وینیز ویلا کی قومی اسمبلی میں گوائیڈو کے کردار کی اہمیت کیوں ہے

وینیز ویلا میں واحد جمہوری ادارہ وہاں کی قومی اسمبلی ہے۔ خوان گوائیڈو اس اسمبلی کے صدر ہیں۔ وہ ملک کے عبوری صدر کے فرائض بھی سر انجام دے رہے ہیں۔ ذیل میں دیکھایا گیا ہے کہ اُن کے کردار ایک کے بعد دوسرے سے کیسے جڑتے چلے گئے۔

قومی اسمبلی کیا ہے؟

وینیز ویلا کے 1999 کے آئین کی رو سے وجود میں آنے والی قومی اسمبلی 165 اراکین پر مشتمل ہے اور یہ اراکین پانچ سال کے لیے “بالغ، براہِ راست، شخصی اور خفیہ” رائے دہی کے ذریعے منتخب کیے جاتے ہیں۔

سال 2000 میں نئے آئین کے تحت ہونے والے انتخابات میں اس وقت کے صدر ہیوگو شاویز کی “یونائیٹڈ سوشلسٹ پارٹی آف وینیز ویلا [پی ایس یو وی] نے قومی اسمبلی کی نشستوں پر بھاری اکثریت حاصل کی۔ تاہم اس کے بعد آنے والی دہائی میں قومی اسمبلی میں طاقت کا توازن بتدریج حزب اقتدار کے حق میں منتقل ہوتا چلا گیا۔

مادورو  نے قومی اسمبلی کو کس طرح نقصان پہنچایا؟

2013ء میں ہیوگو شاویز کی وفات کے بعد نکولس مادورو قلیل اکثریت سے منتخب ہوا اور اس نے ڈرانا دھمکانا اور ظلم و ستم کرنا شروع کر دیا۔

مارچ 2017 میں مادورو کے خود ساختہ سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی کو اس کے قانون سازی کے اختیار سے محروم کر دیا جس کے نتیجے میں ملک میں ہونے والے بہت سے مظاہروں اور بین الاقوامی مذمت کی ابتدا ہوئی۔

اگست 2017 میں مادورو  نے مبینہ طور پر نیا آئین تیار کرنے کے لیے اپنی “قانون ساز اسمبلی” کا اجلاس طلب کیا۔ اس کی بجائے اس ادارے نے یکطرفہ طور پر جمہوری طرز پر منتخب شدہ قومی اسمبلی کو معطل کرتے ہوئے مادورو کی گرفت کو مضبوط بنا دیا۔

اس کے برعکس قومی اسمبلی نے قانونی کی حکمرانی کو جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ  مادورو کی مخالفت کی۔

گوائیڈو عبوری صدر کیسے بنے؟

مادورو  نے مئی 2018 میں صدارتی انتخابات کا مطالبہ کیا تاہم وینیز ویلا کی حزب مخالف یا تو آمادہ نہ تھی یا شرکت نہیں کر سکتی تھی۔ حزب مخالف کے پانچ سالہ معاہدے کے تحت دسمبر 2018 میں گوائیڈو  نے اپنی باری آنے پر قومی اسمبلی کی صدارت سنبھالی۔

وینز ویلا کے آئین کی شق 350 میں کہا گیا ہے کہ عوام “کسی بھی ایسی حکومت، قانون ساز ادارے یا مقتدرہ سے علیحدگی اختیار کر لیں گے جو جمہوری اقدار، اصولوں اور ضمانتوں کی خلاف ورزی کرے گی یا انسانی حقوق کو پامال کرے گی۔” آئین کی مذکورہ شق کے تحت قومی اسمبلی نے  مادورو  کے 2018ء کے انتخاب کو “غیرقانونی” قرار دیا۔ براعظمہائے امریکہ کی تنظیم، امریکہ، یورپی یونین اور 14 ممالک پر مشتمل لیما گروپ نے قومی اسمبلی کے اس اعلان کی توثیق کی۔

Juan Guaido walking in the center of a throng of people (© Juan Carlos Hernandez/AP Images)
فروری میں خوان گوائیڈو[درمیان میں] وینیز ویلا میں۔ قومی اسمبلی نے جنوری میں انہیں وینیز ویلا کا عبوری صدر بنانے کا اعلان کیا۔ (© Juan Carlos Hernandez/AP Images)
جنوری 2019 میں قومی اسمبلی نے شق 233 کو عمل میں لاتے ہوئے خوان گوائیڈو کے وینیز ویلا کا عبوری صدر بننے کی توثیق کی۔ اس شق میں کہا گیا ہے کہ “جب کوئی منتخب شدہ صدر اپنے فرائض ادا کرنے کے لیے مستقل طور پر دستیاب نہ  ہو … تو قومی اسمبلی کا صدر جمہوریہ کی صدارت کی ذمہ داری سنبھال لے گا اور قومی انتخابات کرائے گا۔”

وینیز ویلا کا مستقبل کیا ہے؟

گوائیڈو نے اپنے عہدے کا حلف اٹھاتے وقت وینیز ویلا میں قومی انتخابات منعقد کرانے اور جمہوریت بحال کرنے کا وعدہ کیا۔ اس کے بعد آج تک دنیا کے 54 ممالک انہیں عبوری صدر کے طور پر تسلیم کر چکے ہیں۔

نصف کرہ ارض کے لیڈروں سے خطاب کرتے ہوئے مئی میں نائب صدر پینس نے کہا، “ہمیں یقین ہے کہ وینیز ویلا ایک دن دوبارہ  آزاد ہو گا، [اور] یہ کہ جمہوریت بحال ہو جائے گی۔ اور ایک بار جب جمہوریت بحال ہوگئی، امریکہ اور عالمی برادری ایک آزاد وینیز ویلا کو ناکام نہیں ہونے دیں گے۔”

یہ مضمون فری لانس مصنف فلپ ترزیان نے تحریر کیا۔