“شنجیانگ ویغور کے خود مختار علاقے میں ویغور ترکوں اور دیگر مسلمان کمیونٹیوں کے بنیادی انسانی حقوق کی پامالی پر” ترکی کی وزارت خارجہ نے ایک چبھتے ہوئے بیان میں  چینی حکومت کی مذمت کی ہے۔

ترکی نے چینی حکومت کے ویغوروں، نسلی قازقوں اور دیگر اقلیتی مسلمان گروہوں کے لیے “21ویں صدی میں  حراستی کیمپوں کے دوبارہ قیام اور ایک نظاماتی تحلیل کی پالیسی کو دوبارہ متعارف کرانے کو انسانیت کے لیے ایک بہت بڑی شرمناک بات” قرار دیا ہے۔

ترکی کے 9 فروری کے بیان کی وجہ یہ اطلاعات بنیں ہیں کہ عبدالرحیم ہیت نامی ویغور شاعر اور لوک موسیقار ایک چینی حراستی کیمپ میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس دعوے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

ہیت “دوتار” نامی موسیقی کے اُس لمبے آلے کو بجانے کے لیے مشہور ہیں جس میں دو تاریں لگی ہوتی ہیں۔  ریڈیو فری ایشیا کی ایک رپورٹ کے مطابق چینی حکومت نے انہیں 2017ء میں ایک ویغور گانا بجانے کی وجہ سے گرفتار کیا تھا۔

ہیت کا شمار کم از کم اُن آٹھ لاکھ بلکہ ممکنہ طور پر بیس لاکھ  سے زیادہ ویغوروں، نسلی قازقوں اور دیگر مسلمان اقلیتی گروہوں میں ہوتا ہے جنہیں چینی حکام نے حراستی کیمپوں میں بند کر رکھا ہے۔

حراست میں لیے جانے کی بیان کی جانے والی وجوہات میں بہت بڑا تضاد پایا جاتا ہے۔ بعض حالات میں پولیس یہ دعوٰی کرتی ہے کہ وہ کسی کو اس لیے گرفتار کر رہی ہے کہ متعلقہ شخص نے بیرون ملک کا سفر کیا ہے یا اس کے خاندان کا کوئی فرد کسی بیرونی ملک میں رہ رہا ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اس طرح کی حراستوں پر سوال اٹھانا کسی کے بس میں نہیں ہوتا۔

چین نے شنجیانگ میں مذہبی عبادات اور ثقافت کے کئی ایک پہلوؤں کو قانون کے تحت جرم قرار دے رکھا ہے۔ اس جرم میں مسلمان بچوں کو اسلامی تحریر سکھانے پر سزا اور والدین کے بچوں کے اسلامی نام رکھنے پر پابندی بھی شامل ہے۔

Police officer waving arm toward photographer (© Thomas Peter/Reuters)
ایک چینی پولیس کا افسر صحافیوں کو شنجیانگ میں ایک حراستی مرکز کے قریب روک رہا ہے۔ (© Thomas Peter/Reuters)

شہریوں کو “غیرمعمولی”  داڑھیاں رکھنے، سر پر سکارف لینے اور دیگر حیادارکپڑے پہننے، سرکاری ٹیلی ویژن دیکھنے سے انکار کرنے، نکریں پہننے سے انکار کرنے، شراب اور سگریٹ پینے سے پرہیز کرنے، رمضان کے مقدس مہینے میں روزے رکھنے، جمعے کے دن کے علاوہ مساجد میں جانے، تدفین کی روائتی رسومات میں حصہ لینے، بیرونی ممالک میں خاندان کے افراد یا دوستوں کے ہونے، بذات خود بیرونِ ملک سفر کرنے، کیمپنگ کا سامان رکھنے اور دوسرے کو قسم اٹھانے کے کہنے پر بھی حراست میں لیا جا سکتا ہے۔

چینی حکومت اس بات پر اصرار کرتی ہے کہ حراستی کیمپ محض “انسداد دہشت گردی اور انتہا پسندی کو ختم کرنے کا کام ہے۔” یہ دعوٰی  جھوٹا ثابت ہو چکا ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ چین کو دہشت گردی کے خطرے سے محفوظ رکھنے کے برعکس شنجیانگ کے کیمپوں کی توجہ قیدیوں کی نسلی شناختوں، مذہبی اعتقادات، اور ثقافتی اور مذہبی رسومات کو مٹانے پر مرکوز ہے۔

اقوام متحدہ کی اقتصادی اور سماجی کونسل میں امریکہ کی نمائندہ، کیلی کری نے ہڈسن انسٹی ٹیوٹ، واشنگٹن میں  6 فروری کو  اِن اور چینی حکومت کے دیگر “افسانوں” کو رد کر دیا۔

کری نے کہا کہ چین کے یہ دعوے قابل اعتبار نہیں ہیں کہ حراستی کیمپوں کے جو سلسلے اس نے تعمیر کر رکھے ہیں وہ “روزگار کی خاطر تربیت دینے کے انسان دوست مراکز ہیں۔” انہوں نے کہا کہ اِن حراستی کیمپوں سے بچ نکلنے والے افراد کی تشدد اور زیادتیوں کی داستانیں چینی بیانیے کی نفی کرتی ہیں۔

ترکی کی وزارت خارجہ کے 9 فروری کے بیان میں شامل یہ الفاظ اس نتیجے کی بازگشت ہیں: “یہ اب کوئی راز کی بات نہیں ہے کہ یکطرفہ طور پر گرفتار کیے گئے  دس لاکھ سے زیادہ ویغور ترکوں کو حراستی کیمپوں اور جیلوں میں تشدد اور ذہنی تطہیر کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔”

“ہمارا بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ سے یہ مطالبہ ہے کہ وہ شنجیانگ میں اس انسانی المیے کو ختم کرنے کے لیے موثر اقدامات اٹھائیں۔”