چینی کمیونسٹ پارٹی بھوتوں سے کیوں خوفزدہ ہے؟

ڈراؤنی فلمیں یا زمان و مکان کی جہتوں پر پھیلی ہوئی مہماتی کہانیاں کسے پسند نہیں؟

چینی کمیونسٹ پارٹی باقاعدگی سے چین کے اندر ایسی فلموں، اخبارات، ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا کو سنسر کرتی رہتی ہے جن میں تبت میں اس کے جبر، تیاننمن سکوائر میں اس کی کاروائیوں اور ہاں اس کی سنسرشپ پر تنقید کی گئی ہو۔

مگر چین کی کمیونسٹ پارٹی (سی سی پی) بھوتوں اور زمانے کے سفر سے خوفزدہ کیوں ہے؟

آزادی اظہار کا دفاع  کرنے والی تنظیم "پین امریکہ” کی "ہالی وڈ نے بنایا، بیجنگ نے سنسر کیا” کے عنوان سے جاری کی جانے والی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، سی سی پی ایسے موضوعات کو سنسر کرتی ہے جو ناظرین کو اس کے آمرانہ اختیارات اور بدعنوانی کی یاد دلاتے ہیں۔

اوون جن چین میں پیدا ہونے والے ایک برطانوی فنکار ہیں۔ اوون کا حوالہ دیتے ہوئے اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چینی ادب اور لوک کہانیوں میں "شیطانی بھوت” بدعنوان عہدیداروں کے استعارے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ جن نے بتایا، "اگرچہ مغرب کے نزدیک بھوتوں کی کہانیوں پر پابندی لگانا ایک احمقانہ اور مضحکہ خیز حرکت ہے مگر اس کے پیچھے وہ گہرا اور تاریخی خوف کارفرما ہوتا ہے جو (چینی) حکومت کو اپنے ہی لوگوں سے محسوس ہوتا ہے۔”

2016ء میں "گھوسٹ بسٹرز” (بھوتوں کو ختم کرنے والے) کے نام سے امریکہ میں دوبارہ بنائی جانے والی مزاحیہ فلم پر چین میں پابندی لگا دی گئی۔ یہ فلم "دہشت، بھوت اور مافوق الفطرت ” کرداروں والی فلموں پر عائد سی سی پی کی 2008ء کی پابندیوں کا نشانہ بنی۔

ہالی ووڈ کے ایک لکھاری نے "پین امریکہ” کو بتایا کہ 1990 کی ڈیمی مور کی مقبول فلم "گھوسٹ” (بھوت) کا  آج دوبارہ بنائے جانے کا امکان نہیں ہے کیونکہ سی سی پی کے سنسر حکام کی طرف سے اس فلم  پر منافع بخش چینی مارکیٹ میں دکھانے پر پابندی لگائے جانے کا خوف پایا جاتا ہے۔

 سائیکلوں کے پیچھے کھڑا ایک سکیورٹی گارڈ فلمی پوسٹر دیکھ رہا ہے (© Greg Baker/AP Images)
25 اپریل 1997 کو بیجنگ کے ایک سینما گھر کے باہر ایک سکیورٹی گارڈ فلمی پوسٹروں کو دیکھ رہا ہے۔ (© Greg Baker/AP Images)

"پین امریکہ” رپورٹ اس بات کا حالیہ ترین، محض ایک ثبوت ہے کہ معلومات پر اپنی گرفت برقرار رکھنے کے لیے سی سی پی کہاں تک جا سکتی ہے۔ صحافیوں کا تحفظ کرنے والی کمیٹی نے دسمبر 2019 کی ایک رپورٹ میں کہا کہ دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں چین زیادہ صحافیوں کو جیلوں میں بند کرتا ہے۔

انٹر نیٹ پر نظر رکھنے کے لیے سی سی پی ہزاروں افراد کو قومی، صوبائی اور مقامی سطحوں پر استعمال کرتی ہے۔ پابندی کی زد میں آنے والے مواد کا تعلق تیاننمن سکوائر میں 1989ء میں انسانی حقوق کی حکومتی خلاف ورزیوں کے حوالوں سے لے کر "وِنی دا پوُ” تک ہوتا ہے۔ موخرالذکر کو بعض اوقات انٹرنیٹ کے چینی صارفین صدر شی جن پھنگ کے حوالے سے استعمال کرتے ہیں۔

تاریخ میں ردوبدل

حکومت یہ یقینی بنانے کی کوشش کرتی ہے کہ چینی قوم تاریخ کو پارٹی کے نقطہ نظر سے سیکھے۔

سی سی پی سنسرز نے 2011ء میں زمانے کے سفر کی عکاسی پر پابندی لگاتے ہوئے یہ دعوٰی کیا کہ ایسی فلمیں "سنجیدہ تاریخ کے ساتھ  بے ہودہ سلوک کرتی ہیں۔” اگرچہ پابندی مبہم ہے، مگر ہالی وڈ کے ایک پروڈیوسر نے "پین امریکہ” کو بتایا کہ زمانے کے سفر کی کہانیاں تاریخ کی مختلف تشریحات بھی پیش کر سکتی ہیں۔

جدید تاریخ کا ایک ناقدانہ نقطہ نظر پیش کرنے کی وجہ سے 2019ء میں”علیحدگی پسندی” اور "قومی اتحاد کو سبوتاژ کرنے” کے الزامات کے تحت، منگولیائی تاریخ دان لحامجب بوریجن کو جیل کی ہوا کھانا پڑی۔ انہوں نے ثقافتی انقلاب کے دوران سی سی پی کی پشت پناہی میں اندرونی منگولیا میں ڈھائے جانے والے مظالم کو دستاویزی شکل میں محفوظ کرکے ایک کتاب کی صورت میں شائع کیا۔

انسانی حقوق کی پامالیوں پر پردہ ڈالنا

سی سی پی کی سنسرشپ کی پہنچ چینی سرحدوں سے باہر تک پھیلی ہوئی ہے۔ سی سی پی چین کے فلم بینوں کی مارکیٹ تک رسائی دینے کے بدلے دنیا بھر کے فلم  سازوں سے تفصیلات تبدیل کرنے، کرداروں میں ترمیم کرنے اور کہانی کے اہم نقاط دوبارہ لکھنے کے مطالبات  کرتی ہے۔

امریکہ کے ایک فلمی ہدایت کار، جڈ ایپاٹو نے حال ہی میں ایم ایس این بی سی ٹیلیویژن کو بتایا کہ شنجیانگ میں دس لاکھ سے زائد ویغوروں اور دیگر اقلیتوں کے لوگوں کی حراست جیسی سی سی پی کی انسانی حقوق کی پامالیوں کے بارے میں دنیا کی آنکھیں کھولنے جیسی فلمیں ہو سکتا ہے کبھی بھی نہ بن پائیں۔

ایپاٹو نے بتایا، "ہمارا چین کے ساتھ کاروبار کرنے اور نتیجتاً چین کے مزید آزاد ہونے کی بجائے ہوا یہ ہے کہ  … چین نے اپنے پیسے سے ہماری خاموشی خرید لی ہے۔”

جولائی میں امریکی وزیر انصاف ولیم بار نے کہا،”عالمگیریت ہمیشہ عظیم تر آزادی کی طرف لے کر نہیں جاتی۔ اشتراکی چین کے ڈھول کی تھاپ پر چلنے والی دنیا ایسے اداروں کے لیے مہمان نواز نہیں ہوگی جن کا انحصار آزاد منڈیوں، آزاد تجارت، یا نظریات کے آزادانہ تبادلے پر ہوتا ہے۔”