امریکی کالج اور یونیورسٹیاں اپنے ہاں دنیا بھر کے طلبا و طالبات کو داخلے دیتی ہیں۔ اس سے ہرایک کا فائدہ ہوتا ہے کیونکہ طالب علم گوناگوں نقطہائے نظر اور تجربات کے حامل اپنے ساتھی طالب علموں کے ساتھ گھلتے ملتے ہیں۔

Line of marchers with "Stop the war now!" sign (© AP Images)
ویت نام کی جنگ کے بارے میں اپنے جذبات کے اظہار کے لیے 1969 میں نیو اورلینز کالج کے طلبا ایک پرامن مظاہرے میں شریک ہیں۔ (© AP Images)

اور یہ ہونا بھی ایسے ہی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ چین کی نہ صرف اپنی سرحدوں کے اندر بلکہ دیگر ممالک کی یونیورسٹیوں میں آزادی اظہار کو دبانے کی کوششیں باعث تشویش ہیں۔

یونیورسٹیاں آزادی اظہار پر انحصار کرتی ہیں۔ معیاری تحقیق اور عالمانہ برتری کا انحصار، معلومات کے آزادانہ بہاؤ اور خیالات کے کھلے اظہار پر ہوتا ہے۔ اساتذہ اور طالب علم یکساں طور پر کھرے الفاظ میں اپنے دل کی بات کرتے ہیں خواہ اُن کے خیالات سیاسی لیڈروں کے نزدیک ناقدانہ ہی کیوں نہ ٹھہریں۔

جب پہلے پہل چین کی کمیونسٹ پارٹی نے چینی طالب علموں کو مغربی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی تو انہوں نے مبینہ طور پر اِن طالب علموں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی خاطر چینی طلبا اور چینی سکالروں کی ایک ایسوسی ایشن بنائی۔ اس ایسوسی ایشن کی 150 شاخیں امریکی یونیورسٹیوں میں ہیں جب کہ ایک درجن سے زیادہ دیگر ممالک میں ہیں۔ اِن کی رکنیت صرف چینی شہریوں تک محدود ہے۔ چینی قونصل خانے اکثر اِنہیں پیسے اور ہدایات دیتے رہتے ہیں۔

بیرونی ممالک میں طلبا کو نئے ماحول کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے میں مدد کرنے پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔ مگر امریکی تھینک ٹینکوں کی جانب سے اور آزادانہ طور پر تیار کی گئی بیسیوں رپورٹوں میں ایسے واقعات درج ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ اِس ایسوسی ایشن کا حقیقی مقصد چینی حکومت کے نزدیک ناپسندیدہ نقطہائے نظر کو دبانا ہے۔

    • اِس ایسوسی ایشن کے ممبروں پر مبینہ طور پر دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ وہ یونیورسٹیوں میں ہونے والے ایسے بحث مباحثوں کی اطلاع دیں "جو سرکاری …  سیاسی حساسیات کے خلاف ہوں۔" (ہوور انسٹی ٹیوشن رپورٹ)
    • چینی قونصل خانے طلبا کو چینی حکومت کو ناراض کرنے والی تقاریر اور تقاریب کو درہم برہم کرنے کی ترکیبوں کے بارے میں ہدایات دیتے ہیں۔ (ہوور)
    • جنوری میں ٹورنٹو، کینیڈا میں چینی قونصل خانے نے ایک ایسے ویغور سرگرم کارکن کو ڈرانے دھمکانے کی خاطر ایسوسی ایشن کے مقامی دفتر کے ساتھ رابطہ کاری کی جسے شنجیانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔
    • جب چینی اعلٰی حکام امریکہ کے دوروں پر آتے ہیں تو چین کا سفارت خانہ چینی طالب علموں کو خیر مقدمی جلوسوں کے لیے پیسے دیتا ہے۔ (فارن پالیسی رپورٹ)
Demonstrators holding signs and Chinese and American flags (© Manuel Balce Ceneta/AP Images)
ورجینیا ٹیک یونیورسٹی میں چینی طالب علموں اور سکالروں کی ایسوسی ایشن کے اراکین 2012ء میں واشنگٹن میں اس وقت کے نائب صدر، شی جن پھنگ کے استقبال کے لیے کھڑے ہیں۔ (© Manuel Balce Ceneta/AP Images)

تاہم اس ایسوسی ایشن کی سب شاخیں قونصل خانوں کے مطالبات پورے نہیں کرتیں اور جب کوئی شاخ ایسا کرتی ہے تو سب چینی طالب علم اِس کے ساتھ متفق نہیں ہوتے۔ 'چینی طالب علموں اور سکالروں کی آزاد فیڈریشن' نامی ایک تنظیم نے ایک خط جاری کیا جس میں کینیڈا میں چینی قونصل خانے اور اُن طالب علموں کی مذمت کی گئی ہے جنہوں نے یونیورسٹی میں آزادی اظہار کو سنسر کرنے کی کوششیں کیں۔

تائیوان سے تعلق رکھنے والی ایک محقق کہتی ہیں کہ انہوں نے اُن ویغوروں اور تبتیوں کے ساتھ یکجہتی کی وجہ سے اس خط پر دستخط کیے ہیں جن کی آوازوں کو پارٹی کی طرف سے دبایا جاتا ہے۔ پارٹی کی ایسی حرکتوں کا مقصد یونیورسٹیوں میں آزادانہ اظہار رائے کو خاموش کرانا ہوتا ہے۔ اِس محقق نے تائیوانی طالب علموں کو اپنی شناخت کے بارے میں بات کرنے سے روکنے کا مطالبہ کرنے والے چینی طلبا کے بارے میں سن رکھا ہے کیونکہ اس سے "چینی جذبات مجروح ہوتے ہیں۔"

ولسن سنٹر نے بھی اسی طرح کے واقعات کی تصدیق کی ہے۔ اِن واقعات میں چینی طالب علموں نے اساتذہ کو اپنے لیکچروں اور تدریسی مواد میں ردوبدل کا کہا۔ طالب علموں نے "جذبات کے مجروح ہونے" کا حوالہ دیا، مگر اُن کے اعتراضات کا سیاسی مطلب ہونا صاف سمجھ میں آتا ہے۔

تائیوانی محقق اِن اعتراضات کو یہ کہتے ہوئے مسترد کرتی ہیں، "میں اسے ڈرانا دھمکانا اور لغویات سمجھتی ہوں۔"