پاکستان کی ایک تاریخی مسجد کا چوک عوام کے لیے ایک بار پھر کھل گیا۔

مغلیہ دور کی  شاہکار17ویں صدی کی لاہور کی مسجد وزیر خان کا شمار، پاکستان کے فنِ تعمیر کے ہیروں میں ہوتا ہے۔ لیکن مسجد کے سامنے موجود چوک سالوں تک نظر انداز کیا جاتا رہا۔

آج ایسا نہیں ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے “ثقافتی بحالی کے سفیروں کے فنڈ” کی بدولت اسے انتہائی جانفشانی اور سخت محنت کے بعد  بحال کر دیا گیا ہے۔

اندرونِ لاہور کے تاریخی و ثقافتی مرکز میں واقع اس مسجد میں داخل ہونے کے لیے مرصّع محراب والا داخلی راستہ  چوک کے عین اوپر واقع ہے۔

اندرونِ لاہور کے لیے قائم کیے جانے والے ادارے نے 2012 میں نظر انداز کیے گئے چوک کی بحالی کا فیصلہ کیا۔ آغا خان کلچرل سروس، پاکستان کے ماہرین کی رہنمائی میں تحفظاتی عملے نے بحالی کا ایک منصوبہ تیار کیا۔

ثقافتی بحالی کے سفیروں کے فنڈ نے اندرونِ لاہور کے لیے قائم ادارے اور آغا خان کلچرل سروس کے ساتھ مل کر  12 لاکھ امریکی ڈالر مالیت کے اس منصوبے پر دستخط کیے۔

At left, two men working on brick ceiling area; at right, row of seated men with tools by a wall (U.S. Consulate General Lahore)
بحالی کے کام کے دوران کاریگر اندرونی چھت اور دیواروں کو صاف کرنے کے لیے کھرچ رہے ہیں۔ (U.S. Consulate General Lahore)

2001 میں قائم ہونے والے سفیروں کے اس فنڈ  کے تحت ابھی تک 125 ممالک میں تقریبا 900 منصوبوں کے لیے پانچ  کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اس رقم سے ثقافتی مقامات، نوادرات اور روایتی اظہار کی علامات کے تحفظ کے کام کیے گئے ہیں۔

کانگریس نے سفیروں کے فنڈ کے قیام کے قانون میں کہا، ” ثقافتی تحفظ ہمیں دوسرے ممالک کے سامنے امریکہ کا ایک مختلف چہرہ لانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ایک ایسا چہرہ جو کہ غیر تجارتی، غیر سیاسی، اور غیر فوجی ہے۔ ثقافتی ورثے کے تحفظ میں قائدانہ کردار اپنا کر اور دوسری ثقافتوں کی روایات کا تحفظ کرکے اہم پنے ادط اور احترام کا اظہار کرتے ہیں۔”

نومبر2017 میں چوک کو دوبارہ کھولنے کی تقریب کے موقع پر امریکہ کی اس وقت کی قونصل جنرل، ایلزبتھ کینیڈی ٹروڈیو نے کہا کہ وزیر خان چوک “شہر کی شاندار اور تہہ در تہہ تاریخ کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے۔”

بحالی کے اس کام میں 20 مہینے لگے۔ اس دوران مزدورں نے ڈھائی میٹر تک کھدائی کی تاکہ سڑک کی موجودہ سطح کو چوک کے سامنے والے صحن کی اصلی سطح سے الگ کیا جا سکے۔ انہوں نے اس کے ارد گرد ایک حفاظتی دیوار بھی تعمیر کی۔

چوک کے شمال مشرقی حصے میں واقع انیسویں صدی کے تاریخی دینا ناتھ کے کنوئیں کو بھی محفوظ بنایا گیا۔

Courtyard and buildings with arches and towers (U.S. Consulate General Lahore)
وزیرخان مسجد اور اس کے چوک کا ایک فضائی منظر۔ (U.S. Consulate General Lahore)

یہ چوک اب نماز کے بعد میل جول کی جگہ کے طور پر استعمال ہونے کے ساتھ ساتھ کمیونٹی اور ثقافتی اجتماعات کی میزبانی بھی کرتا ہے۔ لاہور میں مارچ میں ہونے والا پاکستان کا پہلا ششماہی آرٹ فیسٹیول بھی اسی چوک میں منعقد کیا گیا تھا۔ زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو اپنی طرف راغب کرکے یہ تاریخی مقام لاہور کی معیشت کو بھی فروغ دے رہا ہے۔

وزیر خان چوک سفیروں کے فنڈ کی مدد سے پاکستان میں مکمل ہونے والے 19 منصوبوں میں سب سے بڑا منصوبہ ہے اور اس کی کامیابی اس بات کی غماض ہے کہ یہ آخری منصوبہ نہیں ہو گا۔