اس ماہ کے اوائل میں شنجیانگ کے خود مختار علاقے کی کمیونسٹ پارٹی کی ڈپٹی سیکرٹری شہرت ذاکر نے کہا، “ہمارے تعلیمی مراکز ‘بورڈنگ سکولوں’ یعنی رہائشی سکولوں جیسے ہیں جہاں طلبا اور طالبات کا کھانا اور رہائش مفت ہوتی ہے۔

اور ہاں بہت سے رہائشی سکولوں کے بجٹ میں عام طور پر لکھائی پڑھائی کا سامان، نصابی کتب اور کھیلوں کا سامان شامل ہوتا ہے مگر ایجنسی فرانس پریس کی طرف سے کیے جانے والے سرکاری بجٹ کی دستاویز کے تجزیے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ شنجیانگ میں واقع چین کے “رہائشی سکولوں” میں پولیس کے ڈنڈے، جانوروں کو ہانکنے والے ڈنڈے، ہتھکڑیاں اور مرچوں والا سپرے خریدا گیا۔

جنیوا میں اقوام متحدہ  کے امریکی مشن اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں نے ایک حالیہ ٹویٹ میں کہا ہے، “چین کا یہ دعوٰی سفید جھوٹ ہے کہ  شنجیانگ کے کیمپ رضاکارانہ بنیادوں پر تربیت حاصل کرنے والوں کی سہولتیں ہیں۔”

اقوام متحدہ میں امریکی نمائندہ، ایمبیسڈر کیلی کری نے کہا کہ چین نے من مانی کرتے ہوئے دس لاکھ سے زائد ویغوروں، نسلی قازقوں اور مسلمان اقلیتی گروہوں کے دیگر افراد کو “خوفناک حالات میں شنجیانگ کے حراستی کمیپوں میں زیر حراست رکھا ہوا ہے۔”

سچ کو چھپانا

یہ کیمپ مغربی چین میں نسلی اقلیتوں کی ثقافتوں کو دبانے کی خاطر جاری مہم کا حصہ ہیں۔ اِن کیمپوں سے باہر آنے والوں کے مطابق حراست کے دوران قیدیوں پر تشدد کیا جاتا ہے، زیادتیاں کی جاتی ہیں، اور انہیں اپنا مذہب چھوڑنے اور چینی کمیونسٹ پارٹی کے نعروں کو زبانی یاد کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

[چین کی] اندرونی دستاویزات میں کیمپوں کے اندر پائی جانے والی حقیقت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ شنجیانگ میں چینی کمیونسٹ پارٹی کے سیکرٹری چن کوانگوا نے کہا کہ کہ “کیمپوں میں سکولوں کی طرح پڑہانا چاہیے، اِنہیں فوجی طرز پر چلانا چاہیے اور اِن کی جیلوں کی طرح حفاظت کی جانی چاہیے۔”

محمکہ خارجہ کی انسانی حقوق کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شنجیانگ کے  سکیورٹی کے بجٹ میں حالیہ سالوں کے دوران 300 فیصد سے زیادہ کا اضافہ کیا گیا ہے اور مقامی حکومت نے سکیورٹی سے متعلقہ 90,000 سے زیادہ آسامیوں کے اشتہار دیئے ہیں۔

اِن دونوں جاری جبر نے شنجیانگ کی مقامی کمیونٹیوں کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ لوگوں کو سکولوں میں اپنی نسلی زبان بولنے یا مسلمانوں کو رمضان کے روزے رکھنے جیسے چھوٹَے جرائم پر غائب کر دیا جاتا ہے۔ اور ایک مرتبہ جب وہ غائب ہو  جاتے ہیں تو اُن کے خاندان کو اُن کی کوئی خبر نہیں ملتی اور انہیں کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ غائب کیے جانے والے شخص کے ساتھ کیا ہو رہا ہے یا آیا وہ زندہ بھی ہے یا نہیں۔

وزیر خارجہ پومپیو نے چین میں انسانی حقوق کی سال  2018 کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا “جب انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بات ہوتی ہے تو چین اس میں سب سے آگے ہوتا ہے۔”