ویت نام میں امریکہ سے منسلک یونیورسٹی کا اپنے اولین طلبا کو خوش آمدید

زمین پر بیٹھے ہوئے ایک طالب علم کی تصویر کے برابر فلبرائٹ یونیورسٹی ویت نام کے بارے میں عبارت۔ (State Dept./Photo © Jet Huynh)

گوکہ دنیا بھر میں سکالروں کے لیے مایہ ناز فلبرائٹ پروگرام کا آغاز کرنے والے سینیٹر جے ولیم فلبرائٹ (1905 – 1995) ثقافتی تبادلوں کے حامی تھے مگر صرف ایک یونیورسٹی ہے جو اُن کے نام سے منسوب ہے یعنی ہوچی مِن سٹی میں واقع “فلبرائٹ یونیورسٹی ویت نام” (ایف یو وی)۔

امریکی اور ویت نامی حکومتوں کی مدد سے 2016ء میں قائم ہونے والی ایف یو وی، ویت نام میں واقع پہلی آزاد، غیرمنفعتی، اور امریکہ سے منسلکہ یونیورسٹی ہے۔ یہ یونیورسٹی ویت نام کی ثقافت، تاریخ اور روایات کو گلے لگاتے ہوئے، امریکی اقدار یعنی نصابی آزادی، تنوع، خود مختاری، قابلیت اور شفافیت کو پروان چڑھاتی ہے۔

ایف یو وی کا نصب العین ایسی تعلیم فراہم کرنا ہے جوعالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ویت نامی لیڈروں کو صلاحیتوں سے بہرہ ور کرے۔ اس یونیورسٹی میں انڈر گریجوایٹ اور گریجوایٹ ڈگریوں کے تعلیمی پروگراموں کے ساتھ ساتھ ضرورت مند طلبا کو مالی مدد بھی فراہم کی جاتی ہے۔

ستمبر میں ایف یو وی نے اپنی افتتاحی انڈر گریجوایٹ کلاس میں طالب علموں کو داخلے دینے شروع کیے۔ اِن میں ہمونگ نسلی گروہ سے تعلق رکھنے والا طالب علم خانگ اے توا بھی شامل ہے۔

ایک نوجوان عورت اور ایک نوجوان مرد ٹیبل فٹ بال کھیل رہے ہیں۔ (© Jet Huynh/Fulbright University Vietnam)
دائیں طرف نظر آنے والے خانگ اے توا کا کہنا ہے کہ فلبرائٹ، “یونیورسٹی سے بڑھکر کچھ اور بھی ہے۔ یہ ایک ایسا بڑا اور پیارا خاندان ہے” جو بہت سے شعبوں میں تعلیم کا بندوبست کرتا ہے۔ (© Jet Huynh/Fulbright University Vietnam)

25 سالہ توا اپنے ہم جماعتوں سے بڑا ہے۔ اُس نے بہت سی رکاوٹیں عبور کی ہیں۔ توا کا دیہات سے اُس کیمپس تک کا سفر آسان نہیں تھا جسے اب وہ اپنا گھر کہتا ہے۔

اپنی مادری زبان ہمونگ بولنے والے توا نے مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے ویت نامی زبان سیکھی۔ دو سال تک اس نے ہنوئی کی سائنس اور ٹکنالوجی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی۔ اِس کے بعد اُس نے فیصلہ کیا کہ یہ تعلیمی شعبہ اُس کے لیے درست نہیں ہے۔ وہ کیمیا دان نہیں بلکہ استاد بننا چاہتا ہے۔

انگریزی زبان کی اپنی محدود اہلیت کی وجہ سے توا نے ایف یو وی میں درخواست دیتے وقت اپنا درخواست میں شامل مضمون گوگل ٹرانسلیٹ (ایپ) کا استعمال کرکے مکمل کیا۔ جب توا کو داخلہ مل گیا تو اس کے بعد اُس کی انگریزی تیزی سے بہتر ہوئی۔

توا کہتا ہے کہ وہ فلبرائٹ کے اساتذہ کا “بہت مشکور” ہے۔ اُن سے وہ متاثر ہے اور اُس کا پروگرام ہے کہ کسی دن وہ ہمونگ بچوں کے لیے نصابی کورس تیار کرے گا۔

ایک غیرمنفعتی تنظیم، ‘کراس بارڈر ایجوکیشن ریسرچ ٹیم’ کا کہنا ہے کہ ایف یو وی کا شمار امریکہ سے منسلک اُن کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے جو امریکہ سے باہر ہیں۔ اِن اداروں میں طالب علموں کی مجموعی تعداد 17,000 ہے۔

بیرونی ممالک میں اعلٰی تعلیم کا فروغ، افرادی قوت کی تیاری کا ایک منفرد امریکی ماڈل ہے۔ طویل مدتی شراکت کاری قائم کرنے کے لیے امریکہ دنیا کے ممالک اور کمیونٹیوں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔

یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ مختلف پسہائے منظر رکھنے والے طالب علموں کو داخلے دے کر، ایف یو وی انہیں “دنیا کی بہترین کمپنیوں میں” کام کرنے کے لیے تیار کرتی ہے۔ ” فلبرائٹ یونیورسٹی ویت نام 25 برسوں میں، ایشیا بھر میں اور ویت نام میں طالب علموں کا اولین انتخاب ہوگی۔”