کووِڈ-19 کے دوران ایرانی حکومت نے چین کی پروازیں جاری رکھیں

فضا میں ایک طیارہ۔ (© Ahmad Halabisaz/Xinhua/Getty Images)
2019 کی اس تصویر میں ماہان ایئر کا ایک طیارہ تہران، ایران کے مہرآباد کے بین الاقوامی اڈے پر اتر رہا ہے۔ (© Ahmad Halabisaz/Xinhua/Getty Images)

اخباری اطلاعات کے مطابق جہاں رہبر اعلٰی علی خامنہ ای نے جان لیوا کووِڈ-19 کی وبا پھوٹ پڑنے کو ایک حیاتیاتی حملہ کہہ کر مسترد کیا وہیں اُن کی حکومت نے چین کے لیے پروازیں جاری رکھیں جس سے اُنہوں نے اپنی عوام اور مشرق وسطی کے وسیع علاقے میں وبا کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ سے لوگوں کو شدید خطرات سے دوچار کرکے رکھ دیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو نے 13 مارچ کو ایک ٹویٹ میں کہا، "حیاتیاتی حملے کے خلاف بہترین دفاع یہ ہوتا کہ ایرانی عوام کو وُوہان وائرس کے بارے میں اُس وقت بتایا جاتا جب# ایران میں چین کی وجہ سے یہ وبا پھیلی۔ اس کی بجائے، ماہان ایئر کی پروازیں چین میں (اس بیماری کے) مرکز تک جاتی آتی رہیں۔”

ماہان ایئر پر امریکی پابندیاں عائد ہیں۔ اس کو حکومت اپنی پاسدارانِ انقلاب اسلامی کی سپاہ کو دوسرے ملکوں میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ ریڈیو فردا کے مطابق 4 اور 23 فروری کے درمیان ماہان ایئر نے چین کے شہروں تک 55 پروازیں چلائیں جو کہ ایرانی حکومت کی چین کے لیے پروازوں پر اعلان کردہ اپنی ہی پابندیوں کی خلاف ورزیاں ہیں۔

روزنامہ وال سٹریٹ جرنل کی اطلاعات کے مطابق جزوی طور پر ہی سہی مگر ممکن ہے یہ پروازیں جاری رہی ہوں جس کا مقصد چین کے ساتھ تزویراتی شراکتداری کی حمایت کرنا ہے۔ اُن کی شراکتداری میں ایران میں کووِڈ-19 کی وبا کا شکار ہونے والے شہر، قُم کے کے قریب جوہری بجلی گھر اور ریلوے کے منصوبے شامل ہیں۔

ایک آدمی ایک عورت کے ہاتھوں پر کوئی مائع چیز چھڑک رہا ہے جب کہ دوسرا ایک اور عورت کا درجہ حرارت چیک کر رہا ہے۔ (© Vahid Salemi/AP Images)
تہران کے ایک شاپنگ مال میں 3 مارچ کو لوگوں کا درجہ حرارت چیک کیا جا رہا ہے اور اُن کے ہاتھوں کو جراثیموں سے پاک کیا جا رہا ہے۔ (© Vahid Salemi/AP Images)

لندن کے تھنک ٹینک، چیٹ ہیم ہاؤس کی صنم وکیل نے وال سٹریٹ جرنل کو بتایا، "آخری حربے کے طور پر (ایران کا) چین تجارتی شراکت کار بنا ہوا ہے۔ مگر اس صورت حال میں (چین بذات خود) ایک زہر آلود بم میں تبدیل ہو چکا ہے۔” جرنل کے مطابق ایرانی حکام نے کہا ہے کہ قُم میں کام کرنے والے چینیوں کا اس وبا کے پھیلاؤ کا ذریعہ بننے کا قوی امکان پایا جاتا ہے۔

ماہان ایئر کا چین کے لیے پروازیں جاری رکھنا حکومت کے اس بحران سے غلط انداز سے نمٹنے کا تازہ ترین ثبوت ہے۔ فروری میں ایرانی قانون سازوں نے کہا کہ ایران میں حکومت نے کووِڈ-19 کا سامنا کرنے کے لیے ابھی تک کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ یہ تنقید قانون سازوں کے قُم میں ہلاک ہونے والے 50 افراد کے ہلاکتوں پر اصرار کرنے کے بعد سامنے آئی۔ اس کے برعکس حکومت ملک بھر میں اس تعداد سے کم ہلاکتوں کا دعوی کرتی ہے۔

ایرانی حکومت کے مطابق 17 مارچ تک 16,000 سے زائد ایرانی اس وائرس سے متاثر ہوئے جن میں 988 افراد کی اموات ہوئیں۔ مگر ایران میڈیا کو حقیقی اعدادوشمار بتانے والے ایرانیوں کو دھمکیاں دے رہا ہے اور انہیں قید میں ڈال رہا ہے۔

دریں اثنا، خامنہ ای صحت عامہ کی اُس تباہی کو غلط انداز میں پیش کرنا اور اسے معمولی بات سمجھنا جاری رکھے ہوئے ہیں جو ملک کو برباد کر رہی ہے۔ ابھی حال ہی میں 12 مارچ کو خامنہ ای نے ایک ٹویٹ میں دعوی کیا کہ حیاتیاتی حملے کے "کچھ ثبوت” موجود ہیں اور کہا کہ ملک کا "حیاتیاتی دفاع” کیا جا رہا ہے۔