چوٹی کی خواتین کھلاڑی: بھرپور کوششیں اور کامیابیاں

ایک زمانے میں کسی کو یہ کہنا کہ "وہ   لڑکیوں کی طرح کھیلتا ہے” ہتک آمیز سمجھا جاتا تھا۔ اب ایسا کہلوانا فخر کی بات ہے۔ خصوصاً ایک ایسے وقت میں جب خواتین کشتیوں اور باکسنگ جیسی اُن کھیلوں میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ رہی ہیں جن پر کبھی مردوں کا راج ہوا کرتا تھا۔

خواتین کشتیوں میں کم از کم  زمانہ قدیم سے حصہ لے رہی ہیں اور سپارٹا کی خواتین کو اس کھیل کی تربیت دی جاتی تھی۔ اس کے باوجود جب  776 قبل مسیح میں قدیم اولمپک کھیلوں کا افتتاح  ہوا تو اس میں صرف مردوں کی کی کشتیوں کو شامل کیا گیا۔

1896 میں جب ایتھنز، یونان میں جدید اولمپکس کا احیاء ہوا تب بھی کشتیوں کو صرف مردوں تک ہی محدود رکھا گیا۔ لیکن 2004ء میں خواتین کی فری سٹائل کشتیوں کو اولمپک کھیلوں میں شامل کر لیا گیا۔

2016 کے ریو اولمپکس میں ہیلن مارولس نے خواتین کی کشتیوں کے مقابلے میں سونے کا تمغہ حاصل کر کے تاریخ رقم کی اور ایسا کرنے والی وہ پہلی امریکی خاتون بن گئیں۔ انہوں نے 53 کلوگرام کے زمرے کے مقابلے میں 3 بار کی اولمپک چیمپئن ساوری یوشیدا کو چار ایک سے ہرایا۔

Two women wrestling on mat (© Mark Reis/Colorado Springs Gazette/TNS/Getty Images)
جاپان کی ساوری یوشیدا اور امریکہ کی ہیلن مارولس 2016 کے اولمپک کھیلوں میں کشتی کے ایک مقابلے کے دوران۔ (© Mark Reis/Colorado Springs Gazette/TNS/Getty Images)

مارولس بچپن سے ہی کامیاب چلی آ رہی ہیں۔ انہوں نے 2015 کےعالمی مقابلوں  میں بھی سونے کا تمغہ جیتا۔ اپنے کالج میں کشتیوں میں حصہ لینے سے پہلے انہیں ہائی سکول کے دنوں سے ہی "سب سے بہترین پہلوان” کے نام سے جانا جاتا تھا۔ انہوں نے ہائی سکول کے ایک ٹورنامنٹ میں  ایک سابقہ چیمپئن  لڑکے کو ہرایا۔

کشتیوں کے کوچوں کی قومی ایسوسی ایشن کے مطابق امریکہ میں ہائی سکولوں اور کالجوں کی سطح پر خواتین کی کشتیاں روزبروز مقبول ہوتی جا رہی ہیں۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے، "پچھلے 20 برسوں کے دوران حصہ لینے والی [لڑکیوں] کی تعداد میں بہت اضافہ ہوا ہے اور اب ملک بھر سے نوجوان لڑکیاں ان مقابلوں میں حصہ لے رہی ہیں اور اکثر اوقات وہ نوجوان لڑکوں کا عمدہ مقابلہ کرتی ہیں۔”

انڈیاناپولس سے تعلق رکھنے والیں 16 سالہ جڑواں بہنیں، ایلیس اور آٹم ٹیرہیون اپنے ہائی سکول میں کشتیاں لڑنے والی کھلاڑی کے طور پر مشہور ہیں۔ ان جڑواں بہنوں نے 12 برس کی عمر سے کشتیوں کا آغاز کیا اور 2 برس کے اندر اندر اپنا لوہا منوایا۔

اپنے مڈل سکول میں دونوں بہنیں لڑکوں کی کشتیوں کی ٹیم کی مشترکہ کپتان تھیں جہاں ان کے ساتھی لڑکے ان کی بہت ہمت افزائی کرتے تھے۔ تاہم اِن کے حریف کھلاڑی ہمیشہ ایسی فیاضی کا مظاہرہ نہیں کرتے تھے۔ جڑواں بہنوں کے والد جاش ٹیرہیون نے انڈیاناپولس سٹار اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا، "لڑکے بہت پریشان اور دل برداشتہ ہو جاتے ہیں۔ دونوں بہنیں بہت سے لڑکوں کو ہرا چکی ہیں۔”

حتمی مقابلہ

رونڈا راؤزی بھی ایک ایسی ہی کھلاڑی ہیں جنہیں پتا ہے کہ صنفی توقعات کو کیسے مات دینا ہے۔ رونڈا مکسڈ یعنی ملے جلے مارشل آرٹس کی پیشہ ور کھلاڑی ہیں۔ وہ اولمپک کے جوڈو کے مقابلوں میں تمغہ حاصل کرنے والی پہلی امریکی خاتون ہیں۔ انہوں نے بیجنگ میں ہونے والے 2008 کے گرمائی اولمپک مقابلوں میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔

راؤزی جو کھیل کھیلتی ہیں اس میں کشتی، باکسنگ، کک باکسنگ، جوڈو اور کراٹے کے کھیلوں کی تمام تکنیکوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ وہ سٹرائیک فورس کی بینٹم ویٹ کیٹیگری میں خواتین کی گزشتہ چمپیئن ہونے کے ساتھ ساتھ خواتین کی الٹی میٹ فائٹنگ چمپیئن شپ کی بینٹم ویٹ کیٹیگری کی سابقہ چیمپئن بھی ہیں۔

2015 میں دو رسالوں، سپورٹس السٹریٹڈ اور بزنس انسائڈر نے راؤزی کو سب سے نمایاں  اور متحرک  کھلاڑی قرار دیا۔ اسی سال ای ایس پی این کے ایک سروے میں راؤزی کو "اب تک کی سب سے بہترین خاتون کھلاڑی” کے طور پر منتخب کیا گیا۔

وہ کہتی ہیں، "کھیلوں میں مقابلہ کرنے کا معاملہ محض مردوں کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ انسانوں کا معاملہ ہے۔”

چاروں شانے چِت کرنے والا مُکا

راؤزی کے الفاظ میں امریکی باکسرز لیلی علی اور کلاریسا شیلڈز کی بازگشت یقینی طور پر سنائی دیتی ہے۔

Two women boxing (© Michael Okoniewski/Liaison Agency/Getty Images)
لیلٰی علی، دائیں اپنی مخالف کھلاڑی اپریل فاؤلر کو ویرونا، نیویارک میں باکسنگ کے ایک مقابلے میں مکا مار رہی ہیں۔ (© Michael Okoniewski/Liaison Agency/Getty Images)

لیلٰی علی، مایہ ناز باکسر محمد علی کی بیٹی ہیں۔ انہوں نے اپنے والد کے کھیل کو 18 برس کی عمر میں اپنایا۔ لیلٰی نے 1999 سے لے کر 2007 تک مقابلوں میں حصہ لیا اور 2007 میں باکسنگ سے ریٹائرہوئیں۔ وہ 5 بار خواتین کی سپر مِڈل ویٹ چیمپئن اور ایک بار لائٹ ہیوی ویٹ چیمپئن رہیں۔ انہیں باکسنگ کے مقابلوں میں کوئی شکست  نہیں دے سکا۔

لیلٰی علی کی کامیابیوں سے متاثر ہو کر شیلڈز نے بھی باکسنگ رنگ میں اترنے کا فیصلہ کیا۔ وہ امریکی تاریخ میں یکے بعد دیگرے دو اولمپک مقابلوں میں باکسنگ میڈل جیتنے  والی پہلی کھلاڑی ہیں۔ ان سے پہلے مردوں یا عورتوں میں سے کسی نے یہ کارنامہ سرانجام نہیں دیا۔ 2012 اور 2016 کے اولمپک مقابلوں میں خواتین کی مڈل ویٹ ڈویژن میں شیلڈز نے سونے کے تمغے جیتے۔

ٹی-ریکس کے نام سے مشہور شیلڈز نے  2016 میں پیشہ ور کھلاڑی کے طور پر باکسنگ کا آغاز کیا اور کھیلوں میں اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے پانچ کے پانچ تمام مقابلے جیتے۔ فی الوقت وہ 3 پروفیشنل چیمپئن شپ ٹائٹلز کی فاتح ہیں۔ وہ صنفی پابندیوں سے خود کو آزاد کرانے کا سہرا اپنی دادی کے سر باندھتی ہیں، جنہوں نے اس کام میں ان کی مسلسل حوصلہ افزائی کی۔

یہ معاملہ صرف کشتیوں یا باکسنگ اور دیگر کھیلوں تک ہی محدود نہیں ہے۔ بہت سی اور خواتین نے روائتی طور پر مردوں کے کھیل سمجھے جانے والے کھیلوں میں عورتوں کی شرکت میں حائل رکاوٹوں کو ختم کیا۔ امریکی اوپن وہیل ریسنگ میں ڈانیکا پیٹرک سب سے کامیاب خاتون ہیں۔ 1993 میں گھڑ سوار جولی کرونیے ٹرپل کراوٴن گھڑ دوڑ جیتنے والی پہلی خاتون بنیں۔ یہ خواتین  آنے والی نسل کی کھلاڑیوں کے لیے مواقعوں کے نئے دروازے کھول رہی ہیں۔

Woman in racing gear standing alongside sports car (© Tom Pennington/Getty Images)
ٹیلاڈیگا، الاباما میں ہونے والی کاروں کی ایک نیسکار نامی ریس میں ڈانیکا پیٹرک اپنی کار کے پاس کھڑی ہیں۔ (©Tom Pennington/Getty Images)