کواڈ شراکت کار وں ک بحرہند و بحرالکاہل کے ممالک کی پانیوں کی نگرانی کرنے میں مدد

سمندر میں موجود امریکی کوسٹ گارڈ کا ایک جہاز اور ایک ماہی گیر جہاز (U.S. Coast Guard/Petty Officer 1st Class Nate Littlejohn)
امریکی کوسٹ گارڈ اور فجی کے قانون نافذ کرنے والے افسران 18 اپریل کو فجی کے ساحل سے پرے ایک ماہی گیر جہاز پر سوار ہیں۔ امریکہ اور اس کے کواڈ شراکت کار بحر ہند و بحرالکاہل ممالک کو ان کے اقتصادی زونوں میں پانی کی نگرانی میں مدد کر رہے ہیں۔ (U.S. Coast Guard/Petty Officer 1st Class Nate Littlejohn)

بحرہند و بحرالکاہل کے ممالک کی شراکت داری، خطے کے دیگر ممالک کو اپنے پانیوں کی نگرانی، غیر قانونی ماہی گیری کو روکنے اور انسانی اور قدرتی آفات کا بہتر طریقے سے نمٹنے کے لیے سیٹلائٹ ٹیکنالوجی استعمال کرنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔

کواڈ امریکہ، آسٹریلیا، بھارت اور جاپان پر مشتمل ہے۔ کواڈ  کے شراکت کاروں نے 24 مئی کو ٹوکیو میں ہونے والے کواڈ کے لیڈروں کے سربراہی اجلاس میں بحرہند و بحرالکاہل میں سمندری جہاز رانی کے شعبے کے بارے میں آگاہی [آئی پی ایم ڈی اے] کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کیا۔

آئی پی ایم ڈی اے کے ذریعے بحرہند و بحرالکاہل کے خطے کے ممالک ٹیکنالوجی کا اشتراک کریں گے تاکہ تمام ممالک کرہ ارض کے زیریں مدار کے سیٹلائٹوں کے ذریعے اپنی سمندری حدود اور بین الاقوامی سمندری راستوں کی نگرانی کر سکیں۔ اِس نظام کے تحت بحری جہازوں کی ریڈیو ٹریفک اور خودکار ٹریکنگ سسٹم کے ذریعے  شناخت کی جاتی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق “اس نئے پروگرام کے تحت ‘چوری چھپے کی والی جہاز رانی’ اور سمندروں میں ایک جہاز سے دوسرے جہاز پر سامان کی منتقلی جیسی چالوں کی سطح کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جا سکے گی۔” یہ اقدام “شراکت داروں کی آب و ہوا اور انسانی مسائل کا مقابلہ کرنے اور ان کی ماہی گیری کی صنعت کی حفاظت کرنے کی صلاحیتوں کو بہتر بنائے گا۔”

 انتھونی البانیز، جو بائیڈن، نریندر مودی اور فومیو کشیدا کھڑے ہوئے ایک آدمی کے پاس سے گزر رہے ہیں۔ (© Evan Vucci/AP Images)
ٹوکیو میں 24 مئی کو کواڈ لیڈروں کے سربراہی اجلاس میں آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیز، صدر بائیڈن اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی دائیں طرف کھڑے جاپانی وزیر اعظم کشیدا فومیو کے ساتھ۔ (© Evan Vucci/AP Images)

دنیا کے ممالک کے پاس بعض اوقات اپنے خصوصی اقتصادی زونوں کی مؤثر طریقے سے نگرانی کرنے کے لیے وسائل کی کمی ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ خصوصی اقتصادی زون کسی ملک کے ساحل سے 200 ناٹیکل میل (370 کلومیٹر) تک پھیلا ہوا ہوتا ہے۔

کواڈ بحرہند و بحرالکاہل کے دیگر ممالک کی مندرجہ ذیل امور میں بھی مدد کر رہا ہے:-

  • ماحول دوست سمندری راستوں اور صاف توانائی کی تیاری میں مدد۔
  • رسدی سلسلوں کی لچک کو بڑھانا اور جی 5 کے  کھلے اور محفوظ مواصلاتی نیٹ ورک تیار کرنا۔
  • بحرہند و بحرالکاہل ممالک کو کووڈ-19 کے خاتمے کے لیے اب تک ویکسین کی 257 ملین خوراکوں کا عطیہ دینا۔
  • آئندہ پانچ برسوں میں بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرنے کے لیے 50 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا۔

بحری نگرانی کا پروگرام اُن دیگر امریکی کاوشوں کو آگے بڑہاتا ہے جن کے تحت بحرہند و بحرالکاہل کے ممالک کی آفات سے نمٹنے میں مدد کے لیے سیٹلائٹوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ امریکہ انتباہات اور دیگر معلومات کو پھیلانے کے لیے محدود رابطے والے علاقوں میں ٹیکسٹ میسیجنگ کو فعال کرنے کے لیے سیٹلائٹوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔

سابق آسٹریلوی وزیر اعظم اور ایشیا سوسائٹی کے صدر کیون رڈ نے 26 مئی کو کہا کہ بحرہند و بحرالکاہل میں سمندری جہاز رانی کے شعبے کے بارے میں آگاہی کے اِس نئے اقدام کی کواڈ کی حمایت سے بحر ہند اور بحرالکاہل میں جزیرہ نما ممالک کو اپنے مچھلیوں کے ذخیروں اور دیگر سمندری وسائل کو محفوظ رکھنے میں مدد ملے گی۔

رڈ نے کہا، “میں اپنے تجربے کی بنا پر جانتا ہوں کہ بحرالکاہل کے چھوٹے جزیرہ نما ممالک اس پیش رفت پر خوش ہوں گے۔”