کریملن کے انٹرنیٹ کی آزادیوں پر پابندیاں لگانے کے منصوبوں نے  حال ہی میں ہزاروں شہریوں کو ماسکو اور دیگر شہروں میں سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کر دیا۔

حکومت کے ایک مجوزہ اقدام کے تحت انٹرنیٹ کی ساری ٹریفک حکومت کے “سرورز” میں سے ہو کر گزرے گی۔ اس سے حکومت دنیا کے نیٹ ورک سے روسی انٹرنیٹ کو کاٹ سکے گی۔

اس مسودہ قانون کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر یہ قانون منظور ہوگیا تو یہ سنسر کو بڑھاوا دے گا اور روس پر ایک “آن لائن آہنی پردہ” ڈال دے گا جو روسی شہریوں کو بقیہ دنیا سے الگ تھلگ کر دے گا۔.

یہ پہلی بار نہیں ہوگی جب روس انٹرنیٹ کی آزادیوں کو پاوں تلے روند ڈالے گا۔  اس ماہ کے اوائل میں ‘دُوما’ نے دو ایسے بل منظور کیے اور صدر ولادی میر پیوتن نے ان پر دستخط کیے جن کے تحت میڈیا کے ایسے اداروں اور ایسے افراد پر جرمانے عائد کیے جائیں گے جو حکومت کی تنقید اور ہتک کرنے والی آن لائن خبریں  شائع کریں گے۔

حکام نے مخصوص ویب سائٹوں اور ٹیلی گرام جیسی  ‘اِنکرپٹڈ’ پیغام رسائی کی سروسوں تک رسائی کو بھی بند کر دیا ہے۔

ٹوئٹر کی عبارت کا ترجمہ: – انٹرنیٹ کی آزادی کے حق میں آج کے احتجاج میں شامل ایک احتجاجی نے #ٹیلی گرام متعارف کرانے والی ایک مقدس “شخصیت” پاول  دورو کی تصویر اٹھا رکھی ہے۔ روس کے میڈیا کی نگرانی کرنے والے ادارے نے سکیورٹی فورسز کو ‘ انکرپشن کیز’ نہ  بتانے  پر #ٹیلی گرام کو بند کرنے کی ناکام کوشش کی۔  

روسی پارلیمنٹ کا ایوان زیریں پہلے ہی اس بل کی تین میں سے ایک خواندگی  مکمل کر چکا ہے۔ اگر یہاں سے یہ  بل منظور ہو گیا تو اس پر پارلیمنٹ کا ایوان بالا اور صدر پیوتن دستخط کریں گے۔

احتجاج کا آغآز ماسکو، خاباروسک اور وورنیژ سے ہوا اور ان کی حکومت نے اجازت دی تھی۔ سرگرم کارکنوں کے ایک چھوٹے سے گروپ نے سینٹ پیٹرز برگ میں بھی احتجاج کیا۔.

 فری لانس مصنف لینور ٹی ایڈکنز نے اس مضمون کے تحریر کرنے میں  ایسوسی ایٹڈ پریس سے استفادہ کیا۔