کووڈ-19 کی اگلی صفوں میں کام کرنے والے چھ طبی کارکنوں سے ملیے [ویڈیو]

درین نے یو ایس ایڈ کے سکالرشپ کے ذریعے قاہرہ میں نرسنگ کی تعلیم حاصل کی۔ عالمی وبا کووڈ-19 کے دوران دنیا کے بہت سے خطوں میں طبی کارکنوں کی کمی کی وجہ سے پیدا ہونے والے مصائب کو دیکھ  کر، درین کو اُس قدروقیمت کا احساس کرنے میں مدد ملتی ہے  جس کا وہ ایک طبی پیشہ ور فرد کی حیثیت سے معاشرے میں اضافہ کرتی ہیں۔

طبی کارکنوں کو تربیت فراہم کرکے اور ہسپتالوں کو وسائل مہیا کرکے، یو ایس ایڈ کی عالمی سطح پر صحت کی سرمایہ کاریوں نے دنیا کو مضبوط پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔ یہ ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب متعدی بیماریوں کے خطرات سامنے آ رہے ہیں جس کی ایک مثال کورونا وائرس ہے جس کا ہم مقابلہ کر رہے ہیں۔

امریکی حکومت کووڈ-19 کے خلاف جنگ میں اپنے شراکت دار ممالک کو عطیہ دینے والی سب سے زیادہ فراخ دل حکومت کی حیثیت سے دنیا میں سب سے آگے ہے۔

درین اور دنیا کے مختلف ممالک کے اُن پانچ  طبی کارکنوں کے بارے میں پڑھیے جنہوں نے یو ایس ایڈ سے مدد حاصل کی اور اب کووڈ-19 کا مقابلہ کرنے کے لیے اگلی صفوں میں کھڑے ہیں۔

بھارت میں کمیونٹی ہیلتھ آفیسر

رنیتا میبم منی پور، بھارت میں کمیونٹی ہیلتھ آفیسر ہیں۔ اُن کا شمار ملک بھر کے اُن ہزاروں طبی کارکنوں میں ہوتا ہے جو کوروناوائرس کی وبا پر قابو پانے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔

یو ایس ایڈ کی طرف سے دی جانے والی ورچوئل تربیت سے انہوں نے اپنی کمیونٹی کی کووڈ-19 کا مقابلہ کرنے میں مدد کرنا سیکھا۔ اب وہ ہاتھ  دھونے کے طریقے کا عملی مظاہرہ کرکے، یہ وضاحت کر کے کووڈ-19 وبا کس طرح پھیلتی ہے، اور صابن اور کپڑے کے ماسک تقسیم کرکے معاشرے میں آگاہی پھیلا ریی ہیں۔

انہوں نے کہا، “مجھے ایک نرس، ایک لیڈر، سرپرست، شراکت کار، آگہی دینے والی، (اور) جدت طراز ہونے پر فخر ہے۔”

مارچ سے لے کر اب تک یو ایس ایڈ کا ادارہ کووڈ-19 کی روک تھام اور اس سے نمٹنے کے لیے بھارت کی 12 ریاستوں میں لگ بھگ 40,000 طبی کارکنوں  کو تربیت دے چکا ہے۔ اِن ریاستوں میں یو ایس ایڈ اپنے  پروگراموں کو عملی جامہ پہناتا ہے جس سے بھارت میں 25 لاکھ افراد کو براہ راست فائدہ پہنچ رہا ہے۔

کولمبیا میں نرس

جینی ایسپیرانزا پینا گوریرو کولمبیا کے شہر ککوتا کے “ایراسمو می اوز یونیورسٹی ہسپتال” میں نرس ہیں۔

وینیزویلا کی سرحد پر واقع ککوتا کووڈ-19 کے مریضوں کے علاج میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ اس ہسپتال میں مریضوں کی بڑی تعداد کے علاج کے لیے یو ایس ایڈ نے خیموں کا عطیہ دیا جس سے ہسپتال کی توسیع ممکن ہو سکی۔

جینی نے کہا، ” یو ایس ایڈ کی مدد سے تیار ہونے والے اداروں میں، میرے خیال میں ہمارا پہلا ادارہ  تھا۔”

یو ایس ایڈ وینیزویلا کی سرحد کے ساتھ لوگوں کی صحت میں بہتری لانے کی کولمبیا کی کوششوں میں ہاتھ بٹا رہا ہے۔

افغانستان میں وباء پر نظر رکھنے والا افسر

ڈاکٹر حزب اللہ جلیل افغانستان کی صحت عامہ کی وزارت کی کووڈ-19 کے کابل میں مشکوک مریضوں کی تشخیص کرنے والی ٹیم کے سربراہ ہیں۔  انہوں نے کہا، “اس مشکل وقت میں اپنے لوگوں کی خدمت کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ جب تک کووڈ-19 کا آخری مریض صحت یاب نہیں ہوجاتا تب تک میں سخت محنت کرتا رہوں گا۔”

2019 میں، وہ ان چھ افغان ڈاکٹروں میں شامل تھے جنہیں یو ایس ایڈ کے “امراض سے متعلق ابتدائی انتباہی نظام” کے منصوبے کے تحت متعدی بیماریوں سے متعلق تربیت کے لیے بھارت بھیجا گیا۔ یہ سب ڈاکٹر آج کل صحت عامہ کی وزارت میں کووڈ-19 سے نمٹنے کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر جلیل کہتے ہیں، “میری تعلیم اور یو ایس ایڈ کے سکالرشپ پروگرام کے تحت تربیت نے مجھے اس وقت کے لیے تیار کیا۔”

اپریل میں جب وہ ہر روز کووڈ-19 کے 80 مریضوں کو دیکھ رہے تھے تو اُن کے اپنے کووڈ-19 کے ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آیا۔ وہ کہتے ہیں، “خوش قسمتی سے قرنطینہ میں تین ہفتے گزارنے کے [بعد]، اس مہلک بیماری کا مقابلہ کرنے اور اپنے لوگوں کی مدد کرنے کی خاطدر میں دوبارہ میدان میں آ گیا ہوں۔”

اسرائیل میں سرجن اور جدت طراز

ڈاکٹر یواو منٹز اسرائیل میں “یروشلم ہداسا عین کارم میڈیکل سنٹر” میں سرجن ہیں۔ یو ایس ایڈ کے تعاون سے ان کی ٹیم نے کووڈ-19 کے مریضوں کو بچانے کے لیے اوپن سورس (جسے بنانے کے لیے موجد کی اجازت کی ضرورت نہیں) وینٹی لیٹر تیار کیا ہے۔

ڈاکٹر منٹز کہتے ہیں، “ہم نے سانس لینے کی ایک اوپن سورس مشین تیار کی ہے جس کے پیچھے سستے پرزوں کی سوچ کار فرما ہے اور بحرانوں کے دوران ہمہ وقت دستیاب ہوتی ہے۔

اس کے نتیجے میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی طبی ٹیمیں اپنے وینٹی لیٹر خود بنا سکتی ہیں اور اس کے لیے اوپن سورس کوڈ ڈاؤن لوڈ اور استعمال کر سکتی ہیں۔ یو ایس ایڈ کی مدد کے بغیر یہ تحقیق اور پیش رفت ممکن نہ ہوتی۔

جارجیا کی وزارت صحت کی اول نائب وزیر

ڈاکٹر تمار گبونیا جارجیا میں وزارت صحت کی عہدیدار ہیں۔ وہ جارجیا میں کووڈ-19 سے نمٹنے کے لیے صحت کی دیکھ بھال کرنے والے طبی عملے کے ساتھ کام کرتی ہیں۔ وہ گزشتہ 15 برسوں میں ملک کے صحت کے نظام اور صحت عامہ کی نگرانی کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کا سہرا یو ایس ایڈ کے تعاون کے سر باندھتی ہیں۔

انہوں نے بتایا، “اب، ہمارا انحصار صحت کی دیکھ بھال کرنے والے اُن کارکنوں پر ہے جنہوں نے یو ایس ایڈ کے تعاون سے ترتیب دیئے گئے پروگراموں کے تحت بہت سی مفید اور اعلی معیار کی تربیتیں حاصل کیں۔”

اس سے پہلے ڈاکٹر گبونیا، کمبوڈیا، فلپائن، ویت نام اور یوکرین سمیت جارجیا اور دیگر ممالک میں آٹھ سال کام کر چکی ہیں۔ انہوں نے کہا، “مجھے خوشی ہے کہ میں اس تجربے کو اپنے ملک میں استعمال کر سکتی ہوں۔”

انہوں نے بتایا، “یو ایس ایڈ کا تجربہ مجھے یہ سمجھنے میں مددگار ثابت ہوا ہے کہ لوگوں کو ضروری مہارتیں اور قابلیتیں فراہم کرنا کتنا اہم ہے۔ اِس طرح وہ اپنی دیکھ بھال خود کر سکتے ہیں اور اس کا نتیجہ مضبوط کمیونٹیوں کی شکل میں سامنے آتا ہے۔”

مصر میں نرس

درین قاہرہ کی “نیل بدراوی ہسپتال” میں نرس ہیں۔ انہوں نے یو ایس ایڈ کے سکالرشپ سے نرسنگ کی تعلیم حاصل کی جس میں مشکل صورت حالات سے نمٹنے کے بارے میں ورکشاپیں بھی شامل تھیں۔

آج کل وہ ہسپتال میں کووڈ-19 سے نمٹنے والوں کی صف اول میں شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا، “میں کووڈ-19 سے نمٹنے کے لیے جو کچھ کر رہی ہوں اُس میں مشکوک مریضوں کی مدد کرنا، اُن کی تشخیص میں مدد کرنا، اور اُن کو الگ تھلگ رکھنے میں مدد کرنا شامل ہے۔”

درین کے سکالرشپ نے انہیں مریضوں کی دیکھ بھال کرنے اور بحرانوں کے دوران بلند حوصلگی کے لیے تیار کیا۔

انہوں نے کہا، “اس طرح کے حالات میں کسی شخص پر اتنا زیادہ کھچاؤ اور دباؤ  پڑ سکتا ہے جو اُس کی برداشت سے باہر ہو سکتا ہے۔ میں نے اپنے سکالرشپ کے ذریعے قیادت کی تربیتی کلاسوں میں دھیان اور اپنی زندگی میں حاصل نعمتوں کی شکرگزاری جیسے اسباق سیکھے۔ اس سے مجھے دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے اور اپنی ذہنی صحت پر نظر رکھنے میں مدد ملی جس سے مجھ میں اپنے مریضوں کی دیکھ بھال جاری رکھنے کی صلاحیت پیدا ہوئی۔

یو ایس ایڈ کا یہ مضمون ایک مختلف شکل میں میڈیم میں شائع ہو چکا ہے۔