قطار میں بیٹھے ہوئے افراد کے پیچھے سکرین پر دو افراد نظر آ رہے ہیں۔ (State Dept.)
سفیر ڈینیئل بی سمتھ، بائیں، نے پینل کی شکل میں اُس بحث کی صدارت کی جو محکمہ خارجہ میں تاریخ دانوں سیتھ روٹریمل، لنڈسے کراسنوف، چارلس ہالی، اور تھامس فیتھ کے درمیان ہوئی۔ (State Dept.)

امریکی سفارت کاروں نے پہلی عالمی جنگ میں مصائب میں کمی لانے اور جنگ کے خاتمے میں مدد کرنے کی خاطر پس پردہ کام کیا۔

محکمہ خارجہ کے تاریخ دانی کے دفتر کا ایک سابقہ اور تین موجودہ تاریخ دان پینل کی شکل میں منعقد کیے جانے والے ایک مباحثے میں پہلی عالمی جنگ کے سفارت کاروں کی کہانیوں کو سامنے لائے۔ اس مباحثے کا عنوان تھا: “سفارت کاری کی خندقوں میں: محکمے کے ہیروز کا پہلی عالمی جنگ میں مصائب کو کم کرنا۔” محکمہ خارجہ کے امریکی سفارت کاری کے ہیرو نامی سلسلے کی یہ دوسری تقریب تھی۔

ٹوئٹر کی عبارت کا خلاصہ:

محکمہ خارجہ:

اس ہفتے ہم نے پہلی عالمی جنگ میں امریکی سفارت کاروں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ امریکی سفارت کاری کے اِن ہیروز نے سخت مشکل حالات میں کام کرتے ہوئے امریکی شہریوں، فوجیوں اور جنگی قیدیوں کی مدد کی اور یورپ میں امداد کے سلسلے میں آسانیاں پیدا کیں۔ اُن کی کہانی یہاں ملاحظہ کریں۔https://go.usa.gov/xp3FN

بحث کا آغاز کرتے ہوئے یورپی اور یوریشیائی امور کے قائم مقام اسسٹنٹ سکیرٹری فلپ ٹی ریکر نے کہا، “1918ء میں جب جنگ ختم ہوئی تو  … امن کو فروغ دیتے ہوئے … امریکہ نے عالمی منظر نامے پر بڑا کردار ادا کرنا شروع کر دیا تھا۔”

چار تاریخ دانوں — یعنی سیتھ روٹریمل، لنڈسے کراسنوف، چارلس ہالی، اور تھامس فیتھ — میں سے ہر ایک نے دنیا کے اُن حصوں  پر روشنی ڈالی جہاں امریکی سفارت کاروں نے جنگ میں امن، غیر ملکی امداد لور سفارت کاری کو بروئے کار لانے کے لیے کام کیا۔

محکمہ خارجہ کے ملازمین کی پہلی عالمی جنگ میں کی جانے والی کاوشوں کا ذیل میں مختصراً ذکر کیا جا رہا ہے:

  • جمیز ڈبلیو جیرارڈ III  جب جنگ شروع ہوئی تو اُس وقت وہ جرمن سلطنت میں سفیر تھے۔ انہوں نے جنگ کی ابتدا میں جرمن بنکوں کی طرف سے غیرملکیوں کے اکأوًنٹ منجمد کیے جانے کے بعد امریکہ واپس آنے کے لیے جرمنی میں سفر کرنے والے 10,000 امریکی شہریوں میں سے بہت سوں کی مدد کی۔
  • ولیم ایچ ہنٹ فرانس کے شہر سینٹ ایتین میں قونصل کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ اُس وقت وہ یورپ میں واحد افریقی نژاد امریکی سفارت کار تھے۔ انہوں نے لوگوں کے ساتھ رابطے کرنے اور فرانس اور امریکہ دونوں ممالک کے شہریوں کے تحفظ کے لیے جنگ کے پورے عرصے کے دوران کھیلوں کی سفارت کاری کو استعمال کیا۔
  • روس کے طول و عرض میں پھیلے سات سے زائد سفارتی دفاتر کے 26 قونصلر اہل کاروں نے دو ملین سے زیادہ جرمن، آسٹرین اور ہنگیریں جنگی قیدیوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا۔
  • عملے کی کمی کے شکار لندن میں امریکی سفارت خانے کے سفارت کار، امریکہ کی غیرملکی امداد، اور پورے یورپ میں پھیلے ہوئے امریکی شہریوں کی انسانی ضروریات کو پورا کرنے کا مرکز بن گئے۔

بحث کے دوران کرانسوف نے کہا، “1945 بعد کے دور تک فارن سروس کا ڈھانچہ بالکل اسی طرح دکھائی دیتا تھا جیسا کہ 1914ء میں فرانس میں اس کے کام اور کردار پہلی مرتبہ متعین کیے گئے تھے۔”

کرانسوف نے کہا، ” میرے خیال میں حقیقی معنوں میں جنگ کے برسوں کے دوران … امریکی سفارت کاروں کی پوری کہانی کے بہت سے مضبوط حصوں میں سے ایک حصے کا تعلق سو سال پہلے ہمارے ہم منصبوں کا کئی ایک لحاظ سے بالکل ہمارے جیسا ہونے سے بھی ہے۔”