کریملن کا یوکرین کے بعض حصوں کو ضم کرنے کے لیے جعلی ریفرنڈم کرانے کا منصوبہ

روس یوکرین کے اُن علاقوں میں جعلی ریفرنڈم کروانے جا رہا ہے جو اس وقت اس کے فوجی کنٹرول میں ہیں تاکہ اِن علاقوں پر اپنے قبضے کو جائز قرار دے سکے۔

روس وہی پٹی پڑھنے جا رہا ہے جو اس نے 2014 میں اُس وقت پڑھی تھی جب اس نے کرائمیا پر حملہ کر کے مشرقی یوکرین کے کچھ حصوں پر زبردستی قبضہ کر لیا تھا۔

روس نے مشرقی صوبوں کھیرسن اور زاپوریژا کا جن کے ہجے بالترتیب کھیرسانسکا اور زاپوریزکا بھی کیے جاتے ہیں کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ جیسا کہ 2014 میں کرائمیا میں کیا تھا اُسی طرح روس نے اب بھی اِن صوبوں میں میونسپل اور علاقائی سطح کے کلیدی عہدوں پر پیوٹن کے حامی اہلکاروں کو تعینات کر رکھا ہے۔

 یوکرین کا نقشہ جس میں روس کے زیر کنٹرول علاقے دکھائے گئے (State Dept.)
نقشہ: State Dept. ماخذ انسٹی ٹیوٹ فار دا سٹڈی آف وار

روس کی ایما پر پراکسی اہلکار روس کے زیر کنٹرول علاقوں میں دھوکہ دہی پر مبنی ریفرنڈم کا ڈھونگ رچانے میں لگے ہوئے ہیں اور ووٹروں سے کہہ رہے کہ وہ  روس کا حصہ بنیں۔ اس کے بعد روس اِن نتائج کا استعمال کرتے ہوئے یہ دعویٰ کرے گا کہ مقبوضہ علاقے کے ووٹر روس میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔

یہ ریفرنڈم اس ماہ میں ہو سکتے ہیں۔

زاپور ریژا میں علاقائی پارلیمنٹ کی سربراہ، اولینا ژک نے روزنامہ گارڈین کو بتایا کہ “آئیے بات کا آغاز یہ کہہ کر کریں کہ کوئی بھی ریفرنڈم یوکرینی قانون، روسی قانون، [یا] کسی بھی قانون کے تحت ناجائز ہوگا۔”

2014 میں جب روس نے کرائمیا پر حملہ کرنے کے بعد قبضہ کرلیا تو اُس نے ڈونیٹسک اور لوہانسک صوبوں کے کچھ حصوں  کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ اُس وقت بھی روس نے انتخاب کا اسی طرح کا ایک ڈھونگ رچایا تھا۔ یاد رہے کہ ڈونیٹسک اور لوہانسک صوبوں کو مجموعی طور پر ڈونباس کا علاقہ کہا جاتا ہے۔

یوکرینی ثقافت نشانے پر

ووٹنگ سے قبل کریملن اپنے اِن دعووں اور یوکرینی ثقافت کو مٹانے کی کوششوں میں تیزی لے آیا ہے کہ یہ علاقے پہلے ہی “روس کا حصہ” بن چکے ہیں۔

پورے کھیرسن شہر میں بڑے بڑے بِل بورڈوں پر یہ عبارت لکھی ہوئی دکھائی دیتی ہے: “روسی تاریخ کا حامل شہر۔”  ایک پوسٹر میں ایک چھوٹی سے لڑکی روسی صدر ولاڈیمیر پیوٹن کا یہ بیان نقل کر رہی ہے کہ “روسی اور یوکرینی ایک قوم ہیں۔ متحدہ اکائی ہیں۔”

دونوں صوبوں کے علاقوں میں:

  • سکولوں کو روسی نصاب پر مبنی تعلیم دینے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
  • مقامی لوگوں کو ملازمت حاصل کرنے کے لیے روسی پاسپورٹ اور ڈرائیونگ لائسنس لینا ضروری قرار دیا جا چکا ہے۔
  •  نجی شعبے کے بعض ملازمین کے لیے روسی کرنسی، روبل لینا ضروری قرار دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ماسکو نے یوکرین میں روسی بینکوں کی شاخیں کھول دی ہیں، روبل کو سرکاری کرنسی بنا دیا ہے، نشریاتی ٹاوروں پر قبضہ کر لیا ہے، انٹرنیٹ تک رسائی محدود کر دی ہے اور یوکرینی زبان کی نشریات ختم کر دی ہیں۔

روس کی جانب سے یوگینی بالٹسکی کو زاپوریژا میں ایک عہدیدار کے طور پر تعینات کیا گیا ہے۔ بالٹسکی نے آنے والے ریفرنڈم کو روس کے ساتھ “دوبارہ اتحاد” کا نام دیا ہے۔ انہوں نے یہ اعلان ایک تقریب میں کیا جس کا عنوان تھا: “ہم روس کے ساتھ ہیں۔”

‘بندوق کی نوک پر کرایا جانے والا ریفرنڈم’

 روسی پوسٹروں والے نوٹس بورڈوں کے قریب سے گزرتی ہوئی ایک عورت (© Alexander Ermochenko/Reuters)
25 جولائی کو روس کے زیر کنٹرول شہر، کھیرسن کے ایک سرکاری دفتر کے نوٹس بورڈ پر ایک پوسٹر لگا ہوا ہے جس پر یہ عبارت لکھی ہوئی ہے: “روسی اور یوکرینی ایک ہی اکائی اور ایک ہی قوم ہیں” اور “روس یہاں ہمیشہ رہے گا۔” (© Alexander Ermochenko/Reuters)

اخبار، روزنامہ گارڈین  سے بات کرنے والے کھیرسن کے رہائشیوں نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ وہ ریفرنڈم میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ روسی قبضے سے پہلے آئی ٹی کے شعبے میں کام کرنے والے  کھیرسن کے ایک رہائشی نے اخبار کو بتایا کہ یہ ایک ایسا “ریفرنڈم ہوگا جو بندوق کی نوک تلے کرایا جائے گا۔”

یوکرین کے دوسرے شہری بھی بظاہر ایسا ہی محسوس کرتے ہیں۔ “انٹرنیشنل ری پبلکن انسٹی ٹیوٹ” نامی ایک امریکی غیر منفعتی ادارے نے اگست میں ایک سروے کیا جس سے پتہ چلا کہ یوکرین کے باشندوں کو یقین ہے کہ وہ جنگ جیتیں گے اور [اپنے] کسی علاقے سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

روسی حکام ان علاقوں پر یوکرین کی خودمختاری کو ختم کرنے کے اپنے ارادوں کو چھپانے کی بالکل کوشش نہیں کرتے۔ روس کی مقننہ، “ڈوما” کے ایک رکن، ایگور کاسٹیوکیوچ نے 7 جون کو کہا کہ “کھیرسن کے علاقے کی روس میں شمولیت اُسی طرح مکمل ہوگی جیسے [2014 میں] میں کرائمیا کی شمولیت مکمل ہوئی تھی۔”

وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے 27 جون کو اِس بات پر زور دیا کہ امریکی حکومت مبینہ انضمام  کو قبول نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ “ماسکو یوکرین کے مزید علاقوں کے انضمام کے لیے راہ ہموار کر رہا ہے۔ یوکرین کے عوام اپنے لیڈروں کو جمہوری طور پر منتخب کرتے ہیں۔ روسی حکومت کو اِس میں قطعی طور پر کوئی حق حاصل نہیں ہے۔”