پرانی شاہراہیں اور ریلوے لائنیں: باغات اور راہداریوں میں تبدیل

جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول کے لوگ شہر سے بلندی پر واقع ایک خوبصورت پارک سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

یہ پارک اِس لیے وہاں واقع ہے کہ شہر کے حکام نے ایک متروک ‘اوور پاس’ [ یعنی پل] کو گرانے کی بجائے اسے کسی اور مقصد کے لیے استعمال میں لانے کا فیصلہ کیا۔ نتیجتاً شہر کی فضا میں قریباً ایک کلومیٹر لمبا پارک وجود میں آیا جس میں 24 ہزار سے زیادہ پودے، پھول اور درخت ہیں۔ اس پارک میں چہل قدمی کرنے والوں کے لیے کتابوں کی دکانوں کے اندر بنائے گئے کیفے، پتلی تھیٹر اور کھانے پینے کی دکانیں بھی موجود ہیں جہاں کمباپ (سمندری پودے سے بنا چاولوں کا رول) جیسی چیزیں فروخت ہوتی ہیں۔ رات کے وقت یہ پارک نیلی ایل ای ڈی روشنیوں سے جھلملا اٹھتا ہے۔

سیئولو کا مطلب ہے سیئول روڈ۔ اس پارک کا نام سیئولو 7017 ہے جو اس اوور پاس کی تعمیر کے سال (1970) اور اس پارک کے افتتاح (2017) کی مناسبت سے رکھا گیا ہے۔

اس منصوبے کے انچارج، کون وان ٹیک نے واشنگٹن پوسٹ کو انٹرویو میں بتایا، "پیدل چلنے والوں کو سرسبز جگہ کی ضرورت ہوتی ہے مگر نئی جگہ کا ڈھونڈنا بہت مہنگا پڑتا ہے۔ چنانچہ پرانی تعمیرات کو گرانے کے بجائے انہیں سرسبز بنانا کہیں زیادہ باکفایت ہوتا ہے۔”

نیویارک کی بلند ریلوےلائن

People walking along an elevated pathway (© Washington Post via Getty Images)
(© Washington Post via Getty Images)

دیگر شہروں کی طرح سیئول نے بھی نیویارک سٹی کے ایک عوامی پارک سے متاثر ہو کر، اپنے ہاں پارک بنایا۔ نیویارک میں 2009ء میں بننے والا پارک، مال بردار ٹرینوں کی ایک متروک پٹڑی کی جگہ بنایا گیا ہے۔

مین ہٹن کی مغربی سمت میں سڑکوں اور گلیوں کے اوپر واقع یہ پارک 2.3 کلومیٹر لمبا اور 2.7 ہیکٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس پارک میں دنیا بھر سے دورِ حاضر کے آرٹ کے نمونے دکھائی دیتے ہیں جبکہ اِس کے باغوں میں موسیقی اور رقص کے شو منعقد کیے جاتے ہیں۔

اس پارک کے اردگرد خوردہ فروش، رہائشی اور دفاتر پر مشتمل عمارتوں کی تعمیر کو بھی فروغ ملا ہے جس کے نتیجے میں گردوپیش میں جائیدادوں کی قیمتیں بڑھ  گئی ہیں۔

اس پارک کی دیکھ بھال میں مدد دینے والے ‘فرینڈز آف ہائی لائن’ نامی ایک غیرمنفعتی گروپ کے مطابق، 2016 میں 80 لاکھ لوگ اس پارک کو دیکھنے آئے۔ اگلے 20 برسوں میں یہاں ٹیکس کی مد میں ایک ارب ڈالر حاصل ہونے کی توقع ہے۔

ایک رضاکار، الفرڈو ٹیلر وائٹ فرینڈز بلاگ میں لکھتے ہیں، "شہری علاقوں میں سرسبز جگہیں اسی طرح نمایاں اہمیت رکھتی ہیں جیسے کوئی حیات بخش دریا اہمیت رکھتا ہے۔ ہائی لائن پارک بھی اپنے ارد گرد زندگی کی رونقیں لے کر آیا ہے۔”

سڈنی کی مال بردار ٹرینوں کی لائن

Overhead view of paved pathway surrounded by trees and greenery (ASPECT Studios/Florian Groehn)
(ASPECT Studios/Florian Groehn)

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ‘ڈارلنگ ہاربر’ نامی ریلوے کی متروک پٹڑی کو پیدل چلنے والوں اور سائیکل سواروں کے مشترکہ راستے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس راستے کا افتتاح 2015 میں ہوا۔

یہاں جزوی طور پر بلندی پر بنے پارک کو ‘گڈز لائن’ کہا جاتا ہے کیونکہ 19ویں صدی میں یہ ریلوے لائن آسٹریلیا کی اشیا خصوصاً اون، گندم اور کوئلے کو بندرگاہ تک لانے کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔ جہاں سے ان چیزوں کو دنیا بھر میں بھیجا جاتا تھا۔

گڈز لائن پر ٹیبل ٹینس کی میزیں، بیرون خانہ جمنزیم، کام کی جگہیں، ایک ایمفی تھیٹر اور بہت سے ایسے گوشے اور مقام  موجود ہیں جہاں لوگ آرام سے بیٹھ کر کتاب پڑھ سکتے ہیں یا مفت وائی فائی سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

اس منصوبے کے انچارج ساچا کولز کا کہنا ہے، "وہ جگہ جو کبھی تجارتی گزرگاہ ہوا کرتی تھی اب اسے ایک پھلتے پھولتے علاقے کی بیش قیمت اقدار یعنی ثقافت، تخلیق اور سماج کی نقل و حمل کے لیے استعمال کیا جانے لگا ہے۔”

یروشلم کا ٹرین ٹریک پارک

People walking down a promenade (© Shmuel Bar-Am)
(© Shmuel Bar-Am)

پیدل چلنے والوں اور سائیکل سواروں کے راستے اور سات کلومیٹر طویل سیدھا، یہ پارک یروشلم میں اُن سات عرب اور اسرائیلی علاقوں کو باہم جوڑتا ہے جو پہلے ایک دوسرے سے کٹے ہوئے تھے۔

‘ٹرین ٹریک پارک’ متروک جافا- یروشلم ریلوے لائن پر، 2010 اور 2013 کے درمیانی عرصے میں بنایا گیا تھا۔ اس پارک کا ڈیزائن بنانے والے ماہر تعمیرات، شلومی زیوی نے ہاریٹز نیوز کو بتایا کہ چند سال پہلے تک پارک کا علاقہ ‘یروشلم کا کباڑ خانہ’ کہلاتا تھا۔ مگر اب یہاں کے رہائشیوں کو اس جگہ ٹوٹ پھوٹ کے بجائے معاشی امکانات دکھائی دیتے ہیں۔”

زیوی کہتے ہیں کہ اس پارک کی تعمیر کے فوراً بعد "ایک وقت میں بیت صفافہ (عرب علاقہ) میں … انہوں نے ہمیں پارک کے ساتھ ساتھ باڑ لگانے کو کہا تھا۔ مگر اب وہ ہمیں یہ باڑ ہٹانے کا کہہ رہے ہیں کیونکہ وہ وہاں کیفے کھولنا چاہتے ہیں۔”

ٹرین ٹریک پارک کے ساتھ  آباد بستیوں کے لوگوں نے یہاں کھلی لائبریریاں بھی بنائی ہیں جہاں گرمیوں کے مہینوں میں کتابوں کے عطیات دیے جاتے ہیں  اور آپس میں ان کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔