پہلی عالمی جنگ نے عورتوں کو افرادی قوت اور ووٹنگ کے بوتھوں میں پہنچا دیا

wwi_Urdu-01

عورتوں کے حقِ رائے دیہی کے حامی

پہلی عالمی جنگ نے امریکی عورتوں کو عشروں سے جاری ایک اور جنگ جیتنے میں مدد کی۔ اور یہ جنگ تھی:

عورتوں کا ووٹ دینے کے حق کا حصول۔

 

لیٹی گیون ‘ پہلی عالمی جنگ میں عورتیں: اُنہوں نے بھی جنگ میں حصہ لیا’ میں لکھتی ہیں کہ جنگ سے “عورتوں کی تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔”

Vintage photo of men and women making and eating doughnuts during WWI (Library of Congress)
امریکی ریڈکراس کے پیرس کے صدر دفتر میں امریکی فوجیوں کے لیے ڈونٹ بنائے جا رہے ہیں۔ (Library of Congress)

گیون کہتی ہیں، “بہت سے لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جنگ کے اُن چاربرسوں نے عورتوں کو پرانی سوچوں اور دقیانوسی خیالات سے آزاد کرایا اور بہتر اُجرتوں، بہتر روزگاروں [اور] کام کے بہتر حالات کے لیے بنیادیں رکھیں۔”

پہلی عالمی جنگ میں عورتیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کی جانے والی کاروائیوں  — یعنی  کینٹینیں چلانے، فوجیوں کے لیے تفریحی پروگرام کرنے  اور یورپ میں مصائب کے شکار عام شہریوں کی مدد کرنے کی خاطر یورپ گئیں۔

پیچھے امریکہ میں، وہ افرادی قوت میں کئی ایک نئے طریقوں سے شامل ہوئیں۔ ان میں ریل گاڑیوں اور طیاروں کے لیے پُرزے تیار کرنا، کرینیں چلانا اور ٹرالی [بسوں] میں کنڈکڑوں کے طور پر کام کرنا شامل تھا۔

جب جنگ ختم ہوئی تو کچھ کو اُس وقت اُن کے کاموں سے فوری طور پر برخاست کر دیا گیا جب فوج سے فارغ کیے جانے والے فوجی اپنی ملازمتیں لینے کے لیے واپس آ گئے۔ لیکن اس وقت تک، معاشرے میں تبدیلی ناگزیر ہوچکی تھی۔

Women gathered around a flag they are sewing (Library of Congress)
عورتیں 1920ء میں حقِ رائے دیہی کا جھنڈا سیتے ہوئے۔ (Library of Congress)

صدر ووڈرو وِلسن جو کسی وقت عورتوں کے ووٹوں کے حقوق کے حامیوں کے مظاہروں کا نشانہ ہوا کرتے تھے،  کانگریس کو یہ بتاتے ہوئے اُن کے بہت بڑے حامی بن گئے کہ عورتوں کو حقِ رائے دیہی دینا “انتہائی اہم” ہے۔

جنگ بندی کے سات ماہ بعد، کانگریس نے امریکی آئین میں 19ویں ترممیم کرتے ہوئے عورتوں کو ووٹ دینے کا حق دیا۔ ریاستوں نے اس ترمیم کی توثیق، 1920ء میں کی۔

کرسٹوفر کونیل نے اس مضمون کے لیے رپورٹنگ کی