چینی حراستی کیمپ میں ویغور باشندوں پر تشدد کی داستان

ایک نوجوان ویغور ماں بتاتی ہیں کہ انہیں چین کے 'سنکیانگ ویغور خودمختار صوبے' میں قائم "تعلیم نو" کے کیمپوں میں سے ایک کیمپ میں تشدد اور دیگر بہیمانہ حالات کا نشانہ بنایا گیا۔ امریکی دفتر خارجہ کے مطابق اپریل 2017 سے اب تک ممکنہ طور پر چین آٹھ  سے 20 لاکھ  تک مسلمانوں کو ان کیمپوں میں بھیج چکا ہے۔

واشنگٹن کے نیشنل پریس کلب میں 26 نومبر کو ہونے والی ایک تقریب میں مہرگل ترسن نے چین کے ایک کیمپ میں اس سال کے اوائل میں اپنے ساتھ پیش آنے والے ہولناک واقعات کی روداد بیان کی۔ انہیں وہاں نشہ آور ادویات دی گئیں، کئی دن جاگنے پر مجبور کر کے تفتیش کی گئی اور کرسی پر باندھ کر بجلی کے جھٹکے دیے گئے۔ 2015 کے بعد انہیں تیسری مرتبہ اس قسم کے کیمپ میں بھیجا گیا۔ ترسن نے صحافیوں کو بتایا کہ انہیں یاد ہے کہ تفتیش کاروں نے انہیں کہا کہ "ویغور ہونا جرم ہے۔"

ترسن کو سب سے پہلے 2015 میں گرفتار کیا گیا اورانہیں ان کے تین شیرخوار جڑواں بچوں سے  تین ماہ تک جدا کر کر کے علیحدہ رکھا گیا۔ یہ اس وقت ہوا جب وہ اپنے نئے بچوں کو اپنے خاندان سے ملانے کے لیے اپنے ساتھ لے کر چین گئیں تھیں۔ وہ مصر سے آئی تھیں جہاں انہوں نے تعلیم حاصل کی اور شادی کی۔ جب انہیں رہا کیا گیا تو ان کا ایک بچہ فوت ہو چکا تھا اور دوسرے دو شدید بیمار تھے۔ وہ بتاتی ہیں کہ زندہ بچ جانے والے ان کی بیٹی اور بیٹا دونوں کو ٹیوب کے ذریعے خوراک دینا پڑتی تھی اور ان کے آپریشن کرنے پڑے۔

مائیکروفون کے ذریعے ایک عورت بات کر رہی ہے۔ ۔ (State Dept./D.A. Peterson)
ویغور مسلمان خاتون مہرگل ترسن واشنگٹن کے نیشنل پریس کلب میں چین میں اجتماعی حراستی کیمپوں اور اپنے آپ پر ہونے والے مظالم کی روداد بیان کر رہی ہیں۔ ۔ (State Dept./D.A. Peterson)

29 سالہ ترسن کا کہنا ہے کہ ان سے مصر میں ان کی زندگی کے بارے میں باربار پوچھ گچھ کی گئی حالانکہ وہ کسی قسم کی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لیتیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ چینی حکام کی نظروں میں اس لیے مشتبہ ٹھہریں کہ وہ غیرملکی زبانیں بولتی ہیں۔

ترسن نے جن کا تحریری بیان ایک ترجمان نے پڑھکر سنایا، بتایا کہ2017 میں انہیں دوبارہ کیمپ میں بھیجا گیا مگر جنوری 2018 میں وہاں ان کا تیسرا تجربہ بد ترین تھا۔ انہیں تین ماہ کے لیے دیگر 67 عورتوں کے ساتھ ایک تنگ کوٹھڑی میں بند کر دیا گیا جہاں انہیں باری باری دو گھنٹے سونا اور دو گھنٹے کھڑا رہنا پڑتا تھا۔ انہیں نشہ آور دوائیں اور کوئی مائع چیز دی جاتی تھی جس سےان کے جسم سے  خون بہنا شروع ہو جاتا تھا۔ انہیں کھانے کے لیے انتہائی کم خوراک دی جاتی تھی۔

ترسن نے بتایا کہ ان تین ماہ کے دوران ان کی کوٹھڑی  میں نو عورتوں کی موت واقع ہوئی۔ ایک موقع پر انہوں نے زیر حراست رکھنے والوں سے التجا کی کہ انہیں مار ڈالیں کیونکہ وہ ایسے ناقابل برداشت حالات میں زندہ رہنے پر مرنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں، "میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ میں کیمپ نمبر 210 سے کبھی زندہ باہر آ پاؤں گی۔"

اپریل میں ضمانت پر رہائی کے بعد ترسن مصر واپس گئیں اور ستمبر میں امریکی حکام کی مدد سے اپنے بچوں کے ہمراہ وہ امریکہ آ گئیں۔ اب وہ ورجینیا میں مقیم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی تک ڈراؤنے خواب آتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں، "حالانکہ مجھے بتایا گیا ہے کہ میں یہاں محفوظ ہوں مگر اب بھی رات کے وقت مجھے ڈر لگا رہتا ہے کہ چینی پولیس میرا دروازہ کھٹکھٹائے گی اور مجھے اپنے ساتھ لے جائے گی اور مار ڈالے گی۔"

ترسن کہتی ہیں کہ "سنکیانگ ویغور خودمختار صوبے میں اپنے عزیزوں کو لاحق خطرات کے باوجود "میں نے ہمت باندھی اور دنیا کو چین کے خفیہ حراستی کیمپوں کے بارے میں بتانے کا فیصلہ کیا۔"

عالمی مذمت

26 نومبر کے اسی پروگرام میں ترکی، قازقستان اور ملائشیا سمیت  26 ممالک کے 278 علمی ماہرین کے ایک گروپ نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں چین کی جانب سے ویغور، قازق، کرغیز اور دیگر ترک النسل اقلیتوں کی وسیع پیمانے پر حراستوں کی مذمت کی گئی جنہیں "اپنی مقامی زبان، مذہبی اعتقادات اور ثقافتی رسومات ترک کرنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔"

انہوں نے چینی رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ تعلیم نو کے کیمپوں کو ختم اور چین سے باہر مقیم  ویغور خاندانوں کو ہراساں کرنا بند کیا جائے۔ انہوں نے دنیا کے ممالک پر زور دیا کہ وہ چینی حکام پر معاشی پابندیاں عائد کریں اور چین سے فرار ہونے والی مسلمان اقلیتوں کو فوری طور پر سیاسی پناہ دیں۔

چین نے یہ کہتے ہوئے وسیع پیمانے پر حراستوں کی اپنی حکمت عملی کا دفاع کیا ہے کہ یہ انسداد دہشت گردی کی کاوشوں کا ایک اہم حصہ ہیں۔ ماہرین کے گروپ نے اس دعوے کو رد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "آج جو کچھ (سنکیانگ ویغور خودمختار خطے میں) ہو رہا ہے، اگر عالمی برادری نے اس پر توجہ نہ دی تو پھر امکان ہے کہ ہم دنیا کی دیگر ان آمرانہ ریاستوں میں بھی یہی کچھ ہوتا دیکھیں گے جو"دہشت گردی" کا نام استعمال کرتی ہیں۔