ڈونلڈ ٹرمپ ایک پوڈیم کے پیچھے رائین پریبس سے ہاتھ ملا رہے ہیں (© AP Images)
نو منتخب صدرڈونلڈ ٹرمپ، رائین پریبس سےہاتھ ملا رہے ہیں جبکہ نو منتخب نائب صدر مائیک پینس انہیں دیکھ رہے ہیں۔ (© AP Images)

نو منتخب صدر ڈونلڈ  ٹرمپ نے اپنے کلیدی عملے کے پہلے دو افراد کی تقرریاں کی ہیں۔

انہوں نے ری پبلکن نیشنل کمیٹی کے چئیرمین، رائین پریبس کو وائٹ ہاؤس میں اپنا چیف آف سٹاف نامزد کیا ہے اور انتظامیہ مخالف برائیٹ بارٹ نیوز کے ایک ایگزیکٹیو، سٹیفن بینن کو حکمت عملی کا سربراہ اور سینیئر مشیر مقررکیا ہے۔

رائین پریبس ری پبلکن پارٹی کے اہل کار ہیں اور انہیں واشنگٹن کی اس انتظامیہ کا گہرا تجربہ حاصل ہے جس میں ٹرمپ نے وسیع  تبدیلیاں لانے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ جبکہ بینن نے برائیٹ بارٹ نیوز سائٹ کے پارٹی کے انتظامیہ مخالف شعبے کو ایک ایسی موثر آواز میں تبدیل کرنے میں مدد کی جس نے آج کے تاجر کے سیاسی عروج کو توانائی بخشی۔

ٹرمپ نے 13 نومبر کو کہا، “سٹیو اور رائین قابل لیڈر ہیں۔ دونوں نے ملکر ہماری انتخابی مہم کے دوران بہت اچھا کام کیا اور ایک تاریخی فتح حاصل کرنے میں ہماری قیادت کی۔ اب جبکہ  ہم امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے کے  لیے کام کرنے جا رہے ہیں تو میں ان دونوں  کو وائٹ ہاؤس میں اپنے ساتھ رکھوں گا۔”

سوٹ میں ملبوس مسکراتا ہوا ایک شخص (© AP Images)
سٹیو بینن (© AP Images)

پالیسی سازی میں چیف آف سٹاف کا خاص طور پر اہم کردار ہوتا ہے۔ وہ کابینہ کی ایجنسیوں کے ساتھ ایک رابطہ کار کے فرائض انجام دیتا ہے اور یہ فیصلہ کرتا ہے کہ وہ کونسی اطلاع ہے جسے صدر کی میز پر پہنچنا چاہیے۔ چیف آف سٹاف عام طور پر ان افراد میں شامل ہوتا ہے جو اہم  فیصلے کرتے وقت صدر کے ساتھ کمرے میں آخر تک موجود رہتا ہے۔

پریبس کی تقرری ایک روایتی انتخاب ہے۔ اس کا مقصد کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت رکھنے والی ری پبلکن پارٹی کے اراکین کو راضی رکھنا ہے تا کہ ٹرمپ اپنے قانون سازی کے ایجنڈے کو منظور کرا سکیں۔

ایوان نمائیندگان کے ری پبلکن سپیکر پال رائن نے ٹوئیٹ کیا، ” مجھے فخر ہے اورمیں اپنے دوست @Reince کے لیے بہت خوش ہوں۔ مبارک ہو۔” رائن نے اس سے پہلے سی این این کو  بتایا کہ وہ بینن  کو نہیں جانتے  لیکن، “مجھے ٹرمپ کی فیصلہ سازی پر اعتماد ہے۔”