چین کے ترقیاتی منصوبے ماحولیاتی تباہی برآمد کر رہے ہیں

پانی کے قریب خطرناک مواد والے کنٹینروں کا لگا ہوا ڈھیر (© Sam Mednick/AP Images)
پالوش، جنوبی سوڈان کے نزدیک 2018ء میں "دار پیٹرولیم آپریٹنگ کمپنی" کے کباڑ خانے میں خطرناک کیمیکلز کے کنٹینروں کا ڈھیر لگا ہوا ہے۔ اس کمپنی میں چین کی ایک سرکاری کمپنی کی جزوی ملکیت ہے۔ (© Sam Mednick/AP Images)

عوامی جمہوریہ چین (پی آر سی) کی ملکیتی کمپنیاں بنیادی ڈھانچے کے ایک کے بعد دوسرے ناقص منصوبوں کے ذریعے دنیا بھر کے ماحول کو تباہ کر رہی ہیں۔

پی آر سی دنیا کا سب سے زیادہ  زہریلی گیسیں خارج کرنے والے اور پارے کی آلودگی پھیلانے والے ملک کے ساتھ ساتھ جنگلی حیات اور لکڑی سے تیار ہونے والی مصنوعات کا بہت بڑا صارف بھی ہے۔ عوامی جمہوریہ چین کی حکومت کی مالکیت کمپنیاں، چینی کمیونسٹ پارٹی کی ماحول سے بے پرواہی کو دوسرے ممالک کو برآمد کر رہی ہیں۔ وہ یہ کام اکثر  بنیادی ڈھانچے کے ناقص "ون بیلٹ، ون روڈ” (او بی او آر) نامی حکومتی پروگرام کے تحت کرتی ہیں۔

چین کی ماحولیاتی پامالیوں کے بارے میں 25 ستمبر کے ایک حقائق نامے میں امریکی محکمہ خارجہ نے کہا، "حالیہ برسوں میں کئی ایک براعظموں پر چینی تعاون سے چلنے والے منصوبوں نے مقامی آبادیوں کو بےگھر کیا، پانی کے معیار پر منفی اثر ڈالا، ارد گرد کی زمین میں آلودگی پھیلائی، اور نازک ماحولیاتی نظآم کو خراب کیا۔ چین کے دنیا بھر میں مستقبل کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے بھی اسی طرح کے نقصانات پہنچائیں گے۔”

مئی 2018 میں "نیچر سسٹین ایبلٹی” میں چھپنے والے ایک مطالعاتی جائزے میں خبردار کیا گیا کہ او بی او آر منصوبوں کا نتیجہ "مستقل ماحولیاتی نقصانات” کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ نومبر 2017 میں جنگلی حیات کے عالمی فنڈ کے علم میں یہ بات آئی کہ او بی او آر منصوبے، سینگوں والے ہرنوں، شیروں اور بڑے پانڈوں سمیت خطرات کا سامنے کرنے والی تقریباً 265 انواع کو متاثر کر سکتے ہیں۔

 بائیں تصویر: تیل کے کنویں کے قریب آلودہ پانی کا فضائی منظر (© Sam Mednick/AP Images) دائیں تصویر: ایک عورت نے ٹیڑھی ٹآنگوں والا بچہ اٹھا رکھا ہے (© Khalil Senosi/AP Images)
بائیں تصویر: پالوش، جنوبی سوڈان میں تیل کے ایک کنویں کے ساتھ آلودہ پانی(© Sam Mednick/AP Images) ۔ دائیں تصویر: جنوبی سوڈان میں تیل کی آلودگی کے قریب رہنے والے لوگ نوزائیدہ بچوں میں پیدائشی جسمانی نقائص اور صحت کے دیگر سنگین مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ (© Khalil Senosi/AP Images)

بیجنگ کے او بی او آر پروگرام کے تحت ترقی پذیر ممالک سے نئے بنیادی ڈھانچوں کے وعدے کیے جاتے ہیں۔ مگر اِن منصوبوں میں جو کہ اکثر بدعنوانی سے بھرے ہوتے ہیں، نگرانی کا فقدان ہوتا ہے جس کے نتیجے میں کام کا معیار بھی گھٹیا ہوتا ہے۔ بے شمار رپورٹوں کے مطابق مزدوروں کے ساتھ زیادتیوں اور قرضوں کا ناقبل برداشت بوجھ بھی عام سی باتیں ہیں۔ لاطینی امریکہ میں چینی بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری کا تعلق ہو سکتا ہے جنگلی حیات کی بڑھتی ہوئی سمگلنگ سے بھی ہو۔

پروگرام کی واضح ماحولیاتی راہنما اصولوں کی عدم موجودگی ممالک کو ایسے منصوبوں کے نتائج بھگتنے کے لیے چھوڑسکتی ہے جو بین الاقوامی معیارات پر پورا نہیں اترتے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا ہے کہ جنوبی سوڈان میں "چائنا نیشنل پیٹرولیم کارپوریشن” سمیت، عوامی جمہوریہ چین کی سرکاری کمپنیوں نے تیل کے اُن گروپوں کو مالی سہولتیں فراہم کی ہیں جنہوں نے زہریلے کیمیائی مادوں سے پانی اور زمین کو آلودہ کیا۔ اِن مقامات کے قریب رہنے والے لوگوں کی ایک پریشان کن تعداد، بچوں میں پیدائشی جسمانی نقائص سمیت  صحت کے مسائل سے دوچار ہو چکی ہے۔

واشنگٹن میں قائم "دا سنٹری” نامی نگرانی کرنے والے گروپ کی ستمبر 2019 کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے، ایسوسی ایٹڈ پریس نے خبر دی کہ پی آر سی کی مدد سے کام کرنے والا ایک گروپ بھی بدعنوانی میں ملوث ہے۔ اس گروپ نے ترقی کے لیے مختص رقومات کو سینیئر سیاست دانوں کی پرتعیش طرز زندگی میں مدد کرنے پر استعمال کیا۔

 سر پر حفاظتی خود پہنے زیرتعمیر عمارتوں کے سامنے کیچڑ میں کھڑا ہوا ایک آدمی (© Adam Dean/The New York Times)
8 اگست 2019 کو کمبوڈیا کے سرمایہ کاری کے ڈارا سیکور زون میں چین کے ایک تعمیراتی پراجیکت کے سامنے کھڑا ہوا ایک مزدور۔ (© Adam Dean/The New York Times)

کمبوڈیا میں کئی ارب ڈالر کے ایک تفریحی مقام کی تعمیر سے جڑی بدعنوانی میں اس کمپنی کے کردار کی وجہ سے، 15 ستمبر کو امریکہ نے یونین ڈویلپمنٹ گروپ لمٹیڈ  (یو ڈی جی) پر پابندیاں عائد کیں۔ پی آر سی کی حکومت اس کمپنی کی مالک ہے۔ یہ  پراجیکٹ کمبوڈیا کے ساحل کے 20 فیصد رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور 36,000 ہیکٹر زمین پر مشتمل ہے۔ اس میں پہلے ہی سے غیرقانونی شکار کی وجہ سے خطرات سے دوچار جنگلی حیات کی انواع پر مشتمل، "بوٹم سیکور نیشنل پارک” کا کچھ حصہ بھی شامل ہے۔ اس پارک کو ماحولیاتی تحفظ حاصل ہے۔

امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ زمین کرائے پر لینے سے پہلے، یو ڈی جی نے غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے اپنے آپ کو ایک کمبوڈین کمپنی کی حیثیت سے رجسٹر کروایا اور اس کے بعد زمین پی آر سی کے حوالے کر دی۔ کمپنی نے کمبوڈیا کے ایک سینیئر جنرل کے ذریعے جس پر امریکہ نے 2019ء میں بدعنوانیوں کی وجہ سے پابندیاں لگا رکھی ہیں، اس پراجیکٹ کے لیے بزور طاقت زمین تیار کرانے کے لیے کمبوڈیا کے فوجیوں کو استعمال کیا۔ اس دوران انہوں نے ماحول کو برباد کیا اور مقامی لوگوں کی  روزی کے وسائل کو نقصان پہنچایا۔

امریکی محکمہ خزانہ نے کہا کہ اضافی تشویش کی وجہ میڈیا کی یہ خبر ہے جس کے مطابق کمبوڈین حکومت کے ترجمان، فے سائفن نے کہا ہے کہ ڈارا سیکور کے سرمایہ کاری کے زون کو فوجی اثاثات رکھنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کی کونسل نے 15 ستمبر کو ایک ٹویٹ میں کہا، "بیجنگ یہ دعوے کرتا ہے کہ اس کی سرکاری کمپنیاں کمبوڈیا اور دیگر ممالک کے لیے اقتصادی مواقعے پیدا کرتی ہیں۔ مگر دکھ کی بات ہے کہ درحقیقت یہ (کمپنیاں) بدعنوانی کو پروان چڑہاتی ہیں، کمیونٹیوں کا استحصال کرتی ہیں اور [چین کی پیپلز لبریشن آرمی] کو توسیع پسندی کے لیے پاؤں جمانے کے مواقعے فرہم کرتی ہیں۔”