چین کا نگرانی کرنے والا ایپ

دنیا بھر میں سمارٹ فون ایپ راہنمائی فراہم کرتے ہیں، اِن کے ذریعے موسیقی سنی جاتی ہے اور سوشل میڈیا پر دوست ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔ مگرچین میں، ایپس بھی عام شہریوں کو قابو میں رکھنے کی خاطر ایک آلے کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔

چینی حکام شنجیانگ، چین میں عام شہریوں کی نگرانی کرنے کے لیے خاص طور پر آئی جے او پی (مربوط مشترکہ کاروائیوں کے پلیٹ فارم) کے نام سے پہچانے جانے والے ایپ کو استعمال کرتے ہیں۔

"ہیومن رائٹس واچ"  نامی انسانی حقوق کی چین کی ڈائریکٹر، سوفی رچرڈسن اس ایپ کو "نگرانی کے نظام کا مرکزی اعصابی نظام" قرار دیتی ہیں کیونکہ اس میں کلوز سرکٹ اور چہروں کی شناخت کرنے والے کیمروں سمیت  نگرانی کرنے والے مختلف ذرائع  سے ملنے والے ڈیٹا کو ایک جگہ اکٹھا کیا جاتا ہے۔ چین نے نگرانی کرنے والے یہ آلات پورے شنجیانگ صوبے میں پھیلا رکھے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ یہ ایپ پولیس کو ڈیٹا کے درجنوں ٹکڑوں کو دیکھنے کے لیے متحرک کرتا ہے جن میں کسی شخص کے پیشے، مذہب سے لے کر قد تک ہر ایک چیز شامل ہوتی ہے۔ اِن معلومات سے اس بات کا تعین کیا جاتا ہے کہ کیا:-

  • متعلقہ فرد نے حال ہی میں سمارٹ فون استعمال کرنا بند کر دیا ہے۔
  • متعلقہ فرد ریاستی اجازت نامے کے بغیر حج پر گیا ہے۔
  • متعلقہ فرد نے معمول سے زیادہ بجلی استعمال کی ہے۔
  • متعلقہ فرد مقامی کمیونسٹ پارٹی کی سرگرمیوں میں حصہ لینے میں ناکام رہا ہے۔
  • متعلقہ فرد کی سزائے موت پانے والے کسی شخص کے ساتھ  کوئی رشتہ داری ہے۔

اکٹھا کرنے کے بعد ان معلومات کو چہروں کی شناخت کرنے والے کیمروں، پولیس کے ناکوں، ٹیلی فونوں کے سکینوں اور آن لائن جاسوسی سے حاصل کی جانے والی معلومات سے جوڑا جاتا ہے۔ اس طرح حاصل ہونے والے ڈیٹا کو تجزیے کے لیے چینی حکومت کے کمپیوٹروں میں ڈالا جاتا ہے جس کے نتیجے میں اُن افراد کی نشادہی کی جاتی ہے جن سے خطرات لاحق ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

شنجیانگ میں مسلمان اقلیت پر کیے جانے والے جبر پر امریکہ کے محکمہ خارجہ میں 7 اگست کو پینل کی شکل میں ہونے والی ایک  بحث میں رچرڈسن نے کہا، "اگر ایپ فیصلہ کرے کہ آپ کا رویہ مشکوک ہے تو پھر مقامی حکام کی طرف سے آپ کی پوچھ گچھ  شروع ہو جاتی ہے۔"

جدید ٹکنالوجی کے ذریعے جاسوسی کی غرض سے کی جانے والی نگرانی، چین کی نسلی اقلیتوں کے خلاف جاری کاروائیوں کا حصہ ہے۔

حکام اس ایپ کو یہ فیصلہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں کہ حراستی کیمپوں میں کس کس کو بھیجا جائے۔ چینی حکام  اپریل 2017 سے لے کر اب تک دس لاکھ سے زائد ویغوروں، نسلی قازقوں، نسلی کرغیزوں اور شنجیانگ کی مسلمان نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو اِن حراستی کیمپوں میں نظربند کر چکے ہیں۔ حراست کے دوران ہلاکتوں اور جبری مشقت، تشدد اور دیگر ہتک آمیز سلوک کی قابل اعتماد اطلاعات موجود ہیں۔

بین الاقوامی مذہبی آزادی کے لیے امریکہ کے عمومی سفیر سیم براؤن بیک کا کہنا ہے کہ چین کا "جدید ٹکنالوجی کے جاسوسی کے ظالمانہ نظام" کو استعمال کرتے ہوئے اقلیتوں کا پیچھا کرنا، جابر اور ظالمانہ فعل ہے۔ یہ "اِن نسلی اقلیتوں کی زندگیوں کے ہر پہلو کو متاثر کرتا ہے۔"