کورونا کی وبائی مرض کے دوران 5 انتہائی مقبول قومی پارک [تصویری جھلکیاں]

“کیا ہم وہاں پہنچ گئے ہیں؟”

سیر کے لیے جانے والے بے صبرے بچوں کی طرف سے یہ سوال عموما بار بار پوچھا جاتا ہے۔ گزشتہ برس کورونا کے وبائی مرض کے دوران 237 ملین افراد کی “وہاں” سے مراد امریکہ کے قومی پارکوں میں سے ایک نہ ایک کوئی پارک ہوتا تھا۔ امریکی محکمہ داخلہ کی نیشنل پارک سروس 423 قومی پارکوں کا اتنظام چلاتی ہے جبکہ اس کے بیس ہزار ملازمین ہیں جن میں پارکوں کی دیکھ بھال کرنے والے پارک رینجرز بھی شامل ہیں۔

2020ء ایک غیرمعمولی سال تھا۔ اس کے دوران لوگوں کی سب سے زیادہ تعداد مندرجہ ذیل پانچ پارکوں کو دیکھنے کے لیے گئی:-

گریٹ سموکی ماو٘نٹینز

 جنگلات سے ڈھکے پہاڑوں پر طلوع آفتاب کے وقت پھیلی ہوئی دھند۔ (© Dave Allen Photography/Shutterstock)
گریٹ سموکی نیشنل پارک کا طلوع آفتاب کے وقت کا ایک منظر۔ (© Dave Allen Photography/Shutterstock)

اوپر تصویر میں دکھایا گیا گریٹ سموکی ماؤنٹینز نیشنل پارک شمالی کیرولائنا اور ٹینیسی کی ریاستوں کے درمیان جنوبی اپلاچیان پہاڑوں میں واقع ہے۔ امریکہ میں سب سے زیادہ لوگ اس پارک کو دیکھنے کے لیے جاتے ہیں اور یہ پارک اپنے اس اعزاز کو 1944ء سے برقرار رکھے ہوئے ہے۔ گزشتہ برس 12.1 ملین افراد اس پارک کے بے مثل حیاتیاتی تنوع سے لطف اندوز ہوئے۔ اس پارک میں 19,000 انواع کےعلاوہ ندیاں اور نالے بھی ہیں جن کی مجموعی لمبائی  2,900 میل ہے۔ روشنی خارج کرنے والے گھونگھوں سمیت پارک میں پائی جانے والی تمام کی تمام انواع کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔


ییلو سٹون

 جنگلی بھینسوں کا ایک گلہ اور پس منظر میں دکھائی دیتے ہوئے چشمے اور دریا۔ (© YegoroV/Shutterstock)
ییلو سٹون نیشنل پارک میں مڈوے نامی گرم چشمے کے طاس کے نزدیک دریائے فائر ہول کے ساتھ تیزی سے رواں جنگلی بھینسوں کا ایک گلہ۔ (© YegoroV/Shutterstock)

ییلو سٹون نیشنل پارک میں سب کے دیکھنے کے لیے کچھ نہ کچھ ہے۔ 1872ء میں قائم کیا جانے والا یہ پارک دنیا کا سب سے پرانا پارک ہے اور یہ آئیڈا ہو، وائیومنگ اور مونٹینا کی تین ریاستوں میں پھیلا ہوا ہے۔ گزشتہ برس اس پارک کے جغرافیائی اور گرم چشموں کے قدرتی عجوبوں کو دیکھنے کے لیے 3.8 ملین افراد آئے۔ دنیا میں پائے جانے والے گرم چشموں کی نصف تعداد ییلو سٹون پارک میں ہے اور امریکہ کی جغرافیائی لحاظ سے باہم جڑی اڑتالیس ریاستوں میں سب سے زیادہ ممالیہ جانور اس پارک میں پائے جاتے ہیں۔ پارکوں کو دیکھنے والوں کی تعداد کے حساب سے ییلو سٹون پارک چھٹے نمبر پر تھا مگر اب یہ دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔ اس پارک کو یہ اعزاز 1947ء کے بعد پہلی مرتبہ حاصل ہوا ہے۔


زائیون

 تنگ کھائی میں سے گزرتے ہوئے راستے پر چلتا ہوا ایک آدمی (© Photo Volcano/Shutterstock)
زائیون نیشنل پارک کی تنگ کھائیاں کوہ پیمائی کرنے والوں کے پسندیدہ مقامات ہیں اور یوٹاہ کے اس پارک میں تنگ ترین مقامات کی بہتات ہے۔ (© Photo Volcano/Shutterstock)

ریاست یوٹاہ میں واقع زائیون نیشنل پارک کا رقبہ 590 مربع کلومیٹر ہے اور یہ اونچی سطح مرتفع، تنگ ریتلے پتھروں کے درمیان گھاٹیوں اور دریائے ورجن اور اس کے منبوں پر مشتمل ہے۔ پارک کی موجودہ جغرافیائی شکلیں 250 ملین سال سے زیادہ عرصے میں بنیں۔ اس میں پودوں کی 1000 قسمیں اور پرندوں کی 291 نسلیں پائی جاتی ہیں۔


دا  راکیز

 درخت کے تنے سے بنے ایک بنچ سے وادی اور پہاڑوں کا ایک منظر۔ (© CVM/Shutterstock)
کولوراڈو کے “راکی ماو٘نٹین نیشنل پارک” میں ایک بنچ۔ (© CVM/Shutterstock)

ریست کولوراڈو میں واقع چوتھے نمبر پر آنے والے راکی ماؤنٹین نیشنل پارک کی سیر کو 3.3 ملین لوگ آئے۔ راکی ماؤنٹین پارک کے پہاڑوں کا شمار براعظم امریکہ کے بلند ترین پہاڑوں میں ہوتا ہے۔ کائی کے انتہائی چھوٹے خلیوں سے لے کر بارہ سنگھوں کے بڑے بڑے ریوڑوں تک، اس پارک میں پائے جاتے ہیں۔ اس میں بلندیوں پر واقع جھیلیں، جنگلات سے بھری وادیاں اور گونا گوں پودوں کی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے۔


گرینڈ ٹیٹونز

 پیدل چلنے والے اس پل سے جنگلات میں سے گزرتے ہوئے راستے سے دور نظر آنے والے پہاڑوں تک جا سکتے ہیں۔ (© Sompol/Shutterstock)
گرینڈ ٹیٹونز نیشنل پارک میں پیدل چلنے والوں کا ایک پل۔ (© Sompol/Shutterstock)

سخت مقابلے کے بعد پانچویں نمبر پر آنے والے گرینڈ ٹیٹونز نیشنل پارک کو دیکھنے 3.3 ملین افراد آئے۔ ریاست وائیومنگ کے شمال مغربی حصے میں یہ پارک جیکسن ہول نامی وادی میں2,134  میٹر کی بلندی تک چلا جاتا ہے۔ اس میں بھورے ریچھوں، جنگلی بھینسوں، اور سنہرے عقابوں سمیت  جنگلی حیات اور مسحور کر دینے والے مناظر کی بہتات ہے۔ اس کی بلندی پر واقع جھیلیں برفانی تودوں کے ساتھ  بہہ کر آنے والے ریتلے اور پتھریلے ملبے سے وجود میں آئیں اور اس کے مرغزاروں میں جا بجا جنگلی پھول کھلے ہوتے ہیں۔


نیشنل پارک سروس کے ڈپٹی ڈائریکٹر شان بینگ نے ایک بیان میں کہا، “گزرے سال نے ہمیں یہ حقیقت باور کرائی ہے کہ قومی پارکوں اور سرکاری زمینوں کو مجموعی بہبود میں کتنی زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ پورے ملک میں قومی پارکوں نے لوگوں کو [اُن کے] گھروں کے بالکل قریب اپنی جسمانی اور نفسیاتی صحت کے لیے وقت گزارنے کی خاطر درکار انتہائی اہم کھلی فضاو٘ں والے مقامات پر جانے کے مواقع فراہم کیے۔”