امریکہ کے وزیر خزانہ سٹیون منوچن نے 27 جون کو اعلان کیا کہ امریکہ اُن دو افراد پر پابندیاں لگا رہا ہے جن کی بدعنوان افعال کے نتیجے میں وینیز ویلا بجلی نہ ہونے کی وجہ سے  کئی ماہ سے اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے۔

Several people standing in close group (© Ariana Cubillos/AP Images)
اپریل میں کراکس، وینیز ویلا میں، لوئس الفریڈو موتا ڈومینگیز، درمیان میں۔ (© Ariana Cubillos/AP Images)

منوچن نے اپنے ایک بیان میں کہا، “مادورو کی غیرقانونی حکومت وینیز ویلا کے اثاثوں کی لوٹ مار کر کے، اپنی جیبیں دولت سے بھر کے، اور خاموش تماشائی بن کر عوامی سہولتوں کو بلا وجہ اور تباہ کن انداز سے ناکام  ہوتا دیکھ  کرعوامی اعتماد کا استحصال کر رہی ہے۔”

اس تباہی کے ذمہ دار افراد میں سے دو پر یعنی وینیز ویلا میں بجلی کے سابق وزیر، لوئس الفریڈو موتا ڈومینگیز اور نائب وزیر اعظم،  ایسٹیکیو ہوزے لیوگو گومیز پر فلوریڈا میں پہلے ہی منی لانڈرنگ کی فرد جرم عائد کی جا چکی ہے۔

سال 2019 کے اوائل میں امریکہ کا محکمہ خزانہ وینیز ویلا کی تیل کی سرکاری کمپنی، پی ڈی وی ایس اے پر پابندیاں لگا چکا ہے کیونکہ مادورو کی حکومت کے لوگ اس کی آمدنی کو غیر قانونی طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ منوچن نے کہا، “محکمہ خزانہ اُن سرکاری اہل کاروں کو پابندیوں کا ہدف بنانا جاری رکھے گا جو وینیز ویلا کے عوام کی قیمت پر بدعنوانی میں اضافہ کر رہے ہیں اور بنیادی عوامی سہولتوں کی فراہمی میں جان بوجھ کر ناکام ہو رہے ہیں۔”

ٹوئٹر کی عبارت کا خلاصہ

امریکہ نے مادورو کے اُن  دو کاسہ لیسوں پر پابندیاں عائد کی ہیں جو وینیز ویلا میں بجلی کی فراہمی میں ناکامی کے براہ راست ذمہ دار ہیں۔ مادورو کی بدعنوانیاں اندھیرے  پھیلا رہی ہیں مگر وینیز ویلا کے لوگ گوائیڈو اور  وینیز ویلا کی اسمبلی کے ایثار کی شکل میں امن اور خوشحالی کرنیں دیکھ رہے ہیں۔  #EstamosUnidosVE