چینی حکومت نے “عقیدے کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے”: امریکی سفیر

امریکی سفیر برائے مذہبی آزادی، سیم براؤن بیک چینی حکومت سے مذہبی ظلم و زیادتیاں ختم کرنے کا کہہ رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ تنبیہہ بھی کر رہے ہیں کہ چین کی اس پالیسی کی وجہ سے دہشت گردی رکنے کی بجائے پھیل رہی ہے۔

“ہانگ کانگ کارسپانڈنٹس کلب” [ہانگ کانگ میں اخباری نمائندوں کے کلب] میں 8 مارچ کو خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین کے سرکاری اہل کاروں نے “عقیدے کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جو وہ جیتیں گے نہیں۔”

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ چینی عوام کا امریکی بہت احترام کرتے ہیں، براؤن بیک نے اس امر کا ذکر کیا کہ چینی رہنما بدستور “مذہبی آزادی کے مقدس حق کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔” جولائی 2018 میں محکمہ خارجہ نے آزادی کے فروغ کے لیے دینی علما کی پہلی کانفرنس کی میزبانی کی اور دوسری کانفرنس 16 تا 18 جولائی 2019 کو ہو رہی ہے۔

براؤن بیک نے چین کے شمال مغربی خطے شنجیانگ میں  اُن وسیع و عریض حراستی کیمپوں کے بارے میں بات کی جہاں تقریباً دس لاکھ  ویغور، قازق النسل اور مسلمان اقلیت کے دیگر گروہوں کے لوگوں کو یکطرفہ طور پر حراست میں رکھا ہوا ہے۔

براؤن بیک نے کہا، “ٹرمپ انتظامیہ کو اس پر گہری تشویش ہے۔ انتظامیہ اس جبر کو بیجنگ کی طرف سے مسلمان اقلیتی گروہوں  کی شناخت، ثقافت اور عقیدے کی از سرِنو تعریف کرنے اور اسے کنٹرول کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش سمجھتی ہے۔”

Buildings behind barbed wire (© Ng Han Guan/AP Images)
شنجیانگ کے علاقے میں روز بروز بڑھتے ہوئے اُن حراستی کیمپوں میں سے ایک کیمپ جہاں مسلمانوں کو حراست میں رکھا جاتا ہے۔ (© Ng Han Guan/AP Images)

براؤن بیک نے کہا کہ وہ اِن کیمپوں تک بلا روک ٹوک رسائی چاہتے ہیں تا کہ وہ زیرحراست افراد سے بغیر کسی رکاوٹ کے بات کر سکیں۔

انہوں نے کہا، “[کیمپوں] سے آنے والے افراد کی گواہیوں کی بنیاد پر یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ شنجیانگ میں چین کی گمراہ کن اور ظالم پالیسیاں، ناراضگی، نفرت، تقسیم، غربت اور غصہ پیدا کر رہی ہیں۔ ایک چینی اہل کار کے اپنے الفاظ میں اس سے یقینی طور پر ‘دہشت گردی کی فصل کے لیے زرخیز زمین تیار ہو رہی ہے۔'”

سفیر نے چین کی جانب سے تبتی بدھوں اور چینی عیسائیوں جیسی دیگر مذہبی اقلیتوں کے ساتھ روا رکھی جانے والی  بدسلوکیوں کے بارے میں بھی خدشات کا اظہار کیا۔ حالیہ مہینوں میں اِن مذہبی اقلیتوں کو بھی دن بدن بڑھتے ہوئے جبر کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ چینی پادری وانگ ژی اور اُن کی اہلیہ جیانگ رون کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ اُن پر”ریاستی اقتدار کو درہم برہم کرنے پر اکسانے” کا فرضی الزام ہے۔ اسی طرح انہوں نے جان سان کیانگ چاوً کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے جنہیں مشنری کام کرنے کی وجہ سے جیبل میں ڈالا ہوا ہے۔

براؤن بیک نے کہا، “چین میں آزادی کے دروازے کھل جائیں گے اور مذہبی ظلم و زیادتی کا آہنی پردہ ہٹ جائے گا۔ اس وقت چینی حکومت تاریخ کی غلط طرف کھڑی ہے۔”