کووڈ۔19 کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکی نجی شعبے کی سرگرمیوں میں اضافہ

میز پر پڑی بوتلوں کے پاس ایک آدمی کھڑا ہے۔ (© Litchfield Distillery)
‘لچ فیلڈ ڈسٹلری’ کے شریک مالک ڈیوڈ بیکر بوتلوں میں ہینڈ سینی ٹائزر بھر رہے ہیں۔ (© Litchfield Distillery)

امریکہ میں نجی شعبہ کووڈ۔19 وائرس سے لاحق مسئلے کا دو بدو سامنا کر رہا ہے۔

ملک بھر میں مریضوں کی نگہداشت کرنے والے طبی عملے کو درکار تلف کیے جانے والے حفاظتی این 95 آلات تنفس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ جواباً ایک بڑا صنعتی ادارہ ‘ہنی ویل’ این 95 ماسک کی پیداوار میں اضافہ کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے اس نے ریاست رہوڈز آئی لینڈ کے علاقے سمتھ فیلڈ میں واقع اپنے کارخانے میں 500 نئے ملازمین بھرتی کیے ہیں۔ یہ کمپنی دنیا بھر میں اپنے بہت سے کارخانوں میں بھی پیداوار بڑھا رہی ہے۔

اسی دوران’ ایپل’ کے چیف ایگزیکٹو، ٹِم کُک نے اعلان کیا ہے کہ ان کی کمپنی امریکہ اور یورپ بھر میں طبی عملے کو لاکھوں این 95 ماسک عطیے کے طور پر دے گی تاکہ زیادہ فوری نوعیت کی ضروریات پوری ہو سکیں۔

ہینزبرینڈز ‘جیسی کپڑے بنانے والی کمپنیاں اپنی عام ملبوسات کی پیداوار روک رہی ہیں تاکہ لوگوں کے لیے خوراک و ادویات کے ادارے کے منظور کردہ کاٹن کے ماسک بنائے جا سکیں۔ عام لوگ یہ ماسک حفاظتی تدبیر کے طور پر پہنتے ہیں۔

ایک چھوٹا کاروباری ادارہ ‘اے ایس ٹی سپورٹس ویئر’ کیلی فورنیا کی اورنج کاؤنٹی میں مقامی ہسپتالوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اپنی پیداواری کاوشیں کاٹن کے ماسک کی تیاری کے لیے وقف کیے ہوئے ہے۔ ادارے کے سیلز مینجر نادر ذوالفقار نے مقامی ٹیلی ویژن کے نیوز پروگرام میں بتایا، ”ہم نے یہ ماسک بنانے کے لیے 30 مزید مشینوں کا آرڈر دیا ہے۔ ہمارے تمام کارکن یہاں موجود ہیں اور ہم کوشش کر رہے ہیں کہ کسی کو ملازمت سے نہ نکالا جائے۔” وہاں اب قریباً 500 ملازمین مختلف شفٹوں میں کام کرتے ہیں۔ یہ لوگ ایک دسرے سے 1.8 میٹر کے فاصلے پر رہ کر چہرے کے ماسک سیتے ہیں۔

ریاست منی سوٹا میں ایک چھوٹا کاروباری ادارہ ‘مائی پِلو’ تکیوں کی تیاری روک کر ملک بھر کے ہسپتالوں کے لیے کاٹن ماسک بنا رہا ہے اور اپنے 90 فیصد عملے کو اس کام کے لیے وقف کر رہا ہے۔

ہسپتالوں کی مزید مدد کے لیے بہت سی امریکی کمپنیاں اپنی فیکٹریوں میں وینٹی لیٹر بنانے کی رفتار تیز کر رہی ہیں۔ کاریں بنانے والی کمپنی’ ٹیسلا ‘کے چیف ایگزیکٹو، ایلن مسک طبی سازوسامان بنانے والے کارخانوں کی شراکت سے وینٹی لیٹر بنانے کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اسی دوران انہوں نے ملک بھر میں تقسیم کرنے کے لیے ایف ڈی اے کے منظور شدہ 1255 وینٹی لیٹر خریدے ہیں۔

باقاعدگی سے ہاتھ دھونے کے علاوہ ہاتھوں پر جراثیم کش سینی ٹائزر کا استعمال بھی کووڈ۔19 کا پھیلاؤ سست کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ شراب تیار کرنے والی بہت سی امریکی کمپنیوں نے مقامی سطح پر بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کے لیے سینی ٹائزر بنانا شروع کر دیے ہیں۔

شراب بنانے والی امریکی کمپنی ‘اینہائزر بوش’ میں 30000 سے زیادہ کارکن کام کرتے ہیں۔ اس کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکہ بھر میں ہینڈ سینی ٹائزر کی بوتلیں تیار اور تقسیم کرنے کا کام شروع کرے گی۔

بہت چھوٹے کاروباری ادارے بھی اس کوشش میں شامل ہو رہے ہیں۔ کنیٹی کٹ میں شراب تیار کرنے والی کمپنی ‘ لچ فیلڈ ڈسٹلری’ کے نمائندے کا کہنا ہے کہ 16 مارچ کے بعد انہوں نے اندازاً 1900 لٹر ہینڈ سینی ٹائزر تیار کیا ہے اور قریبی علاقے کے لوگوں کے لیے اسے 16000 بوتلوں میں بھرا ہے۔

اس کمپنی کے مالک جیک، پیٹر اور ڈیوڈ بیکر کا کہنا ہے کہ ”یہ ہمارے لیے طوفانی بھگولے جیسی صورتحال رہی ہے، مگر ہمیں خوشی ہے کہ اس وقت ہم لوگوں کے کام آ سکتے ہیں۔”

حفاظتی لباسوں میں ملبوس میز کے گرد کھڑے لوگ۔ (© Michael Conroy/AP Images)
23 مارچ کو انڈیاناپولس میں ایلائی للی کے ملازمین لوگوں کے گاڑیوں میں بیٹھے بیٹھے کووڈ-19 کے ٹیسٹ کرنے کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔ (© Michael Conroy/AP Images)

اب جبکہ امریکی سائنس دان کووڈ۔19 کے تیزتر اور مزید موثر ٹیسٹ ممکن بنانے کا کام کر رہے ہیں تو ایسے میں نجی امریکی کمپنیاں زیادہ سے زیادہ تعداد میں شہریوں تک محفوظ رسائی کے لیے امریکی حکومت سے رابطے میں ہیں۔ ادویات ساز کمپنی ‘ایلائی للی’ انڈیاناپولس کے علاقے میں طبی عملے کے لیے گاڑیوں میں ہی ٹیسٹ کی سہولت مہیا کر رہی ہے۔ یہ وہ عملہ ہے جسے وائرس لاحق ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ اسی طرح پرچون فروشن سٹور ‘وال مارٹ’ نے شکاگو کے علاقے میں اپنے سٹوروں کی پارکنگز میں دو مقامات مخصوص کیے ہیں جہاں کورونا کے مریضوں کی مدد کے لیے سب سے پہلے پہنچنے والوں اور طبی عملے کا معائنہ کیا جائے گا۔ ‘سی وی ایس ہیلتھ کارپوریشن’ نے میساچوسیٹس کے علاقے شریو بری میں یہی کچھ کیا ہے۔

امریکہ میں ٹیکنالوجی کا شعبہ سماجی فاصلہ رکھنے اور فاصلاتی تعلیم کی ضرورت پوری کرتے ہوئے اس وبا کے مقابلے میں مدد دے رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے زیادہ سے زیادہ سکول آن لائن کورس پڑھا رہے ہیں۔ ڈاکٹروں کے غیرضروری چکر لگانے سے بچنے کے لیے ‘مائیکروسافٹ’ بیماری پر قابو پانے اور روک تھام کے مراکز کو مرض کی علامات جانچنے والا پروگرام بنا کر دے رہا ہے۔ مریض اس پروگرام میں اپنے مرض کی علامات درج کرتے ہیں جو یہ تعین کرتا ہے کہ آیا یہ علامات کووڈ۔19 سے ملتی جلتی ہیں، اور کیا انہیں علاج معالجے کی ضرورت ہے یا نہیں۔

‘گُوگل’ نے بچوں کو گھر بیٹھے تعلیم دینے کے سلسلے میں والدین اور اساتذہ کی مدد کے لیے ‘ٹیچ فرام ہوم’ (گھر سے پڑہائیے) نامی پروگرام شروع کیا ہے۔ یہ کمپیوٹر پرحصول تعلیم کے ذرائع پر مشتمل ایک مرکزی پروگرام ہے جو اساتذہ کو سکول بند ہونے کے دورانیے میں تدریس جاری رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ گُوگل کے چیف ایگزیکٹو، سُندر پچائی نے یہ پروگرام شروع کرنے کا اعلان ٹویٹر پر کیا۔ انٹرنیٹ مہیا کرنے والی کمپنی ‘کام کاسٹ’ آئندہ 60 دنوں کے لیے ملک بھر میں اپنا ایکس فنتی نامی وائی فائی نیٹ ورک بلا معاوضہ کھول رہی ہے۔

شپنگ اور سٹوریج کی خدمات مہیا کرنے والی کمپنی ‘یوہال’ نے جلدی میں یونیورسٹی کیمپس چھوڑنے پر مجبور ہونے والے طلبہ کے لیے اپنے گوداموں میں 30 دن تک بلامعاوضہ سامان رکھنے کی پیشکش کی ہے۔

22 مارچ کو صدر ٹرمپ نے کہا، ”نجی شعبے کی جانب سے خدمات پیش کرنے کا عمل بھی غیرمعمولی رہا۔ ہم ایک بڑے قومی امتحان سے گزر رہے ہیں اور ثابت کریں گے کہ ہم اس مشکل پر قابو پا سکتے ہیں۔”