کاروبار پر بدعنوانی کے اثرات

بدعنوانی کسی کاروبار میں اجازت ناموں سے لے کر معاہدوں اور مقدموں تک ہر شے کو متاثر کر سکتی ہے۔

بدعنوانی میں کاروباری سودوں میں قیمتوں کو خفیہ رکھا جاتا ہے، مسابقت ایسی نہیں ہوتی جیسا کہ دکھائی جاتی ہے اور شراکتوں کا انتخاب معیار کی بجائے مصلحت کی بنا پر کیا جاتا ہے۔ انجام کار اگر بدعنوانی عام ہو تو پھر کسی ناجائز عمل یا دھوکہ دہی کی صورت میں  منصفانہ کارروائی یا کسی دیگر قانونی ازالے کی کوئی یقینی راہ باقی نہیں بچتی۔

اسی لیے بدعنوانی کے خاتمے، قانون کے احترام اور تمام فریقین کو یکساں طور سے قابل احتساب بنانے کے لیے ایک مضبوط  اور خودمختار عدالتی نظام کا ہونا ضروری ہے۔

دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتیں، امریکہ اور چین بدعنوانی کے خلاف جدوجہد میں ایک دوسرے سے یکسر مختلف طریقہائے کار پر عمل پیرا ہیں۔

کاروبار پر اثرانداز ہونے والے قانونی اور سیاسی ماحول کے حوالے سے 125 ممالک کی درجہ بندی ملاحظہ کیجیے: اس میں امریکہ 14ویں جبکہ چین 52ویں نمبر پر ہے۔ یہ درجہ بندی ‘پراپرٹی رائٹس الائنس’ نامی واشنگٹن کے ایک گروپ کی جاری کردہ ہے۔

Infographic comparing U.S. and Chinese business environments (State Dept./S. Wilkinson)
(State Dept./S. Wilkinson)

پہلے سے متعین کردہ نتائج

امریکہ میں عدلیہ خودمختار ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس پر حکومت کی انتظامی شاخ (میئر، گورنر یا صدر) کا کوئی اختیار  نہیں ہوتا اور عدالتی مقدمات کے فیصلے سیاسی مصلحتوں کے تحت نہیں کیے جاتے۔

اس کے برعکس انسانی حقوق کے حوالے سے 2017 کی امریکی رپورٹوں سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ چین میں جج ‘عدالتی اختیار کا آزادانہ استعمال’ نہیں کرپاتے۔ رپورٹ کے مطابق ‘ججوں کو زیرالتوا مقدمات میں باقاعدگی سے سیاسی ہدایات  موصول ہوتی ہیں جن میں حکومت اور سی سی پی (چینی کمیونسٹ پارٹی ) کی جانب سے یہ احکامات بھی شامل ہوتے  ہیں کہ انہوں نے کیا فیصلہ دینا ہے۔”

ایسے ملک میں جہاں بہت سے کاروبار حکومتی ملکیت میں ہیں اور چینی کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ سطحی ارکان بڑی کمپنیوں کا انتظام چلاتے یا انہیں احکامت  دیتے ہیں وہاں عدالتی خودمختاری کا یہ فقدان ایسے سرمایہ کاروں کے لیے نقصان کا باعث بنتا ہے جن کے سیاسی روابط نہیں ہوتے۔ انسانی حقوق کی رپورٹوں میں یہ بات سامنے آئی کہ جہاں  لوگ طاقتور اداروں کے خلاف مقدمے جیت بھی لیتے ہیں وہاں بھی عدالتی فیصلوں کو طاقتور اداروں کے خلاف نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ ان میں حکومتی محکمے، سرکاری کاروبار، فوجی شخصیات اور سی سی پی کے بعض ارکان شامل ہیں۔

امریکہ میں انسپکٹر جنرل اور خصوصی وکلا حکومتی بدعنوانی کے خلاف کام کرتے ہیں۔ مگر انسانی حقوق سے متعلق رپورٹوں کے مطابق چین میں ”بدعنوانی اکثر عدالتی فیصلوں پر اثرانداز ہوتی ہے کیونکہ عدالتی بدعنوانی سے بچاؤ کے اقدامات مبہم ہیں اور انہیں موثر طریقے سے نافذ نہیں کیا جاتا۔”

عدالتی خودمختاری اور بدعنوانی کے خلاف موثر حکومتی اقدامات کو خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ سودے خراب ہو جاتے ہیں، معاہدے تنازعات کا شکار ہو جاتے ہیں اور کاروبار دیوالیہ ہو جاتے ہیں۔ کاروبار میں یہ بات بنیادی اہمیت کی حامل ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی معیشتیں ان تنازعات کا حل کیسے نکالتی ہیں۔