(© Greg Baker/AFP/Getty Images)
چین میں ویغور نسل کی ایک عورت اور اُس کے ہن نسل کے خاوند نے شادی کے اپنے سرٹیفکیٹ پکڑے ہوئے ہیں۔ (© Greg Baker/AFP/Getty Images)

چین کے مغربی سنکیانگ صوبے میں ویغور خواتین ہن نسل کے مردوں سے شادیاں کر رہی ہیں مگر اس میں ان عورتوں  کی مرضی شامل نہیں ہوتی۔ اگر وہ ایسا کرنے سے انکار کر دیں تو خواتین اور ان کے اہلخانہ کو گرفتار کیا جا سکتا ہے یا انہیں کسی حراستی کیمپ میں بھیجا جا سکتا ہے۔

ویغور باشندوں کی اکثریت مسلمان  ہے اور ترک نسل سے تعلق رکھنے والی ایک نسلی اقلیت  ہے۔ اس کے برعکس  ہن نسل چین کی سب سے بڑی نسل ہے۔ تاریخی طور پر دیکھا جائے تو دونوں نسلوں کی باہمی شادیاں بہت کم دیکھنے کو ملتی  ہیں۔

چینی حکومت اس صورت حال کو تبدیل کرنا چاہتی ہے۔

جبری شادیاں چین کی جانب سے ویغور ثقافت کو ختم کرنے اور انہیں ہن اکثریتی سماج میں ضم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ یہ ویغور باشندوں کی زندگی کے ہر پہلو کو حکومت کے اپنے تابع کرنے کی ایک اور مثال ہے۔ اس کے علاوہ ویغوروں کو اپنی مرضی سے بچوں کے نام رکھنے سے روکنے اور ان کے کھانے پینے کے انتخاب پر پابندیوں سمیت چینی حکومت کے دیگر اقدامات بھی ان کوششوں میں شامل ہیں۔

چند سال پہلے حکومت نے بین النسلی جوڑوں کی باہمی شادیوں کے لیے نقد رقومات کی پیشکش کی تھی۔ جب یہ طریقہ کارگر ثابت نہ ہوا تو حکومت نے آن لائن ویڈیوز اور رسالوں کے ذریعے بین النسلی شادیوں کو فروغ دینے کی کوشش کی جن میں خوش باش جوڑے دکھائے جاتے تھے اور ہن مردوں کو ”کسی ویغور لڑکی کا دل جیتنے” کے گُر بتائے  جاتے تھے۔

چین میں اپنے اپارٹمنٹ کے باہر ویغور نسل کی ایک عورت اپنے ہن نسل کے چینی خاوند کے ساتھ۔ (© Greg Baker/AFP/Getty Images)
An ethnic Uighur and her Han husband outside their apartment in China. (© Greg Baker/AFP/Getty Images)

تاہم چین سے باہر مقیم ویغور باشندوں کا کہنا ہے کہ حقیقت میں ویغورعورتوں کے لیے کوئی اور راستہ  ہی نہیں۔

واشنگٹن میں انسانی حقوق کی تنظیم ”مہم برائے ویغور” کے ڈائریکٹر روشن عباس کا کہنا ہے، ”یہ شادیاں جبراً کرائی جا رہی ہیں۔ اگر یہ لڑکیاں ان لڑکوں کے ساتھ شادی سے انکار کر دیں تو انہیں یا ان کے والدین کو حراستی کیمپوں میں جانا پڑے گا۔”

شنجیانگ میں قریباً 1200 حراستی  کیمپ قائم ہیں۔ اپریل 2017 سے اب تک چینی حکام 10 لاکھ سے زیادہ  ویغور، قازق، کرغیز اور دیگر مسلم اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو قید میں ڈال چکے ہیں۔ امریکی دفتر خارجہ کی 2019 میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق یہ کیمپ  نسلی و مذہبی شناخت کے خاتمے کے لیے بنائے گئے ہیں۔

لوگوں کو سر پر رومال اوڑھنے جیسی معمول کی سرگرمیوں کی پاداش میں  بغیرمقدمہ چلائے ان کیمپوں میں قید  رکھا جاتا ہے۔ ان کیمپوں میں قید کے دوران اموات اور جبری مشقت، تشدد و دیگر ہتک آمیز سلوک کی مصدقہ اطلاعات ہیں۔

ٹوئٹر کی عبارت کا خلاصہ:

جیمز لیبولڈ: سائنوفون انٹرنیٹ پر ہن اور ویغوروں کی باہمی شادیوں کی وڈیوز کی بھرمار ہے۔ اس وڈیو میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ شنجیانگایک  طویل عرصے سے نسلی طور پر ایک مخلوط خطہ چلا آ  رہا ہے اور اب محفوظ علاقہ ہونے کے ساتھ ساتھ بہت سی خوبصورت اور اہل ویغور عورتوں کا مسکن ہے جو پیار کرنے والے ہن خاوندوں کو پسند کرتی ہیں۔

ہن مردوں کا سیلاب

گزشتہ دو برسوں میں چینی حکومت نے 11 لاکھ سرکاری اہل کاروں کو سنکیانگ میں ویغور باشندوں کے گھروں میں رہنے کے لیے بھیجا تاکہ وہ ان کی مذہبی سرگرمیوں اور سیاسی وفاداریوں پر نظر رکھ  سکیں اور اطلاع دے سکیں۔ مقامی طور پر ان اہل کاروں کو ”رشتہ دار” کہا جاتا ہے۔ ایسے اقدامات اور کیمپوں میں نوجوان ویغور مردوں کو قید کیے جانے سے، شنجیانگ میں ہن مردوں کا تناسب بڑھ گیا ہے۔

یونیورسٹی آف واشنگٹن میں ماہر بشریات ڈیرن بیلر نے اپنے حالیہ مضمون کے لیے شنجیانگ کی خواتین سے بات کی جنہوں  نے بتایا کہ ان پر حال ہی میں آنے والے  ہن چینی مردوں سے شادی کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ انہی میں گل میرا نامی ایک خاتون نے بتایا کہ ان کا آجر باقاعدگی سے جمعے کی شام ویغور خواتین اور ہن مردوں کے لیے رقص کی محفلوں کا اہتمام کرتا ہے۔

گل میرا نے بیلر کو بتایا کہ ”حالیہ دنوں میں بہت سی خواتین ”رشتہ داروں” سے شادیاں کر رہی ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شادی سے انکار کرے تو اسے کیمپ میں بھیجا جا سکتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپئو نے جولائی میں مذہبی آزادی کے فروغ کے لیے دینی علما کی کانفرنس میں کہا کہ چین شنجیانگ میں جو کچھ کر رہا ہے وہ واقعتاً ”اس صدی کا ایک انتہائی بدنما داغ” ہے۔