ویٹی کن کے ساتھ سفارتی تعلقات کے 35 سال

اس سال، امریکہ اور ویٹی کن اپنے سفارتی تعلقات کے قیام کی 35ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ یہ اشتراک امن، انصاف اور انسانی وقار پر مبنی ہے۔  ویٹی کن کو “ہولی سی” بھی کہا جاتا ہے۔

واشنگٹن میں قائم امریکی سفارت کاری کے مرکز میں ایک نمائش کا اہتمام کرکے، محکمہ خارجہ یہ سالگرہ منا رہا ہے۔ اس نمائش میں امریکہ اور ویٹی کن کے درمیان اشتراک کے نمایاں لمحات کو اجاگر کیا گیا ہے۔

صدر رونالڈ ریگن نے پوپ جان پال دوئم کے ساتھ ملاقات کرنے کے لیے 1982ء میں کیتھولک کلیسا کے دارالحکومت ویٹی کن سٹی کا دورہ کیا۔ 1984ء میں انہوں نے امریکہ اور ویٹی کن کے درمیان باضابط طور پر سفارتی تعلقات قائم کیے۔

امریکہ کی سفیر کیلیسٹا ایل گنگرچ نے نمائش کا افتتاح کرتے ہوئے کہا، “ایسا کرکے، انہوں نے اُس بندھن کا اقرار کیا جس میں دونوں ممالک کے قیام کے وقت سے ہم، بندھے چلے آ رہے ہیں۔”

Pope John Paul II and Ronald Reagan walking on tarmac with others (© Scott Stewart/AP Images)
پوپ جان پال دوئم امریکی ریاست الاسکا کے شہر فیئر بینکس میں مئی 1984 میں اپنی آمد کے بعد صدر رونالڈ ریگن، درمیان میں دائیں طرف، کے ہمراہ چل رہے ہیں۔ ویٹی کن میں امریکی سفارت خانہ اپریل 1984 میں کھلا۔ (© Scott Stewart/AP Images)

2017ء میں اپنی تعیناتی کے بعد سے لے کر اب تک، گنگرچ نے سفارت خانے کی توجہ مذہبی آزادی، انسانوں کے بیوپار اور کیتھولک کلیسا میں عورتوں کے کردار پر مرکوز کر رکھی ہے۔

2019ء میں امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے سفارت خانے کی دو اعزاز یافتگان کو خراج تحسین پیش کیا۔ اِن میں سے ایک سسٹر اورلا ٹریسی ہیں جنہوں نے جنوبی سوڈان میں لڑکیوں کی تعلیم اور اُن کی کم عمری کی شادیوں کے خلاف تحفظ دینے کی اپنی جراتمندانہ کوششوں کی وجہ سے “جراتمند خواتین کا بین الاقوامی ایوارڈ” حاصل کیا۔ دوسری خاتون سسٹر گیبریلا بوتانی ہیں جنہوں نے دنیا میں انسانوں کے بیوپار کے خلاف کام کرنے والی “ٹالیتھا کم” نامی تنظیم کی سربراہ کی حیثیت سے “انسانوں کے بیوپار کے ہیرو” نامی ایوارڈ حاصل کیا۔

2  اکتوبر کو امریکہ کا سفارت خانہ اور ویٹی کن ایک مشترکہ مجلس مذاکرہ کی میزبانی کریں گے۔ اس مجلس مذاکرہ کی توجہ کا مرکز یہ امور ہوں گے: حکومتیں مذہبی تنظیموں کے ساتھ مل کر مذہبی آزادی کا دفاع کس طرح کر سکتی ہیں، انسانی بیوپار کو کس طرح روک سکتی ہیں، اور انسانی بنیادوں پر امداد کیسے فراہم کی جا سکتی ہے۔ یہ مجلس مذاکرہ جولائی میں واشنگٹن میں مذہبی آزادی پر ہونے والی دینی علما کی کانفرنس کا براہ راست نتیجہ ہے۔

اقوام متحدہ کے 2018ء میں ہونے والے ایک اجلاس میں گنگرچ نے کہا، “کیتھولک کلیسا کی آفاقی پہنچ اسے ایک مثالی اتحادی بناتی ہے۔ بھروسہ پیدا کرنے، مقامی کمیونٹی کے ساتھ کام کرنے، اور تبدیلی لانے کی اس کی اہلیت کسی بھی دوسرے ملک کی نسبت بڑی منفرد ہے۔”