چین مساجد اور ویغور ثقافت کو تباہ کر رہا ہے

مغربی چین میں کیریا عتیقہ چوک کی عالیشان آرائش والی مسجد غائب ہو چکی ہے اور اب وہاں مٹی کا ڈھیر ہے۔

جی آئی ایف جس میں تصاویر اور عبارت کے ذریعے کیریا عتیقہ چوک کی مسجد کی جگہ کو مسمار کیے جانے سے پہلے اور بعد میں دکھایا گیا ہے۔ (State Dept./S. Gemeny Wilkinson)
(State Dept./S. Gemeny Wilkinson)

یہ مسجد کم از کم اُن 31 مساجد اور ویغوروں کے دو مقدس مقامات میں شامل ہے جنہیں چینی حکومت نے 2016ء سے لے کر اب تک چین کے صوبے شنجیانگ میں یا تو مسمار کردیا ہے یا انہیں جزوی طور پر توڑدیا گیا ہے۔ تفتیشی صحافت کے دو برطانوی گروپ یعنی گارڈین اور بیلنگ کیٹ نے سیٹلائٹ سے لی جانے والی تصاویر کی بنیاد پر یہ نتائج اخذ کیے ہیں۔

سامنے آنے والی یہ معلومات چینی ویغوروں اور دیگر مسلمان نسلی اقلیتی گروہوں کے خلاف جاری چینی مہم کا تازہ ترین ثبوت ہیں۔

وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے 3 جون کو کہا، “کمیونسٹ پارٹی کی قیادت منظم انداز سے ویغوروں کی ثقافت کا گلا گھونٹنے اور اسلامی مذہب کو مٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔”

اپریل 2017 سے لے کر اب تک دس لاکھ سے زائد ویغوروں، نسلی قازقوں اور دیگر مسلمان نسلی اقلیتوں کے گروہوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو شنجیانگ صوبے میں قائم حراستی کیمپوں میں ڈالا جا چکا ہے۔ اِن کیمپوں کے اندر قیدیوں کو مبینہ طور پر مارا پیٹا جاتا ہے، اُن پر تشدد کیا جاتا ہے اور اُنہیں اسلام ترک کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

وردیوں میں ملبوس سکیورٹی اہل کار مسجد کے قریب سے گزر رہے ہیں۔ (© Ng Han Guan/AP Images)
2017ء میں چین کے شنجیانگ کے صوبے میں عید گاہ مسجد کے قریب سکیورٹی کے اہل کار گشت کر رہے ہیں۔ (© Ng Han Guan/AP Images)

نوٹنگہیم یونیورسٹی کے پروفیسر ریان تھم نے گارڈین کو بتایا، “چینی حکومت ویغوروں کی ثقافت کو جڑوں سے ختم کرنا چاہتی ہے اور اپنی سرزمین کے ساتھ اُن کے تعلق کو توڑنا چاہتی ہے۔ ویغور تاریخ  کے سنگہائے میل کی حیثیت رکھنے والی اُن کے آبا و اجداد کی قبروں، اور مقدس مزارات  کی بے حرمتی اس بات کے واضح ثبوت ہیں اور اِن سے بڑھکرکا کوئی اور ثبوت ہو ہی نہیں سکتا۔”

خاتون ویٹر دورازے سے باہر نکل رہی ہے۔ (© Thomas Peter/Reuters)
شنجیانگ، چین میں ایک خاتون ویٹر شراب خانے سے شراب لے کر باہر نکل رہی ہے۔ یہ جگہ کبھی مسجد ہوا کرتی تھی۔ (© Thomas Peter/Reuters)

شنجیانگ میں چینی حکومت کی جانب سے عوام پر جیل جیسی  سختیوں کی وجہ سے مخصوص مساجد کے بارے میں تفصیلات کی تصدیق کرنا مشکل ہے۔

شنجیانگ سے آنے والی اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ چین نے مساجد کو کمیونسٹ پراپیگنڈے کے مراکز، تفریحی ہالوں یا شراب خانوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ مسلمانوں کے نزدیک شراب حرام  ہے۔ ویغوروں کی وکالت میں چلائی جانے والی مہم کے گروپ کے سربراہ روشن عباس نے بتایا کہ شنجیانگ میں رہنے والے لوگ حکام کے خوف کی وجہ سے مساجد کو مٹانے کے بارے میں بات نہیں کر سکتے۔ وہ بتاتے ہیں کہ وہاں کے لوگ “یہ نہیں کہتے، ‘دیکھیں، یہ مسجد شراب خانہ بن چکی ہے۔’ بلکہ وہ کہتے ہیں ‘ اوہ، اُس جگہ ایک نیا شراب خانہ کھل گیا ہے جہاں پہلے ایک قدیم مسجد ہوا کرتی تھی۔ کیا بات ہے۔'” عباس کا کہنا ہے، ” تاہم، ہم سمجھ جاتے ہیں۔”

روزنامہ وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹر، ایوا ڈُو کو شنجیانگ کے اپنے حالیہ دورے کے دوران پتہ چلا کہ آکسو شہر کے اندرونی حصے میں واقع ایک مسجد کو بند کردیا گیا ہے اور اب اس کو  مردہ خانے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی اور یونیورسٹی آف ہارورڈ کی طرف سے اپریل میں ویغوروں کے انسانی حقوق کے بحران پر ہونے والی ایک کانفرنس میں شرکت کرنے والے یونیورسٹی آف واشنگٹن کے علم  بشریات کے سماجی اور ثقافتی شعبے کے لیکچرار، ڈیرن بائلر نے کہا کہ 2014ء میں شنجیانگ کی مساجد نمازیوں سے بھری ہوئی ہوتی تھیں۔  بائلر کہتے ہیں کہ بعض مساجد “اب بھی کھلی ہیں، مگر اُن کے سامنے چیک پوسٹیں بنائی گئی ہیں تاکہ اِن میں کوئی داخل نہ ہوسکے۔”