میز پر رکھی کاپی پر لکھتی ہوئی بچی کے قریب بیٹھا ایک آدمی (© Omar Akour/AP Images)
صدر بائیڈن امریکہ میں پناہ گزینوں کی قبولیت کو وسعت دینے کا عہد کر رہے ہیں۔ عمان، اردن میں ایک شامی پناہ گزین اپنی بیٹی کی سکول کا کام کرنے میں مدد کر رہا ہے۔ (© Omar Akour/AP Images)

صدر بائیڈن اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ امریکہ پناہ گزینوں کے لیے بدستور ایک محفوظ پناہ گاہ بنا رہے اور یہ کہ جو لوگ انسان دوست پروگراموں کے تحت ترک وطن کرکے امریکہ آنے کی درخواست کرتے ہیں ان کے ساتھ ادب اور احترام سے پیش آیا جائے۔

4 فروری کے ایک انتظامی حکم نامے میں بائیڈن نے پناہ گزینوں کے داخلوں کے امریکی پروگرام (یو ایس آر اے پی) کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے۔ یہ پروگرام حکومت اور کمیونٹی گروپوں کے درمیان ایک ایسی شراکت کاری ہے جو ظلم و ستم کے ستائے لوگوں کو قبول کرنے کی بنیادی امریکی قدر کی عکاسی کرتی ہے۔

بائیڈن نے اس حکم نامے میں کہا، “پناہ گزینوں کی آباد کاری میں ایک لیڈر کی حیثیت سے امریکہ کی ایک طویل عرصے سے چلی آ رہی روایت، دنیا بھر کے ظلم و ستم کے ستائے لوگوں کے لیے امید کی ایک کرن ہے۔”

بائیڈن نے پناہ گزینوں کے امریکی معاشرے میں ادا کیے جانے والے اہم کردار پر زور دیتے ہوئے، اس عالمگیرضرورت کو پورا کرنے کی خاطر پناہ گزینوں کے داخلوں میں وسعت پیدا کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس حکم نامے میں متعلقہ کاروائی اور اُن دیگر انسان دوست پروگراموں میں ہونے والی تاخیروں کو ممکنہ حد تک کم کرنے کا بھی کہا گیا ہے جن کے تحت خطرات سے دوچار لوگوں کو امریکہ لایا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تاخیریں انسانی پریشانیوں میں اضافہ کرتی ہیں اور امریکہ کے مفادات کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

 ایک آدمی نے "گھر آمد پر خوش آمدید" کا کتبہ اٹھایا ہوا ہے جس پر امریکی جھنڈے کا خاکہ بنا ہوا ہے (© Scott Olson/Getty Images)
ایک امدادی کارکن فروری 2017 میں استنبول سے شکاگو کے او ہیر ہوائی اڈے پر پہنچنے والے شامی پناہ گزینوں کا انتظار کر رہا ہے۔ (© Scott Olson/Getty Images)

اگرچہ اس حکم نامے میں یہ کہا گیا ہے کہ اُن سب کے ساتھ ادب اور احترام سے پیش آیا جائے جو درخواست دیتے ہیں، تاہم انسان دوست امریکی پروگراموں تک رسائی فراہم کرنا ایک صوابدیدی عمل ہے۔

یہ حکم نامہ امریکہ کے پناہ گزینوں اور امدادی پروگراموں سے تقاضہ کرتا ہے کہ وہ:-

  • عورتوں اور بچوں سمیت، پناہ گزینوں کے پروگرام تک ایسے افراد کی رسائی میں اضافہ کریں جنہیں اپنی صنفی شناخت یا جنسی رجحان کی وجہ سے ظلم و زیادتیوں کا سب سے زیادہ سامنا ہے۔
  • انسانی تحفظ کی خاطر اُن تمام افراد کے لیے جو یو ایس آر اے پی کے تحت پناہ گزینوں کی حیثیت سے اہل نہیں ہیں ایسے تمام اختیارات کو استعمال کیا جائے جو دستیاب ہیں۔
  • نوآبادکاری کے اداروں کے ساتھ شراکت کو جاری رکھتے ہوئے، پناہ گزینوں سے متعلق کمیونٹیوں اور نجی سرپرستیوں سے فائدہ اٹھایا جائے۔

مزید برآں، بائیڈن نے قومی سلامتی کے مشیر کو ہجرت پر موسمیاتی تبدیلی کے پڑنے والے اثرات کا جائزہ لینے اور افراد کے تحفظ اور نوآباد کاری کے متبادلات کی نشاندہی کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ صدر نے ایسی تجاویز کی نشاندہی کا بھی کہا ہے جن کا تعلق اس بات سے ہے کہ  امریکہ کی طرف سے دی جانے والی غیرملکی امداد  موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کو کس طرح کم کرسکنی ہے۔

امریکی وزیرخارجہ، اینٹونی بلنکن نے 4 فروری کے ایک بیان میں کہا کہ بائیڈن کا حکم نامہ یہ پیغام دیتا ہے: پناہ گزینوں کو امریکہ میں خوش آمدید۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر کی ہدایات جدت طرازی کو تیز تر کر دیں گیں اور اِن کے تحت دھوکہ بازی کا بہتر انداز سے پتہ چلانے اور کام کرنے اور فیصلہ سازی کو بہتر بنانے کے لیے تکنیکی مہارت پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

بلنکن نے کہا، “آنے والے مہینوں اور برسوں میں ہم پناہ گزینوں کے داخلوں کے امریکی پروگرام کی تعمیر نو کریں گے اور اس کو وسعت دیں گے تا کہ ایک قوم کی حیثیت سے یہ ہماری اقدار کی عکاسی کرے۔ میں ایک ایسے وقت میں انسانی بھلائی کے امور میں امریکی قیادت کے اِن انتہائی اہم عناصر کی بحالی کے صدر کے بلند تصور سے متفق ہوں جب دنیا کے کمزور ترین لوگوں کو ہماری سب سے زیادہ ضرورت ہے۔”