دو سو سال قبل امریکہ کے پہلے صدر، جارج واشنگٹن نے رضاکارانہ طور پر اپنا عہدہ چھوڑا۔ انہوں نے جو تقریر کی وہ آج بھی اتنی اہم ہے کہ اسے ہر سال سینیٹ میں با آوازِ بلند پڑھا جاتا ہے۔

واشنگٹن نے اپنی الوداعی تقریر اپنی دوسری مدتِ صدارت کے آخر میں 1796ء میں لکھی۔ انہوں نے اس تقریر کو یہ اعلان کرنے کے لیے استعمال کیا کہ وہ تیسری بار صدر نہیں بنیں گے اور اس کی بجائے وہ ماؤنٹ ورنن میں واقع اپنی زمینوں پر لوٹ جائیں گے۔

یونیورسٹی آف ورجینیا کے مِلر سنٹر میں صدارتی مطالعات کے شعبے کو چلانے والی باربرا پیری کہتی ہیں کہ واشنگٹن اتنے مقبول تھے کہ “وہ جب تک صدر رہنا چاہتے وہ اس وقت تک صدر رہ سکتے تھے۔”

اگرچہ 1951 تک امریکی آئین میں صدارتی مدتوں کی تعداد کی کوئی قید نہیں تھی تاہم بعد میں آنے والے صدور نے دو مدتوں کے بعد چلے جانے کی  واشنگٹن کی مثال پر عمل کرتے ہوئے ملک کی اہمیت کو کسی واحد لیڈر  پر ترجیح  دے کر مضبوط کیا۔

امریکہ کی 1862 کی خانہ جنگی کی انتہا پر، ہمت بڑھانے کی خاطر الوداعی خطاب کو کانگریس کے ایک مشترکہ اجلاس میں با آوازِ بلند پڑھا گیا۔ ملک کے بنیادی اصولوں کی یاد دہانی کی خاطر 1896ء کے بعد سے ہر سال واشنگٹن کی سالگرہ کے دن سینیٹ میں اکثریتی پارٹی کا سربراہ اِس تقریر کو با آوازِ بلند پڑھنے کے لیے ری پبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹیوں کے سینیٹروں میں سے باری باری  ایک سینیٹر کا انتخاب کرتا ہے۔

2018ء میں اِس خطاب کو پڑھنے والے مشی گن کے سینیٹر گاری پیٹرز کی ایک مختصر ویڈیو دیکھیے:

[نوٹ: ویڈیو انگریزی میں ہے]