پینسلوینیا اور آئرلینڈ سے بائیڈن کا موروثی تعلق

سڑک پر کھڑے لوگوں کے قریب ایک آدمی شمپین شراب کا چھڑکاؤ کر رہا ہے اور دیوار پر بائیڈن کی تصویر بنی ہوئی ہے (© Charles McQuillan/Getty Images)
جو بائیڈن کی صدارتی کامیابی کا جشن منانے کے لیے، 7 نومبر 2020 کو آئرلینڈ کی میو کاؤنٹی کے شہر بالینا میں بائیڈن کے جو بلیوئٹ نامی ایک کزن شمپین شراب کی بوتل کھول رہے ہیں اور اُن کے خاندان کے افراد اُن کے اردگرد کھڑے ہیں۔ دیوار پر بائیڈن کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ (© Charles McQuillan/Getty Images)

امریکی ریاست پینسلوینیا کے شہر سکرینٹن اور آئرلینڈ کی کاؤنٹی میو کے شہر بالینا میں چند ایک چیزیں مشترک ہیں۔ اِن میں سے ایک آئرلینڈ کے محنت کشوں کے وہ خاندان ہیں جو انیسویں صدی میں آئرلینڈ میں پڑنے والے آلوؤں کے قحط سے بھاگ کر امریکہ آ گئے تھے۔

میئر پیج گبہارڈ کونگنیٹی نے بتایا کہ سکرینٹن میں “بہت سے لوگ اُسی جگہ پر رہ رہے ہیں جہاں اُن کی دادیاں نانیاں رہتی رہی ہیں۔ ایسے بہت سے لوگ تھے جو یہاں ہی رہتے رہے اور [شہر کی ترقی میں اپنا] حصہ ڈالا۔ [سکرینٹن اور بالینا] دونوں شہروں کی بنیادیں قابل فخر تاریخ پر استوار ہیں۔”

میو دریا کے دہانے پر واقع، بالینا شہر کی آبادی 11,000 سے کم ہے اور یہ شہر اپنے آپ کو آَئرلینڈ کا سیمن مچھلی کا مرکز کہتا ہے۔

اس کے علاوہ سکرینٹن اور بالینا کا ایک اور تعلق بھی ہے: ایک امریکی صدر کے ساتھ اُن کے رشتے۔

سکرینٹن کے (جس کی مجموعی آبادی کی ایک چوتھائی تعداد آئرش نژاد امریکی ہے)، بہت سے باسیوں کی طرح جب بھوک اور مواقع کی کمی نے اس جزیرے [آئیرلینڈ] کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تو صدر بائیڈن کے خاندان نے میو کاؤنٹی کو خیرباد کہا اور اُن کے جد امجد، ایڈورڈ بلیوئٹ اور بلیوئٹ کے بیٹے، پیٹرک سکرینٹن میں آن بسے اور سرویئر کے طور پر کام کرنے لگے۔

جب خاندان کو ایک بار پھر مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا تو بائیڈن کے والد روزگار کے سلسلے میں ولمنگٹن، ڈیلا ویئر منتقل ہوگئے۔ اُس وقت بائیڈن چوتھی جماعت کے طالبعلم تھے۔ مستقبل کے اس صدر نے اپنا باقی بچپن ڈیلاویئر میں گزارا۔ یہ وہی ریاست ہے جس نے بعد میں انہیں 30 سال کی اُس عمر میں امریکی سینیٹ کے لیے منتخب کیا جو کہ آئین میں درج سینیٹ کا رکن منتخب ہونے کے لیے عمر کی کم از کم حد ہے۔

سکرینٹن اور بالینا صدر جو بائیڈن کو دوبارہ خوش آمدید کہتے ہوئے خوشی محسوس کر رہے ہیں۔ گو کہ بائیڈن کا اپنا گھرانہ سکرینٹن سے منتقل ہو گیا تھا، تاہم اُن کے دور نزدیک کے رشتہ دار وہیں جمے رہے۔ لہذا گزرے ہوئے برسوں میں بائیڈن کئی مرتبہ سکرینٹن جا چکے ہیں۔ 2016ء میں تب کے صدر اوباما نے اپنے نائب صدر کی “سکرینٹن کے اپنی دھن کے پکے لڑکے” کے طور پر تعریف کی۔

 سڑک کنارے "جو بائیڈن وے" کے نام کی کھمبے پر لگی تختی (© Ted Shaffrey/AP Images)
سکرینٹن شہر نے جو بائیڈن کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے اس سڑک کا نام بدل دیا ہے جس پر اُن کا وہ گھر (تصویر میں دائیں طرف دکھائی دینے والا گھر) واقع ہے جس میں وہ بچپن میں رہا کرتے تھے۔ (© Ted Shaffrey/AP Images)

صدارتی امیدوار کی حیثیت سے بائیڈن نے نومبر 2020 میں اپنے ایک انتخابی دن کا کچھ حصہ اپنے بچپن کے گھر میں گزارا اور انتخابی لحاظ سے اہم ریاست پینسلوینیا میں اپنی جڑوں کی یاد تازہ کر کے خوش ہوئے۔

اگرچہ آئرلینڈ کے شہر بالینا میں ووٹ تو نہیں تھے مگر بائیڈن وہاں بھی گئے۔ اُنہوں نے بالینا کا حالیہ ترین دورہ 2016ء میں نائب صدر کی حیثیت سے کیا۔ اپنے دوروں کے دوران وہ اپنے دُور پار کے کزنوں سے بھی ملے اور مقامی لوگوں نے اُن کے خاندانی شجرہ نسب کے بارے میں تحقیق کرنے میں مدد کی۔

اور 2017ء میں میو کاؤنٹی نے اپنے ناقابل علاج مریضوں کے خصوصی مریض خانے کا نام، بائیڈن کے آنجہانی بیٹے، بیئو کے نام پر رکھا۔ بیئو 2015ء میں کینسر کی بیماری سے انتقال کر گئے تھے۔

جب نومبر میں بائیڈن نے امریکی صدر کا انتخاب جیتا تو روزنامہ آئرش ٹائمز کے مطابق بائیڈن کے کزنوں اور اُن کے آئرش ہمسایوں نے بالینا کے شہر کے وسطی چوک میں شمپین کی بوتلیں کھولیں۔ (یاد رہے کہ بائیڈن پہلے صدر نہیں ہیں جن کے آبا و اجداد کا تعلق بالینا سے تھا۔ آئرلینڈ کی سابق صدر میر رابنسن بھی اسی شہر میں پیدا ہوئیں۔)

اٹلانٹک کے آر پار مشترکہ فخرمندی

 دکان کے باہر کھڑی ایک عورت نے ہاتھ میں امریکی جھنڈا پکڑا ہوا ہے اور دکان کی کھڑکیوں میں جو بائیڈن کی تصویر اور امریکی جھنڈا لگا ہوا ہے (© Peter Morrison/AP Images)
27 نومبر کو بالینا، آئرلینڈ میں جو بائیڈن کی صدارتی انتخاب میں کامیابی کی خوشی کا جشن منانے سے قبل کیتھرین ہالہان نے امریکہ کا جھنڈا اٹھایا ہوا ہے۔ (© Peter Morrison/AP Images)

30 سالوں سے سکرینٹن اور بالینا ایک جڑواں شہروں کے ایک پروگرام کے ذریعے آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ جنوری میں بائیڈن کے حلف وفاداری کے موقع پر، دونوں شہروں کی سٹی کونسلوں نے زوم  کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطہ کیا اور کورونا وائرس کے بعد ممکنہ دوروں کے بارے میں بات کی۔

سکرینٹن کی کونگنیٹی نے کہا کہ سیاسی رجحانات سے قطع نظر، ایک مقامی لڑکے کا انتخاب  — یا ایک مقامی لڑکے کے پڑپوتے  کا انتخاب — بالخصوص بچوں کے لیے، ایک جاندار پیغام ہے۔

انہوں نے کہا، “میری بیٹی کو یہ علم ہوگا کہ اُس کے آبائی شہر سے تعلق رکھنے والا شخص بھی صدر بن سکتا ہے۔ حقیقی معنوں میں آپ وہ کچھ بن سکتے ہیں جو کچھ آپ بننا چاہتے ہیں۔”