وینیز ویلا کے انتخابات منصفانہ نہیں ہوں گے: او اے ایس

ایک آن لائن اجلاس میں شرکت کرنے والے 36 افراد کمپیوٹروں کی چھوٹی سکرینوں پر دکھائی دے رہے ہیں (Juan Manuel Herrera/OAS)
امریکی ممالک کے ایک ورچوئل اجلاس کے دوران، شرکا نے وینیزویلا میں جمہوریت کی صورت حال کے بارے میں ایک نئی قرارداد پر ووٹ دیئے۔ (Juan Manuel Herrera/OAS)

21 اکتوبر کو امریکی ممالک کی تنظیم (او اے ایس) کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی جس میں یہ اعلان کیا گیا کہ 6 دسمبر کو مادورو کی غیرقانونی حکومت کے وینیز ویلا میں کرائے جانے والے انتخابات جعلی ہوں گے۔

او اے ایس کی جنرل اسمبلی کے ورچوئل اجلاس میں 21 اکتوبر کو اپنے خطاب کے دوران امریکہ کے وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو نے کہا، "ہم سب کو علم ہے کہ ہمیں اپنے نصف کرے کو آزادی کے نصف کرے کی حیثیت سے برقرار رکھنے کے لیے مزید کام کرنا ہے۔ وینیزویلا کے آخری جمہوری ادارے یعنی قومی اسمبلی کو چرانے کے لیے نکولس مادورو کا دسمبر میں انتخابات کرانے کا منصوبہ طاقت کا ایک اور حالیہ ترین غلط استعمال ہے۔”

کولمبیا نے یہ کہتے ہوئے اس قرارداد کو پیش کیا کہ جیسا کہ اس وقت دکھائی دے رہا ہے، وینیزویلا میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات منعقد نہیں کیے جا سکتے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ انتخابات کے آزادانہ اور منصفانہ ہونے "کا دارومدار آزادی، انصاف، غیرجانبداری اور شفافیت کے مطلوبہ حالات کی موجودگی پر ہوگا۔ اس کے ساتھ تمام سیاسی فریقین اور شہریوں کی شرکت اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کی ضمانتیں، اُن کی تنظیموں کے لیے معقول حتمی تاریخیں، اور آزادانہ اور قابل اعتبار بین الاقوامی انتخابی نگرانی کا ہونا بھی ضروری ہے۔”

قرارداد میں غیرقانونی حکومت کی قومی انتخابی قوانین کی خلاف ورزیوں کے بارے میں تشویش کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ قرارداد میں اس نقطے پر زور دیا گیا ہے کہ حکومت انتخابی عمل کو نقصان پہنچانے کی سرگرمی سے کوششیں کر رہی ہے جن کے نتیجے میں وینیزویلا میں جمہوریت کا آخری ادارہ یعنی قومی اسمبلی، ختم ہو جائے گا۔

قرارداد میں قومی اسمبلی کی قانونی حیثیت اور مادورو کی غیرقانونی حکومت کے حملوں سے اسمبلی کے اراکین کو تحفظ دینے کی ضرورت کا ایک بار پھر اعادہ کیا گیا ہے۔

وینیزویلا کے اندر انسانی حقوق کی سنگین اور بگڑتی ہوئی صورت حال پر بات کرتے ہوئے، قرادار میں انسانی بنیادوں پر دی جانے والی امداد کو بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اور کمزور ترین طبقات تک پہنچانے کے لیے فوری اور بلاروک ٹوک رسائی دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

او اے ایس کی جنرل اسمبلی کی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اس سے پہلے کہ جمہوری انتخابات منعقد کیے جا سکیں، وینیزویلا میں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

او اے ایس کے سیکرٹری جنرل، لوئس الماگرو نے کہا، "ہمیں وینیزویلا میں جمہوریت کو بچانا چاہیے۔”