امریکہ، بھارت، آسٹریلیا اور جاپان پر مشتمل کواڈ یعنی چہار فریقی شراکت کاری، بحرہند و بحرالکاہل کے خطے میں جمہوریت کا دفاع اور خوشحالی کو فروغ دینے کا عزم کیے ہوئے ہیں۔

کواڈ کے شراکت کار، کووڈ-19 عالمی وبا سے لے کر آب و ہوا میں تبدیلی، سمندری سلامتی اور بحرہند و بحرالکاہل کے خطے میں قانون کی حکمرانی تک چیلنجوں کا مل کر سامنا کرتے ہیں۔

12 مارچ کو صدر بائیڈن نے اپنے ہم منصبوں، جاپان کے وزیر اعظم یوشی ہیڈا سوگا، بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی اور آسٹریلیا کے وزیراعظم سکاٹ موریسن کے ہمراہ کواڈ کے لیڈروں کے پہلے اجلاس میں شرکت کی۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے کہا، ” اس ملاقات کا شمار صدر بائیڈن کی اولین کثیرالجہتی ملاقاتوں میں ہوتا ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ یہ ملاقات اُس “اہمیت کا” عملی مظاہرہ ہے “جو ہم بحرہند و بحرالکاہل میں اپنے اتحادیوں اور شراکت کاروں کے ساتھ قریبی تعاون کو دیتے ہیں۔”

یہ کواڈ 2004ء کے زلزلے اور بحرہند میں سونامی کے سلسلے میں چار جمہوریتوں کی انسانی بنیاد پر کی جانے والی امدادی کوششوں کے نتیجے میں وجود میں آیا۔

حالیہ برسوں میں شراکت کار ممالک کے عہدیدار سمندری سلامتی، سائبر سے متعلقہ خدشات، گمراہ کن معلومات کا سدباب، انسداد دہشت گردی، ترقیاتی امداد اور آفات کی صورت میں انسانی امداد جیسے مسائل کے بارے میں صلاح مشورے کرتے چلے آ رہے ہیں۔

محکمہ خارجہ نے بتایا کہ فروری میں ہونے والے کواڈ وزرائے خارجہ کے اجلاس میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے “برما میں جمہوری طور پر منتخب شدہ حکومت کو بحال کرنے کی فوری ضرورت پر تبادلہ خیال کیا۔”

حفاظتی خود پہنے سڑک پر موجود مظاہرین کا ہجوم جس میں دو آدمیوں نے ایسی ڈھالیں اٹھا رکھی ہیں جن پر انگریزی میں لفظ "عوام" لکھا ہوا ہے (© AP Images)
کواڈ راہنما برما میں، جہاں یکم فروری کو حکومت کا تختہ الٹنے کے خلاف مظاہرین احتجاج کر رہے ہیں جمہوری طور پر منتخب حکومت کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ (© AP Images)

جاپانی وزیرخارجہ توشی متسو موتیگی نے اکتوبر میں کہا، “ہماری چاروں اقوام جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور آزاد معیشت جیسی مشترکہ بنیادی اقدار پر یقین رکھتی ہیں۔ ہم علاقائی ذمہ داری  پر یقین رکھتے ہیں [اور] ہمارا مشترکہ مقصد قواعد پر مبنی آزاد اور آزادانہ بین الاقوامی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ “