‘ پوری انسانیت کی مشترکہ آرزو … آزادی’

جیمز بیکر اور مائکل آر پومپیو محو گفتگو ہیں۔ (State Dept./Ron Przysucha)
وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو، دائیں 15 نومبر کو ہیوسٹن، ٹیکساس میں سابقہ وزیر خارجہ جیمز بیکر سے ملاقات کر رہے ہیں۔ (State Dept./Ron Przysucha)

15 نومبر کو وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو نے کہا کہ آزادی کی خواہش ایک عالمگیر خواہش ہے اور اسے دبایا نہیں جا سکتا۔

اپنے جرمنی کے حالیہ دورے کے بارے میں بات کرتے ہوئے جہاں انہوں نے دیوارِ برلن کے انہدام کی تیسویں سالگرہ منائی، پومپیو نے کہا، “آزادی کی آرزو فطری ہے اور یہ ساری انسانیت میں مشترک ہے۔”

پومپیو نے کہا کہ وہ عام لوگ جو دیوارِ برلن کو اکھاڑ پھینکنے کے لیے آگے بڑھے ہر ایک کے لیے امید کا پیغام ہیں۔ وہ انسانی جذبے اور عوام کے آزاد رہنے کی خواہش کا ثبوت ہیں۔

ہیوسٹن میں پبلک پالیسی کے جیمز اے بیکرIII انسٹی ٹیوٹ میں ایک تقریر میں پومپیو نے کہا کہ سرد جنگ کا خاتمہ اور جبر و استبداد سے لوگوں کو چھٹکارا دلانا ایک بڑی انسانی کامیابی ہے۔ بیکر نے پومپیو کا امریکہ کے 61ویں وزیر خارجہ کی حیثیت سے تعارف کرایا۔ پومپیو نے جارج ایچ ڈبلیو بش کی صدارت میں سرد جنگ کی خاتمے میں مدد کرنے کا سہرا بیکر کے سر باندھا۔

وزیر خارجہ نے کہا، “یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ دنیا کے زیادہ تر کامیاب معاشرے بلا شک و شبہ آزاد معاشرے ہوتے ہیں کیونکہ وہ واحد ایسی جگہ ہوتے ہیں جہاں …مرد اور عورتیں اپنی حقیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکتے ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ تاہم دنیا میں ابھی تک بہت سی ایسی جگہیں ہیں جہاں حکومتیں اپنے عوام کو دبا کر رکھتی ہیں۔

پومپیو نے کہا، “اچھی خبر یہ ہے کہ ہمیں بہت سے فوائد حاصل ہیں۔” جمہوری اقدار اور لچک دنیا میں کسی بھی دوسری چیز کے مقابلے میں ایسی کشش رکھتی ہیں جو بے مثال ہے۔

پومپیو نے کہا کہ دنیا کے طول و عرض میں ایران، وینیز ویلا اور ہانگ کانگ جیسی جگہوں پر عام لوگ آزادی اور خودمختاری کے لیے اپنی امید کا اظہار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، “انسانی آزادی کے لیے ایک فطری تڑپ پائی جاتی ہے” اور ” ہمیں اس کی عظیم اور زبردست طاقت کو کبھی بھی کم تر نہیں سمجھنا چاہیے۔”