امریکہ نے کمپنیوں کی یہ یقینی بنانے کے لیے ایک ہدایت نامہ جاری کیا کہ جابرانہ حکومتیں اُن کی سکیورٹی کی ٹکنالوجیوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال نہ کریں اور نہ ہی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور پامالیوں میں استعمال نہ کیا جائے۔

نئے  ہدایت نامے میں وہ احتیاطی تدابیر فراہم کی گئی ہیں جن پر کمپنیوں کو  مخصوص ٹکنالوجیوں کی فروخت سے پہلے غور کرنا چاہیے۔ اسی طرح اِس ہدایت نامے میں ٹکنالوجیوں کی فروخت کے وقت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں یا پامالیوں کے خطرے کو کم کرنے کے لیے سفارشات بھی تجویز کی گئی ہیں۔

محکمہ خارجہ کے سکاٹ بزبی نے یکم اکتوبر کو ایک بریفنگ کے دوران اس ہدایت نامے کے اجرا کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نگرانی کرنے والی ٹکنالوجیوں کی صلاحیتوں میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ جابر حکومتیں ایسے آلات کا اختلاف رائے کو دبانے، اقلیتی گروہوں کو ڈرانے دھمکانے، اور سیاسی مخالفین، انسانی حقوق کا دفاع کرنے والوں اور دیگر گروہوں کو نشانہ بنانے کے لیے اکثر غلط استعمال کرتی ہیں۔

بزبی نے کہا، "اس طرح کی (ٹکنالوجیوں کی) ایپلی کیشنز کے استعمال سے  سماجی، معاشی، یا سیاسی کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ڈیٹا کے استعمال اور لوگوں کی زندگیاں اور سلامتی بڑہانے کے لیے اس طرح کے ڈیٹا کے استعمال میں بہت بڑا فرق ہے۔”

"ہمارے لیے اعلٰی معیارات اور اقدار کے فروغ کے لیے اس طرح کے غلط استعمال کے خلاف تحفظ فراہم کرنے والوں کے لیے  واحد طریقہ، امریکی کاروباروں کی شراکت داری سے کام کرنا ہے۔”

چینی کمیونسٹ پارٹی یا سی سی سپی، شنجیانگ میں ویغوروں اور  دیگرنسلی اور مذہبی اقلیتوں پر کیے جانے والے جبر میں اور اُن کی نگرانی میں مدد حاصل کرنے کے لیے نجی شعبے کے تیار کردہ آلات استعمال کرتی ہے۔ اسی طرح سی سی پی دیگر آمرانہ حکومتوں کی شہریوں پر نظر رکھنے اور پرامن اظہار رائے پر سزا دینے میں مدد کرنے کے لیے جاسوسی کے آلات برآمد بھی کرتی ہے۔

ایرانی حکومت نے ملکی انٹرانیٹ تعمیر کرنے کے لیے کم از کم 4.5 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں تاکہ ایرانیوں کی انٹرنیٹ تک رسائی پر پابندیوں کو مزید سخت کیا جا سکے۔

اقوام متحدہ کے کاروبار اور انسانی حقوق سے متعلق راہنما اصولوں کو عملی جامہ پہنانے سے متعلق سفارشات کے طریقوں کے محکمہ خارجہ کے ہدایت نامے میں تنبیہ کی گئی ہے کہ آمرانہ نظام کے حامل ممالک سے جڑی حکومتیں اور کمپنیاں قانونی خدمات یا سافٹ ویئروں کو جبر کے لیے استعمال کر سکتی ہیں۔

اس ہدایت نامے میں تھرمل یعنی حرارتی کیمروں، سوشل میڈیا کے تجزیاتی طریقوں، اور ڈی این اے کی سلسلہ بندی کی کٹوں کا حوالہ ایسی مصنوعات کی مثالوں کے طور پر دیا گیا ہے جنہیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں یا پامالیوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس ہدایت نامے کے مطابق جب کسی ملک میں عدلیہ آزاد نہ ہو، وہ ملک نجی کمپنیوں کو حساس ڈیٹا شیئر کرنے پر مجبور کرتا ہو یا انسانی حقوق کی پامالیوں کی تاریخ رکھتا ہو تو یہ سب امور حساس ٹکنالوجی کی مصنوعات کی فروخت کے وقت خطرات کی نشانیوں کا پتہ دیتے ہیں۔

جولائی میں امریکی حکومت نے شنجیانگ سپلائی چین بزنس ایڈوائزری (شنجیانگ رسدی سلسلے سے متعلق ایک تجارتی ہدایت نامہ) جاری کی تھی۔ اس میں کاروباری راہنماؤں کے نام ایک کھلا خط جاری کیا گیا جس میں اُن چینی کمپنیوں کے ساتھ کاروبار کرنے کے قانونی، معاشی اور نیک نامی کے حوالے سے خطرات کے بارے میں متنبہ کیا گیا تھا جو سی سی پی کی جبری مشقت، اجتماعی حراست اور ویغور اور دیگر نسلی اور مذہبی اقلیتوں پر کیے جانے والے ظلم و جبر کی مہم میں معاونت کرتی ہیں۔

بزبی نے کہا، "امریکی کاروباروں کی ٹکنالوجی کی قیادت جتنی اہم آج ہے اتنی اہم پہلے کبھی نہیں تھی۔ ہمیں ایسی جدت طرازیوں کو فروغ دیتے رہنا چاہیے جو انسانی حقوق کے بارے میں ہماری سوچ کی تکمیل کرتی ہیں۔”