پراگ میں ملکوں کا فائیو جی کی سکیورٹی پر اتفاقِ رائے

5G (© Manu Fernandez/AP Images)
(© Manu Fernandez/AP Images)

مئی کو ہونے والے ایک بین الاقوام اجلاس میں شریک ممالک اس نتیجے پر پہنچے کہ تمام ممالک کو فائیو جی ٹیلی کام کے فروخت کنندگان کی جانچ پڑتال کرتے وقت سکیورٹی کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔

جمہوریہ چیک کی میزبانی میں “پراگ فائیو جی سکیورٹی کانفرنس” میں 32 ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی اہل کاروں، یورپی یونین اور نیٹو نے شرکت کی۔ اس کے نتیجے میں سامنے آنے والے سائبر سکیورٹی کے ڈھانچے کو ‘ پراگ تجاویز’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ تجاویز ایسی سفارشات پر مشتمل ہیں جنہیں اپنے ہاں فائیو جی ( ففتھ جنریشن) ٹیلی کام کے بنیادی ڈھانچے کو ڈیزائن، تعمیر اور چلاتے وقت ممالک کو اپنے  پیش نظر رکھنا چاہیے۔

اپنے افتتاحی کلمات میں جمہوریہ چیک کے وزیر اعظم آندرے بابش نے کہا، “سیاسی راہنماؤں، ماہرین اور عوام میں بھی، ہمیں سائبر سکیورٹی اور فائیو جی کی پیچیدگیوں کے بارے میں آگاہی میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں فائیو جی کو درست طریقے سے کرنے اور اپنے شہریوں اور کمپنیوں کے ضمن میں یکساں قسم کی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ فائیو جی کاروباری مسابقت کا محض ایک مرتبہ ہونے والا واقعہ نہیں ہے۔ یہ ایک عمل ہے جس میں روز اول سے سائبر سکیورٹی کو ہر لحاظ سے ترجیح حاصل ہونا چاہیے۔”

فی الحال بہت سے ممالک ابھی اس بات پر غور و خوض  کر رہے ہیں کہ مستقبل کے فائیو جی کے ڈھانچے کو کس طرح تعمیر کیا جائے۔ اِس میں ٹاوروں، اینٹینوں، اور [کمپیوٹر کے] سروروں جیسے  ہارڈ ویئر بھی شامل ہیں۔ ان ممالک میں اِن نظاموں کی سیکورٹی کو یقینی بنانے کی اہمیت  کا احساس دن بدن گہرا ہوتا  جا رہا ہے۔

امریکہ کے وفاقی مواصلاتی کمشن کے چیئرمین، اجیت پے نے کہا، “فائیو جی کے نتیجے میں آنے والی تبدیلیوں کا  انقلابی اثر ہوگا۔ یہ ہماری افواج، ہماری صنعتوں، ہمارے انتہائی اہم بنیادی ڈھانچوں (بندرگاہوں سے لے کر بجلی کے گرڈوں تک) ہمارے کاروباری نظامت کاروں اور بہت سی دیگر چیزوں کو متاثر کرے گا۔ فائیو جی کے مسائل سے جرات سے نمٹننے کی ضرورت ہے۔ ایسے وقت میں جب تنصیبات کا آغاز ہو رہا ہو درست [چیزوں کے] انتخابات اُس کی نسبت کہیں زیادہ آسان ہوتے ہیں جب نیٹ ورکوں کی تعمیر مکمل ہو جائے اور یہ کام کرنا شروع کر دیں اور تب غلطیوں کو درست کرنے کی کوشش کی جائے۔”

ٹوئٹر کی عبارت کا ترجمہ:

وائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری: فائیو جی پراگ کانفرنس “ٹیلی کمیونیکیشن کے محفوظ نیٹ ورکوں کی ضرورت پر ایک انتہائی نتیجہ خیز اجلاس تھا۔” امریکہ “کانفرنس کے چیک چیئرمین کی طرف سے فائیو جی کی سکیورٹی سے متعلق پراگ تجاویز کی حمایت کرتا ہے۔”

پریس سیکرٹری کا بیان |  وائٹ ہاؤس

امریکہ، چیک جمہوریہ کی فائیو جی سکیورٹی کانفرنس کی میزبانی کرنے پر تعریف کرتا ہے۔ یہ ایک انتہائی نتیجہ خیز اجلاس تھا ۔۔۔۔۔

امریکہ ایسی کمپنیوں کے بارے میں خاص طور پر فکر مند ہے جو کسی ایسی غیرملکی طاقت کے بے ضبط یا قانون سے ماورا اختیار میں ہوں جو [آلات فروخت کرنے والی کمپنی کو] میزبان ملک کے قوانین توڑنے یا سلامتی کو نقصان پہنچانے کا حکم دے۔

گو کہ اِس کانفرنس میں خصوصی خطرے کی حامل کسی خاص کمپنی یا ملک کا نام تو نہیں لیا گیا تاہم امریکہ اس کانفرنس سے ہٹ کر اپنے اتحادیوں کو ہواوے ٹکنالوجیز کمپنی اور زیڈ ٹی ای کارپوریشن جیسی چینی کمپنیوں کے آلات کو اپنے ممالک کے ٹیلی کام کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں استعمال کرنے کے بارے میں خبردار کر چکا ہے۔ قومی سلامتی کے قانون، اور قومی انٹیلی جنس کے قانون سمیت چین کے قوانین کمپنیوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ جاسوسی کے چینی اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔

14 اپریل کو وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایسی کمپنیوں کی جانب سے فراہم کی جانے والی ٹکنالوجی سے جڑے خطرے کو بیان کیا جن کا “اپنے ملک کی حکومت سے گہرا تعلق ہوتا ہے اور یہ کمپنیاں اپنی حکومت کے لیے کام کرنے کے لیے آمادہ ہوتی ہیں۔”

پراگ تجاویز میں کہا گیا ہے کہ سائبر سکیورٹی محض تکنیکی مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس میں “مخصوص سیاسی، اقتصادی یا بدنیت کرداروں کے دیگر رویے” بھی شامل ہیں اور یہ کہ “کسی سپلائر پر کسی تیسرے ملک کے اثر و نفوذ کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے۔”

وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ پراگ کانفرنس ” ٹیلی کمیونیکیشن کے محفوظ نیٹ ورکوں کی ضرورت پر ایک انتہائی نتیجہ خیز اجلاس تھا۔”

محکمہ خارجہ کے سائبر سفارت کار رابرٹ سٹریئر نے کہا، “امریکہ چیک جمہوریہ کی قیادت کو سراہتا ہے اور فائیو جی نیٹ ورک کی سکیورٹی کے پابند نہ کرنے والے اصولوں کے اُس پروگرام کی حمایت کرتا ہے جو اس مسئلے پر عالمگیر گفت و شنید کو فروغ دے گا۔ کیونکہ فائیو جی نیٹ ورک ہماری زندگیوں کے تمام پہلووں پر اثر انداز ہونا شروع  ہو جائیں گے اس لیے بہت کچھ داؤ  پر لگا ہوا ہے۔”