ویکسین نے پولیو اور چیچک سمیت بہت سی مہلک بیماریوں پر قابو پانے بلکہ ان کا خاتمہ کرنے میں مدد دی ہے۔ اب کووِڈ۔19 بیماری کی روک تھام کے لیے ویکسین کی تلاش جاری ہے ۔ اس وبا نے دنیا بھر میں 20 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔

کووِڈ۔19 کی ویکسین تیار کرنے کی کوشش میں مصروف سائنس دان دنیا بھر میں وبائی بیماریوں سے ہونے والے نقصان کو محدود رکھنے کے لیے امریکہ کی دیرینہ کوششوں کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

1955 میں ایک امریکی معالج، طبی محقق اور متعدی امراض کے ماہر جونس سلک نے پولیو ویکسین دریافت کی۔ اس سے پہلے یہ بیماری ہر سال لاکھوں بچوں کو معذور بنا دیتی تھی۔ اس ویکسین کی بدولت دنیا بھر میں یہ بیماری قریباً ختم ہو چکی ہے۔ امریکہ میں بیماری پر قابو پانے اور اس کی روک تھام کے مراکز (سی ڈی سی) کے مطابق 1988 اور 2013 کے درمیان پولیو کے متاثرین میں 99 فیصد کمی واقع ہوئی۔

1963 میں نوبیل انعام یافتہ امریکی بائیومیڈیکل سائنس دان جان اینڈرز نے خسرے کی ویکسین تیار کی۔ اس سے پہلے یہ بیماری ہر سال دنیا بھر میں اندازاً 26 لاکھ لوگوں کو ہلاک کر دیتی تھی۔ آج اس بیماری کے متاثرین کی تعداد بہت کم رہ گئی ہے۔ سی ڈی سی کے مطابق 2018 میں خسرے سے دنیا بھر میں قریباً ایک لاکھ 42 ہزار اموات ہوئیں۔

اب امریکی موجدین کووِڈ۔19 کا علاج ڈھونڈنے میں سب سے آگے ہیں۔ شائع شدہ اطلاعات کے مطابق اس بیماری کی جو تین ممکنہ ویکسینیں انسانوں پر آزمائی جا رہی ہیں ان میں دو امریکہ کے محققین کی تیار کردہ ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کی اطلاعات کے مطابق یونیورسٹی آف میری لینڈ کے سکول آف میڈیسن کے سائنس دان بھی ان ماہرین میں شامل ہیں جو یہ اندازہ لگا رہے ہیں کہ جب تک کووِڈ۔19 کی ممکنہ ویکسینیں تیاری کے مراحل میں ہیں تو کیا پولیو ویکسین جیسی موجودہ دوائیں لوگوں میں قوت مدافعت بڑھا کر زندگیاں بچا سکتی ہیں۔

امریکی طبی محققین درج ذیل بیماریوں کے علاج بھی ڈھونڈ رہے ہیں:

مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سنڈروم (مارز)

زمین پر بیٹھے ہوئے اونٹ۔ (© Hiro Komae/AP Images)
سائنسدانوں نے ایک کوہان والے اونٹوں میں مارز وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز کی نشاندہی کی ہے جو اس بیماری کی ویکسین تیار کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ (© Hiro Komae/AP Images)

مارز بیماری پہلی مرتبہ 2012 میں جزیرہ نما عرب میں انسانوں میں ظاہر ہونے کے بعد 2014 میں امریکہ میں پھیلی تھی۔ سائنس دانوں نے یہ جانا کہ کیسے مارز-کوو نامی یہ وائرس بیماری کا باعث بنتا ہے اور پھر اس کی ممکنہ ویکیسنیں تیار کرنا شروع کیں۔

الرجی اور وبائی بیماریوں سے متعلق قومی ادارے (این آئی اے آئی ڈی) کا کہنا ہے کہ کووِڈ۔19 کی ایک ممکنہ ویکسین کو فوری طور پر مریضوں کے علاج کے تجربات کے لیے بھیجا گیا کیونکہ یہ مارز کے لیے بنائی گئی ممکنہ ویکیسن سے اخذ کی گئی ہے۔

ایبولا

خاتون طبی کارکن ایک آدمی کے بازو میں ٹیکہ لگا رہی ہے۔ (© Pamela Tulizo/AFP/Getty Images)
نومبر 2019 میں جمہوریہ کانگو کے شہر گوما میں ایک طبی کارکن، ڈاکٹر جین جیکوئس مویمبو ٹیمفم کو ایبولا کے خلاف حفاظتی ٹیکہ لگا رہی ہے۔ (© Pamela Tulizo/AFP/Getty Images)

ایبولا وائرس کی بیماری بخار، اندرونی اعضا میں خون رسنے اور موت کا باعث بن سکتی ہے۔ یہ وائرس جسمانی مائعات کے ذریعے انسانوں میں پھیلتا ہے۔ بنیادی طور پر اس بیماری کی وبائیں افریقہ میں پھوٹتی ہیں۔ حال ہی میں ایسی وباء جموریہ کانگو میں پھیلی جہاں 2018 سے اب تک یہ بیماری 2100 سے زائد افراد کی جانیں لے چکی ہے۔

ایبولا کے خلاف امریکی دوا ساز کمپنی میرک کی تیار کردہ ویکسین کی منظوری امریکی اور یورپی ضابطہ کاروں نے حال ہی میں دی۔ اگست 2018 میں اس بیماری کی تازہ ترین وبا پھوٹنے کے بعد اب تک امریکہ اس کے خلاف اقدامات کی کوششوں میں سب سے زیادہ عطیات دینے والا ملک ہے۔

زیکا

انسانی خون پیتے ہوئے مچھر کی قریب سے لی گئی تصویر۔ (© James Gathany/CDC/AP Images)
ایسے ایڈیز ایجپٹائی مچھر زیکا، چکن گونیا، ڈینگی بخار اور دوسری سنگین بیماریاں پھیلاتے ہیں۔ (© James Gathany/CDC/AP Images)

زیکا وائرس ابتداً مچھروں سے پھیلا اور اس کے نتیجے میں 2015 اور 2016 میں مغربی کرے میں ہزاروں بچے پیدائشی نقائص کے ساتھ پیدا ہوئے۔

امریکی محکمہ دفاع کے والٹر ریڈ آرمی انسٹیٹیوٹ آف ریسرچ نے زیکا کی ویکسین تیار کرنے کے لیے تیزی سے پیشرفت کی اور 2016 کے اواخر میں ممکنہ علاج کے لیے اس کے مریضوں کے علاج کے تجربات کا آغاز کیا۔

‘این آئی اے آئی ڈی’ کے سائنس دانوں نے ایک تجرباتی ویکسین تیار کی اور مارچ 2017 میں اس کے مریضوں کے علاج کے تجربات شروع کیے۔

ملیریا

ماں کے بازوؤں میں پکڑے ایک بچے کو ایک خاتون ٹیکہ لگا رہی ہے۔ (© Joseph Oduor/AP Images
ستمبر 2019 میں کینیا کی ہوما بے کاؤنٹی میں طبی خاتون کارکن ایک بچے کو ملیریا کا حفاظتی ٹیکہ لگا رہی ہے۔ (© Joseph Oduor/AP Images

ملیریا بھی مچھر سے پھیلنے والی ایک بیماری ہے جس سے دنیا کی قریباً نصف آبادی یعنی تین ارب 20 کروڑ افراد کو خطرہ ہے۔ 2005ء میں صدر جارج ڈبلیو بش کی جانب سے ‘ملیریا اقدام” کے شروع کرنے سے پہلے یہ بیماری افریقہ میں ہر سال سات لاکھ افراد کی جانیں لے لیتی تھی۔ 2017 تک ملیریا سے ہونے والی اموات کی تعداد نصف ہو کر تین لاکھ سالانہ پر آ گئی۔

امریکی محکمہ دفاع ملیریا کی ممکنہ ویکسین کی تیاری کے لیے کوشاں نجی کمپنیوں کے ساتھ کام کرتا ہے اور حال ہی میں اس نے ایسی ہی ایک ویکسین کے مریضون پر تجربات کیے ہیں۔

تپ دق

لیبارٹری میں ایک امتحانی نلکی کو بھرتے ہوئے ایک آدمی کی 1947ء کی تصویر۔ (© AP Images)
سائنس دان نئی ویکسین پر تحقیق کرتے ہوئے ٹی بی اور پولیو کی ویکسین کا بھی دوبارہ جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ اندازہ ہو سکے کہ آیا یہ کووِڈ۔19 کے خلاف بھی تحفظ مہیا کرتی ہیں۔ (© AP Images)

ٹی بی ایسے جراثیموں سے لاحق ہوتی ہے جو پھیپھڑوں پر حملہ کرتے ہیں۔ جب اس بیماری کا کوئی مریض چھینکتا یا کھانستا ہے تو اس کے منہ سے نکلنے والے جراثیم ہوا میں پھیل جاتے ہیں۔ یہ بیماری ہر سال 15 لاکھ افراد کو ہلاک کرتی ہے اور دنیا میں وبائی بیماری سے ہونے والی اموات کے مقابلے میں ٹی بی نے ایڈز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

موجودہ ویکسین کی تاثیر محدود ہوتی ہے۔ اسی لیے این آئی اے آئی ڈی’ ویکسین اور علاج کے سلسلے میں مالی معاونت فراہم کرتا ہے۔ بہت سی ممکنہ ویکسینوں کے جانوروں پر تجربات کامیاب رہے ہیں اور ان کے مریضوں پر تجربات جاری ہیں۔ 2019 میں خوراک اور دواؤں کی امریکی انتظامیہ نے 40 برس میں انسداد ٹی بی کی تیسری دوا کی منظوری دی جو ایسے مریضوں کے لیے امید کی کرن ہے جنہیں کبھی ناقابل علاج سمجھا جاتا تھا۔