چین کا انسانی حقوق کی پامالیوں کا چلن جاری

کھڑکی پر لگے پھولوں والے پردے کے قریب بیٹھی ایک عورت (© Fred Dufour/AFP/Getty Images)
جیل میں بند چینی منحرف، ہوانگ چی کی والدہ، پُو وینگچنگ کی 2018ء میں بیجنگ کی ایک تصویر۔ چینی حکام نے پُو کو اپنے بیٹے سے ملاقات کرنے یا بات کرنے کے حق سے محروم رکھا۔ (© Fred Dufour/AFP/Getty Images)

سابق صحافی اور سنسر شپ کے مخالف، ژانگ جیالانگ کو ٹوئٹر پر چینی حکومت پر تنقید کرنے کی پاداش میں مئی میں مقدمے کا سامنا کرنا پڑا۔

اطلاعات کے مطابق چینی حکام نے ژانگ پر "جھگڑے کرنے اور گڑبڑ پھیلانے” کے الزامات لگائے۔ وہ چینی کمیونسٹ پارٹی یا سی سی پی کے انسانی حقوق کی پامالیوں اور سنسرشپ کی جاری روش کے تحت سی سی پی کی نامہ نگاروں، وکلاء اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کی مسلسل نظربندیوں کا تازہ ترین شکار ہیں۔

چین کے بارے میں امریکی کانگریس کے ایگزیکٹو کمشن نے ژانگ کی فوری رہائی اور پریس کی آزادی اور اظہار رائے کی آزادی پر "بڑھتی ہوئے ظالمانہ پابندیوں” کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکی کانگریس نے یہ کمشن چین میں انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی پر نظر رکھنے کے لیے تشکیل دیا ہے۔

صحافی

چینی کمیونسٹ پارٹی کی میڈیا کے اداروں اور پروپیگنڈے پر کڑی گرفت ہے۔ گزشتہ برس، دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں چینی حکومت نے سب سے زیادہ صحافیوں کو قید میں ڈالا۔

میز پر رکھے لیپ ٹاپ پر کام کرتا ہوا ایک آدمی (© Gillian Wong/AP Images)
سال 2012 کی اس تصویر میں ہوانگ چی چینگڈو، چین میں اپنے گھر میں اپنے لیپ ٹاپ پر کام کر رہے ہیں۔ (© Gillian Wong/AP Images)

 

ایک شہری صحافی، ہوانگ چی کو گزشتہ برس ’64 ٹیان وانگ’ نامی اپنی ویب سائٹ پر سرکاری بدعنوانی کو بے نقاب کرنے کے الزام میں 12 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

ہوانگ چی کی 86 سالہ والدہ کو اپنے بیٹے سے ملنے کی اجازت نہ دینے پر وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو نے حال ہی میں عوامی جمہوریہ چین کی مذمت کی۔ چی کی والدہ شدید بیمار ہیں۔

وزیر خارجہ نے 3 مئی کی ایک ٹویٹ میں کہا، "ہم پی آر سی سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ہوانگ کو رہا کرے، اُن کی اپنی والدہ سے ملاقات میں آسانیاں پیدا کرے اور تقریر کی آزادی کو دبانا بند کرے۔”

انسانی حقوق کے محافظ

منڈھے سر والی عورت کے ارد گرد قانون نافذ کرنے والے افسران نے گھیرا ڈالا ہوا ہے (© Mark Schiefelbein/AP Images)
قانون نافذ کرنے والے ادارے کے افسران نے 2018ء میں بیجنگ میں انسانی حقوق کے چینی وکیل وانگ کوانژانگ کی بیوی، لی وینزو کو اس وقت گھیرے میں لے رکھا ہے جب وہ حکام کی طرف سے اپنے خاوند کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے ایک درخواست دینے کی کوشش کر رہی تھیں۔ (© Mark Schiefelbein/AP Images)

محکمہ خارجہ کی انسانی حقوق کی رپورٹ کے مطابق کئی برسوں سے چین انسانی حقوق کے وکلا کو نشانہ بناتا چلا آ رہا ہے۔ مثال کے طور پر 2015 میں پی آر سی نے 300 سے زائد انسانی حقوق کے وکلا اور اُن کے معاونین کو گرفتار کیا۔

محکمہ خارجہ نے اپریل میں کہا کہ امریکہ "اُن چینی شہریوں” کی رہائی کا مطالبہ کرتا ہے "جنہیں قید میں صرف اس لیے ڈالا گیا ہے کہ وہ اپنے انسانی حقوق بروئے کار لائے اور زیادہ منصفانہ اور انصاف پسند معاشرے کے لیے کوششیں کیں۔”