وینیز ویلا میں بحران سے تنگ آئے لوگوں کا کولمبیا کی جانب ‘ پیدل’ سفر

کارلوس، انتھونی اور ڈینی* —  چھ  دن سے مسلسل پیدل چل رہے ہیں اور تاحال وہ کولمبیا کے علاقے میڈیلین تک 640 کلومیٹر سفر کا نصف بھی طے  نہیں کر پائے۔ انہیں امید ہے کہ وہاں ایک خاندانی دوست انہیں کام دلا سکتا ہے۔

وسطی وینیز ویلا میں یہ تینوں ہمسائے تھے۔ کارلوس مکینک کے طور پر کام کرتا تھا، انتھونی بینکار تھا جبکہ 17 سالہ ڈینی حجام بننا چاہتا تھا۔

تاہم ان کی زندگیوں کو ایک جگہ روک دیا گیا۔ اِن کی آنکھوں کے سامنے اِن کا شہر بکھر کے رہ گیا۔ یہ شہر وینیز ویلا کے بد سے بدتر ہوتے ہوئے معاشی بحران کا شکار بن گیا۔

Man in cap and T-shirt sitting on grassy area (Alison Harding/USAID/OFDA)
انتھونی وینیز ویلا میں ایک بینکار ہوا کرتا تھا مگر پڑوسی ملک کولمبیا میں روزگار کی تلاش میں اُس نے اپنی وہ زندگی پیچھے چھوڑ دی ہے۔ (Alison Harding/USAID/OFDA)

انتھونی بتاتا ہے، ”ہر شے افراتفری کا شکار ہے۔ اب بسوں کی بجائے ان کے پاس پرانے ٹرک ہیں جو بمشکل ہی آپ کو کام پر پہنچا پاتے ہیں۔ بازاروں میں لوگ دو کلو آٹے پر لڑتے جھگڑتے ہیں۔ اسی وجہ سے  ہم یہاں کولمبیا میں آ گئے ہیں۔ وینزویلا میں سفاکانہ حقیقت کے سبب ہر کوئی وہاں سے نکل رہا ہے۔”

کارلوس نے بتایا کہ اس رات ان کے صبر کا پیمانہ اُس وقت لبریز ہو گیا جب انہوں نے ایک خاندان کو گیلے ٹیشو پیپر کھاتے دیکھا جو کہ اب اُس بستی کے لوگوں کا عام کھانا ہے ۔ اس بحران میں آخری حل کے طور پر، کاغذ سے بنی چیزیں کھانا  بہت سے کنبوں کے لیے واحد راستہ رہ گیا ہے۔

اس رات انہوں نے بہتر زندگی کی تلاش میں وینیز ویلا چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور سرحد کی جانب جانے والی اگلی بس میں بکنگ کرا لی۔

Two portraits of Venezuelan men (Alison Harding/USAID/OFDA)
وینیز ویلا کی سرحد سے پیدل چل کر آنے والے ڈینی ( بائیں) اور کارلوس ( دائیں) کولمبیا کے شہر بوکارامانگا میں سستا رہے ہیں۔ (Alison Harding/USAID/OFDA)

کولمبیا پہنچ کر کارلوس، انتھونی اور ڈینی نے پہاڑوں کا رخ کیا اور “کیمینانتیس” کہلانے والے  پیدل چلنے والے وینیز ویلا کے ان سیکڑوں لوگوں میں شامل ہو گئے جو اپنے ملک میں بحران سے تنگ آ کر وہاں سے بھاگ نکلے ہیں۔ کولمبیا میں ان تینوں نے گرتے پڑتے روزانہ 20 گھنٹے کا سفر کیا۔

جب وہ اینڈین نامی خطرناک پہاڑی سلسے  میں چل  رہے تھے تو انہوں نے افسردگی سے دیکھا کہ ان کے ہمراہ پیدل چلنے والے بہت سے لوگ کڑے حالات سے شکست کھا کر واپس ہو لیے۔ شدید سردی میں ایک پہاڑی درہ  پار کرتے ہوئے سردی  سے ایک ماں اور بچے کی ہلاکت نے انہیں غمزدہ کر دیا۔ ایک ٹرک ڈرائیور کو ان پر رحم آیا اور اُس نے انہیں اگلے قصبے تک پہنچایا۔

اپنی خوبصورت تفریح گاہوں کے لیے شہرت رکھنے والے “پارکوں کے شہر” بوکارامانگا پہنچنے تک وہ کہیں بھی نہیں رکے۔ یہ شہر وینیز ویلا کی سرحد سے قریباً 160 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور آج کل مشہور جائے قیام کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ یہاں وینیز ویلا سے پیدل چل کر آنے والے لوگ سستا سکتے ہیں۔ وہ اس قدر پیاسے تھے کہ سوچے سمجھے بغیر ایک باغبان کے نلکے سے غٹاغٹ پانی پی لیا حالانکہ یہ انتباہ کیا گیا تھا کہ اس پانی میں کھاد ملی ہوئی ہے۔

People holding bags walking along a road in Colombia (Schneyder Menodza/AFP/Getty Images)
وینیز ویلا کے پیدل چل کر آنے والے لوگ جو تھوڑا بہت سامان اٹھا سکتے وہ اٹھائے ہوئے کولمبیا کی ایک سڑک کے کنارے چلے جا رہے ہیں۔ (© Schneyder Mendoza/AFP/Getty Images)

ان کے پاس رقم تھی اور نہ ہی ٹھہرنے کی جگہ، لہذا انہیں باغ میں استعمال ہونے والا پانی ہی پینا تھا۔

آج اس شہر کے مشہور پارک ان کے تھکاوٹ زدہ پاؤں کو کچھ دیر کے لیے آرام پہنچائیں گے۔ کل کارلوس، انتھونی اور ڈینی ایک مرتبہ پھر پہاڑوں کا رخ کریں گے۔ وہ  بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ آگے انہیں خطرناک راستوں پر چلنا ہو گا۔

انتھونی نے کہا، ”ہم اس سفر میں مر بھی سکتے ہیں۔ مگر ہم اپنے بیوی بچوں اور اہلخانہ کے مستقبل کے لیے یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔ ہمیں بس  یہی امید ہے کہ جب لوگ ہمیں راستوں پر دیکھیں گے تو ان کے دل میں ہماری کچھ مدد کرنے کا جذبہ ہو گا۔”

* حفاظتی نقطہ نظر سے نام تبدیل کر دیے گئے۔

یہ داستان بنیادی طور پر یوایس ایڈ کی ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔