وینیز ویلا میں ایک ہزار پولیس والوں نے مادورو کو چھوڑ دیا: کولمبیا

18 مارچ کو کولمبیا کے حکام نے بتایا کہ وینیز ویلا کے آمر نکولس مادورو کی سابقہ حکومت سے وینیز ویلا کی سکیورٹی فورسز کے ارکان منحرف ہو کر جا رہے ہیں۔ فروری کے بعد آج تک سکیورٹی فورسز کے تقریباً 1,000 ارکان اپنے ہتھیار چھوڑ کر اور وردیاں اتار کر کولمبیا چلے گئے ہیں۔

کولمبیا کی وزارت خارجہ نے وینیز ویلا کے ایسے پولیس والوں اور فوجیوں کی تازہ ترین تعداد جاری کی ہے جنہوں نے سرحد عبور کی ہے۔ اِن میں سے بہت سوں نے 23 فروری کے آگے پیچھے اُس وقت سرجد عبور کی جب وینیز ویلا کی حزب مخالف کے لیڈر اور عبوری صدر خوان گوائیڈو  نے امریکہ کی طرف سے انسانی بنیادوں پر دی جانے والی امداد اپنے ملک میں لانے کی کوشش کی۔

یہ کوشش اس لیے ناکام ہوگئی کیونکہ وینیز ویلا کی افواج نے ٹرکوں کو کولمبیا سے وینیز ویلا میں داخل ہونے سے روک دیا۔

Boots propped up along a wall (© Christine Armario/AP Images)
کولمبیا کے شہر ککوتا میں ایک پادری کے زیر انتظام چلنے والی پناہ گاہ میں وینیز ویلا کے نیشنل گارڈ کے درجنوں منحرف فوجی سو رہے ہیں اور ان کے جوتے سوکھنے کے لیے باہر پڑے ہوئے ہیں۔ (© Christine Armario/AP Images)

کولمبیا کے اہل کاروں نے بتایا کہ منحرفین کو رہائش، صحت کی سہولتیں اور قانونی امداد فراہم کی گئی ہے۔ اِن لوگوں کے ہمراہ اُن کے خاندانوں کے 400 افراد بھی ہیں۔ کولمبیا، امریکہ اور 50 دیگر ممالک گوائیڈو کے اس دعوے کی حمایت کرتے ہیں کہ وہ وینیز ویلا کے قانونی لیڈر ہیں اور یہ کہ مادورو غیر قانونی ہے کیونکہ گزشتہ برس اُس کے دوبارہ انتخاب کو بے قاعدگیوں نے غیرقانونی بنا دیا ہے۔

مادورو کی پالیسیوں نے اِن دنوں وینیز ویلا میں جاری اقتصادی، سیاسی، اور انسانی بحران پیدا کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں انتہائی اونچی سطح کی افراط زر کی شرح کے ساتھ ساتھ  دوائیوں اور ضروریات زندگی کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔

وینیز ویلا کے تیس لاکھ سے زائد شہری ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں اور اِن میں سے ایک تہائی کو کولمبیا میں پناہ ملی ہے۔

اس مضمون کی تیاری میں ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں سے استفادہ کیا گیا ہے۔