتی ہے۔ بہت سے ویت نامی اسے روزمرہ کی بنیاد پر استعمال کرتے ہیں۔ (© Jianghaistudio/Shutterstock)

لُو کِم کک کا تعلق وِن پھک سے ہے اور وہ کھانوں میں استعمال ہونے والا دل کے لیے مفید سیاہ لہسن اگاتی ہیں اور اسے مارکیٹ میں فروخت کرتی ہیں۔ سٹارٹ اپ سمارٹ کے استادوں نے ان کی اپنے مال کی وسیع پیمانے پر تشہیر کرنے اور اپنے کاروباری نیٹ ورک کو وسعت دینے میں حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے ہر مہینے سیاہ لہسن کی پیداوار میں 30 کلوگرام کا اضافہ کر کے اپنی تجارتی پیداوار کو بڑہایا۔ مستقبل میں اُن کا اپنے کاروبار کو مزید پھیلانے کا منصوبہ ہے۔

ہوئی نگوین کا تعلق ہنوئی سے ہے اور انہوں نے اگربتیوں کی تیاری میں استعمال ہونے والی ویٹیور گھاس سپلائی کرنے والی ایک کمپنی قائم کی۔ سٹارٹ اپ سمارٹ کے تحت دی جانے والی تربیت سے انہوں نے اپنے گاہکوں اور منڈیوں کو بہتر طریقے سے سمجھنا سیکھا۔ انہوں نے اپنی مارکیٹنگ اور سیلز کی حکمت عملی تبدیل کی اور اپنے ممکنہ سرمایہ کاروں کے نیٹ ورک کو وسیع کیا۔

لائی تھائی نیئن کا تعلق بک کان صوبے سے ہے اور انہوں نے ریستورانوں اور مقامی گھرانوں میں بیچنے کے لیے "ہوم فیکٹری” کے نام سے خشک نوڈل بنانے کی ایک کمپنی بنائی۔ سٹارٹ اپ سمارٹ کے ذریعے انہوں نے اپنا برانڈ رجسٹر کرانے اور پیکنگ کو بہتر بنانا سیکھا۔ اُن کے مال کی مانگ بہت بڑھ چکی ہے جس کی وجہ سے انہوں نے مزید مشینیں خریدیں، زیادہ لوگوں کو ملازم رکھا، اور مختلف اقسام کی اشیاء تیار کرنا شروع کیں۔ آج اُن کا مال ہنوئی کے بڑے بڑے سٹوروں میں شمار ہونے والے ایک سٹور میں فروخت ہو تا ہے۔

ٹرینگ کے مطابق اس پروگرام میں شرکت کرنے والی خواتین ٹکنالوجی کو بھی اپنا رہی ہیں — بالخصوص وہ اپنے گاہکوں کے ساتھ آن لائن رابطوں کے لیے سمارٹ فون استعمال کر رہی ہیں۔

امریکن سنٹر کا 2020 کے دوران تین صوبوں میں ایڈوانس کورس شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس میں شرکت اُن کاروباری مالکان تک محدود ہوگی جو اپنے کاروباروں کو پھیلانے کے لیے تیار ہوں۔