نکولوس مادورو کے غیر قانونی انتخاب کو دو برس ہو گئے ہیں۔ اس عرصے کے دوران وینیز ویلا مزید بڑے بڑے ہنگاموں اور مصائب میں گرفتار ہو گیا ہے۔

الیکٹرول انٹیگرٹی پراجیکٹ (انتخابی دیانت کے پراجیکٹ) کے مطابق 20 مئی 2018 کو ہونے والے انتخابات کے پانچ دن کے اندر اندر 46 ممالک نے انتخابی نتائج کو خلاف قانون قرار دیدیا۔ یہ پراجیکٹ ایک آزادانہ نصابی پروگرام ہے جو امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی اور آسٹریلیا کی سڈنی یونیورسٹی میں پڑھایا جاتا ہے۔

اس انتخاب کی اتنے سارے ممالک کی جانب سے مذمت کی وجہ یہ ہے کہ ایسے شواہد سامنے آتے رہے جن سے یہ عیاں ہو گیا کہ یہ انتخاب جعلی تھا۔

دو تصویروں کا مجموعہ۔ پہلی تصویر میں ووٹ ڈالتا ہوا ایک آدمی (© Juan Barreto/AFP/Getty Images) اور دوسری تصویر میں برآمدے میں کھڑے دو افراد (© Ricardo Mazalan/AP Images)
بائیں: ایک آدمی ووٹ ڈال رہا ہے (© Juan Barreto/AFP/Getty Images) دائیں: انتخابی اہل کار ووٹروں کا انتظار کر رہے ہیں۔ (© Ricardo Mazalan/AP Images)

الیکٹرول انٹیگریٹی پراجیکٹ کے مطابق، 2018ء کے صدارتی انتخابات میں ووٹروں کی تعداد تاریخی طور پر کم تھی جس سے ووٹروں پر روا رکھے جانے والے جبر کا پتہ چلتا ہے۔ وینیز ویلا کی قومی انتخابی کونسل نے بتایا کہ 46 فیصد ووٹر ووٹ ڈالنے گئے جبکہ ایسوسی ایٹڈ پریس نیوز کے مطابق گزشتہ تین صدارتی انتخابات میں یہ شرح اوسطاً 79 فیصد تھی۔

محکمہ خارجہ کے اہل کاروں کو ووٹروں کی اتنی کم تعداد کے علاوہ انتخابات میں ہیرا پھیری کرنے کے دیگر طریقوں کا بھی پتہ چلا۔

انتخابات کے دوران مادورو حکومت نے:

  • وینیز ویلا کی قومی اسمبلی کی بجائے، غیر آئینی طور پر سپریم ٹربیونل آف جسٹس کو حکومتی وفاداروں کو قومی انتخابی کونسل میں تعینات کرنے کی اجازت دی۔ یہ قومی انتخابی کونسل 2016ء کی اُسی قومی انتخابی کونسل سے نکلی تھی جس نے 2016ء میں مادورو کے خلاف ریفرنڈم کے مطالبے کو رد کیا تھا۔
  • حزب مخالف کی بڑی بڑی جماعتوں اور لیڈروں کے انتخاب میں شریک ہونے پر پابندیاں لگائیں۔
  • آزاد پریس کا گلا گھونٹا باوجود اس کے کہ وینیز ویلا کا انتخابی قانون پریس کی آزادی اور منصفانہ پن کو لازمی قرار دیتا ہے۔ مادورو کے کاسہ لیسوں نے میڈیا کی زیادہ تر خبروں پر اپنا حکم چلایا جن میں مادورو کی غیر منصفانہ حمایت کی گئی۔
  • کھانے پینے کی چیزوں کے بدلے وینیز ویلا کے بھوکے شہریوں سے ووٹوں کا سودا کیا۔ یہ جاننے کے لیے کس نے مادورو کے حق میں ووٹ دیئے، ‘فادر لینڈ کارڈوں’ کو استعمال کیا گیا۔ بعد میں مادورو کو ووٹ دینے والوں کو کھانے پینے کی چیزوں کے بکس دیئے گئے۔
ایک عورت ڈبہ اٹھائے جا رہی ہے۔ (© Ariana Cubillos/AP Images)
ایک عورت 16 مئی 2018 کو حکومت کی طرف سے دیئے جانے والا کھانے پینے کی چیزوں کا ڈبہ اٹھا کر جا رہی ہے۔ ووٹروں کو ڈرتھا کہ نکولس مادورو کو ووٹ نہ دینے کی صورت میں وہ حکومت کی طرف سے مہیا کی جانے والی کھانے پینے کی چیزوں سے محروم ہو جائیں گے۔ (© Ariana Cubillos/AP Images)

2018ء کے غیر جمہوری انتخابات کے دہرائے جانے سے بچنے کی خاطر جمہوری طور پر منتخب کردہ قومی اسمبلی اور امریکہ کے محکمہ خارجہ نے وینیز ویلا میں جمہوریت کو بحال کرنے کے لیے ایک نیا قومی طریقہ کار پیش کیا ہے۔

وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو نے ایک بیان میں کہا کہ اس طریقہ کار میں مادورو حکومت کی موجودہ بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور نئی شروعات کے لیے "آزادانہ اور منصفانہ صدارتی انتخابات کے انعقاد کے لیے وسیع پیمانے پر قابل قبول عبوری حکومت” کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

پومپیو نے کہا، "ہمیں یقین ہے کہ یہ طریقہ کار وینزویلا کے اُن تمام شہریوں کے مفادات اور حقوق کو تحفظ فراہم کرتا ہے جو شدت سے اپنے سنگین سیاسی، معاشی، اور انسانی بحران کے حل کے متلاشی ہیں اور جانتے ہیں کہ وینزویلا کے شہریوں کو کوئی اچھی چیز بھی مل سکتی ہے۔”