ٹکنالوجی سے امریکی مصنوعات سازی میں انقلابی تبدیلی

اسمبلی لائن پر کاریں بناتے ہوئے روبوٹ۔ (© Shutterstock)
(© Shutterstock)

کئی دہائیوں تک مارلِن سٹیل پروڈکٹس کے کاریگر لوہے کی تاروں کی ہر ایک ٹوکری اپنے ہاتھوں سے بناتے رہے۔ آج وہ جدید ٹکنالوجی سے لیس مشینیں استعمال کرتے ہیں جنہوں نے سارے عمل کو خودکار بنا دیا ہے۔ اس تبدیلی نے مارلِن سٹیل کو نئی مصنوعات تیار کرنے اور 1999ء کے مقابلے میں اس کی سیل (بِکری) میں آٹھ گنا اضافہ کر دیا ہے۔

مارلِن سٹیل کے صدر ڈریو گرین بلیٹ نے کہا، “خودکاری انتہائی اہم ہے۔ دنیا معیار اور مکمل درستگی مانگتی ہے۔” انہوں نے کہا کہ مصنوعات ساز جان گئے ہیں کہ صحیح وسائل کے ساتھ وہ ایسا مال فراہم کر سکتے ہیں جس کا مارکیٹ تقاضہ کرتی ہے۔

مارلِن سٹیل سمارٹ مصنوعات سازی کی جانب امریکہ میں اُس تبدیلی کا حصہ ہے جو روبوٹکس اور خودکاری کو مربوط کرتی ہے۔ فیکٹریوں کے زیرک مالکان زیادہ سے زیادہ اختراعات لے کے آ رہے ہیں اور اعلٰی مہارتوں کے حامل افراد کو ملازمتیں دے رہے ہیں۔

عالمی مصنوعات سازی کی تبدیل ہوتی ہوئی معیشت پر نظر رکھنے والے بوسٹن کے ایک مشاورتی گروپ کے مینیجنگ ڈائریکٹر جسٹن روز کا کہنا ہے، ” اختراعات پیداوار کو بڑہاتی ہیں۔ (ہمارا) ملک فروخت کے لیے زیادہ قیمتوں والی مصنوعات ڈیزائن کرکے اور انہیں بنانے کے زیادہ موثر طریقے اور تکنیکیں ڈھونڈ کر، پہلے ہی ڈرامائی طور پر اختراعات متعارف کرا چکا ہے۔”

امریکہ کے محنت کے شماریاتی بیورو کے مطابق گزشتہ 30 برسوں میں امریکہ میں مصنوعات کی پیداوار کم و بیش دگنا ہو چکی ہے۔

امریکہ مییں مصنوعات کی پیداوار میں اضافہ دکھانے والا گراف۔  (State Dept./S. Gemeny Wilkinson)

گرین بلیٹ نے بتایا کہ مارلِن سٹیل میں جدید طریقوں کے استعمال سے آج کل لوہے کی تاروں کو ایک گھنٹے میں 25,000 بل دیئے جاتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں جب ہاتھوں سے یہ کام کیا جاتا تھا تو ایک گھنٹے میں 300 بل دیئے جاتے تھے۔ اس سے بھی بڑھ کر اہم بات یہ ہے کہ یہ کام محفوظ اور مکمل درستگی کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔

مارلِن سٹیل اُن افراد کو ملازم رکھتی ہے جو ایسی مصنوعات ڈیزائن کرنے پر اپنا وقت خرچ کرتے ہیں جنہیں صرف خودکار نظام کے تحت ہی بنایا جا سکتا ہے۔ گرین بلیٹ نے بتایا، “ہماری ٹیم کا 20 فیصد (کالج سے ڈگریوں یافتہ) انجنیئروں پر مشتمل ہے جو نِت نئی چیزیں ڈیزائن کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ اب تک پانچ پیٹنٹ حاصل کیے جا چکے ہیں اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔

مصنوعات سازی کی سائنسوں کے قومی مرکز کی صدر، لیزا سٹراما کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے امریکہ کی کمپنیاں سمارٹ مصنوعات سازی کو اپناتی چلی جائیں گے ویسے ویسے پیداوار میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ انہوں نے کہا، “مسابقت کے نقطہ نظر سے میں امریکہ کے اندر بہت سا انتہائی اختراعی کام ہوتا ہوا دیکھ رہی ہوں۔ صنعت، ماہرین تعلیم اور حکومت اکٹھے مل کر شراکت کاری کر رہے ہیں اور ایسی ٹکنالوجیاں تیار کر رہے ہیں جو نئی سرحدوں کو چھو رہی ہیں۔”

خودکاری کے فروغ کی ایسوسی ایشن کے صدر، جیف برنسٹین اس طرف توجہ دلاتے ہیں کہ امریکہ سسٹمز کو مربوط بنانے کے طریقوں، مصنوعی ذہانت، ورچوئل ریئلٹی (انٹرنیٹ پر چیزوں کو حقیقی شکل میں دکھانے) اور مشین لرننگ (مشینیوں کے خود بخود سیکھنے) کے شعبوں میں دنیا کی راہنمائی کرتا چلا آ رہا ہے۔ یہ سب چیزیں مصنوعات سازی کو بہتر بنانے میں مدد گار ثبت ہوتی ہیں۔

نئی امریکی کمپنیاں سمارٹ مصنوعات سازی کے آلات تیار کر رہی ہیں۔ اس کی ایک مثال میری لینڈ کی ٹیمپل ایلن انڈسٹریز نامی کمپنی ہے۔ یہ کمپنی سینڈنگ (کھردری سطحوں کو ہموار) کرنے والی مشینیں بناتی ہے جنہیں سمارٹ فیکٹریوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ٹیمپل ایلن کی جنرل مینیجر چیلی برائن کہتی ہیں، “سینڈنگ کو زیادہ محفوظ اور اسے امریکی مزدوروں کے لیے تیزی سے کام کرنے والا عمل بنا کر ہم اس کام کو امریکہ کے اندر رکھنے کے قابل ہو گئے ہیں۔”

برسٹین کا کہنا ہے، “امریکہ میں لگائی جانے والی بہت سی نئی فیکٹریاں سمارٹ مصنوعات سازی کی ٹکنالوجیوں کو کسی نہ کسی شکل میں اپنا رہی ہیں۔ اگر ہم مقابلہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اِن ٹکنالوجیوں کو اپنانا ہوگا۔ کمپنیوں کی ایک روزافزوں تعداد اس بات کو تسلیم کرنے لگی ہے۔”

یہ مضمون فری لانس مصنفہ لنڈا وینگ نے لکھا۔ سٹاف رائٹر ایملی براؤن نے اُن کا ہاتھ بٹایا۔